آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ3؍ جمادی الثانی 1441ھ 29؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عوام میں بد عنوانی کے تدارک سے متعلق آگہی و شعور پیدا کرنے کے لیے ہر سال 9دسمبر کو’’ بدعنوانی کے انسداد کا عالمی یوم‘‘ منایا جاتا ہے۔ 31اکتوبر 2003ء کو اقوامِ متحدہ کے کرپشن کے خلاف معاہدے کے بعد سے ہر سال یہ دن منایا جا رہا ہے۔ انسدادِ بدعنوانی کے عالمی یوم کی مناسبت سےقومی احتساب بیورو کی کارکردگی سے متعلق خصوصی تحریر پیشِ خدمت ہے۔

مہذّب معاشروں میں سزا و جزا کا ایک مستند نظام رائج ہے، جس کے تحت معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔ اس اَمر میں کوئی دو رائے نہیں کہ احتساب کا نظام شفّاف اور غیر جانب دارانہ ہونا چاہیے اور اس پر کسی کو بِلا وجہ اعتراض اور تنقید بھی نہیں کرنی چاہیے۔ چوں کہ متمدّن معاشروں میں بدعنوانی ہی کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا جاتا ہے، چناں چہ احتساب کے ذریعے شفّافیت برقرار رکھی جاتی ہے۔ اختیارات کے ناجائز استعمال،اقرباپروری اور رشوت ستانی سمیت کرپشن کی مختلف صُورتوں کے باعث ہی آج پاکستانی قوم افراطِ زر، بے روزگاری، جہالت اور صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی جیسے مسائل میں گِھری ہوئی ہے۔ تاہم، دِل چسپ اَمر یہ ہے کہ پاکستانی عوام کرپشن پر منہگائی اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کو فوقیت دیتے ہیں، جب کہ پاکستان تحریکِ انصاف کرپشن کے خاتمے کے ایجنڈے کے ساتھ برسرِ اقتدار آئی۔ 

دوسری جانب تمام تر اختلافات، تنقید ، سیاسی مقاصد کے لیے استعمال اور جانب داری کے الزامات کے باوجود نیب یا قومی احتساب بیورو کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ اس کی بہ دولت ہی بد عنوانی کے مجرم کیفرِ کردار تک پہنچتے ہیں۔ نیز، اس وقت احتساب، پاکستان کی ضرورت ہے اور پوری قوم کی امیدیں نیب سے وابستہ ہیں۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی بہ طور چیئرمین نیب تعیناتی کے بعد یہ ادارہ انتہائی فعال و متحرک ہو چکا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت کرپشن کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے قائدین تک جیلوں میں قید ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی بدعنوان حکومتی شخصیات کے گرد بھی احتساب کا گھیرا تنگ کر دیا جائے گا۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین، جسٹس (ر) جاوید اقبال مُلک سے بد عنوانی جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لیے پُر عزم ہیں۔ پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ اور میگا کرپشن کے مقدّمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اُن کا نصب العین ہے۔ حالیہ عرصے میں نیب کی کرپشن کی بیخ کَنی اور بد عنوان عناصر سے لُوٹی ہوئی رقم بازیاب کروانے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے ۔ نیز، اصلاحات کے ساتھ آگہی، تدارک اور قانون پر عمل درآمد کی سہ جہتی حکمتِ عملی کے بھی شان دار نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، پلڈاٹ، مشال اور عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر عالمی و بین الاقوامی اداروں نے بھی نیب کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ 

گیلپ اینڈ گیلانی سروے کے مطابق، بدعنوانی کے خلاف بِلا امتیاز اقدامات کے باعث 59فی صد شہری نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے انسدادِ بدعنوانی کی کوششوں میں تیزی لاتے ہوئے کرپشن سے متعلق شکایات کے اندراج کی غرض سے عام شہریوں کے لیے اپنے ہیڈ کوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز کے دروازے کھول دیے ہیں اور اب کوئی بھی فرد اپنی شکایت خود نیب کے دفتر میں جمع کروا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، چیئرمین نیب ہر مہینے کی آخری جمعرات کو نہ صرف شہریوں کی شکایات خود سُنتے ہیں، بلکہ انہوں نے اس دوران تقریباً 3ہزار شکایات نمٹائی بھی ہیں، جن کے نتیجے میں ادارے پر سائلین کا اعتماد بڑھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رواں برس نیب کو گزشتہ برس کے مقابلے میں دُگنی یعنی 44,315شکایات موصول ہوئیں۔ 

ادارے کی موجودہ قیادت کے دَور میں635ملزمان کو گرفتا ر کیا گیا، جب کہ متعلقہ احتساب عدالتوں میں 610ریفرنسز دائر کیے گئے۔ نیز، اسی عرصے میں بد عنوان عناصر سے 71ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے۔ یاد رہے کہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 342ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں اور احتساب عدالتوں میں سزا کی مجموعی شرح 70فی صد رہی، جب کہ ادارے کی جانب سے وصول کی گئی رقوم ہزاروں متاثرین، متعلقہ سرکاری اداروں اور دیگر کو لوٹائی گئیں۔

چیئرمین نیب کے مطابق، قومی احتساب بیورو کسی پولیٹیکل انجینئرنگ پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی اس کی حوالات عقوبت خانے ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے نیب کے خلاف ایک جارحانہ مُہم چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد اس کی ساکھ متاثر کرنا ہے۔ ملزمان کے ساتھ نازیبا رویّے کا تاثر زائل کرنے کے لیے گزشتہ دنوں نیب نےصحافیوں کو نیب حوالات کا دورہ بھی کروایا۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرِ صدارت ایگزیکٹیو بورڈ کے تقریباً 50اجلاس ہو چکے ہیں، جن میں مختلف شکایات کی جانچ پڑتال کے علاوہ انکوائریز، انویسٹی گیشنز اور احتساب عدالتوں میں ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ 

موجودہ انتظامیہ نے ہیڈکوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی میں مزید بہتری کے لیے ایک جامع و معیاری نظام وضع کیا ہے۔ اس نظام کے تحت سالانہ اور وسط مدّتی بنیادوں پر نیب ہیڈ کوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں علاقائی بیوروز کی کارکردگی میں مزید بہتری آ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں قومی احتساب بیورو نے سارک ممالک کے درمیان رابطوں کے لیے اسلام آباد میں سارک سیمینار منعقد کیا، جس میں بھارت سمیت سارک کے تمام رُکن ممالک نے شرکت کی اور اس موقعے پر نیب کی انسدادِ بدعنوانی کی حکمتِ عملی کی تعریف کی۔ یاد رہے کہ انسدادِ بد عنوانی کی مؤثر حکمتِ عملی کے باعث پاکستان سارک ممالک کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

نیز، نیب سارک ممالک کے اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین بھی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ ادارے نے اپنے ہیڈ کوارٹرز اور علاقائی بیوروز میں جدید مانیٹرنگ اینڈ ایوالیوایشن سسٹم متعارف کروایا ہے، جس سے آپریشنل مانیٹرنگ اور استعدادِ کار کے جائزے اور اسے مزید بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد شکایات کے اندراج و جانچ پڑتال، انکوائریز، انویسٹی گیشنز، پراسیکیوشن اور علاقائی بورڈ اور ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاسوں سمیت مقدّمات سے متعلق تفصیلات اور فیصلوں کا ہر مرحلے پر ڈیٹا محفوظ رکھنا ہے۔ یہ نظام معیار اور مقدار کی مناسبت سے مواد کے تجزیے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔

اس وقت مُلک بَھر کی مختلف احتساب عدالتوں میں کرپشن کے 1,210 ریفرنسز زیرِ سماعت ہیں اور لُوٹی گئی رقم کی مجموعی مالیت تقریباً 900ارب روپے بنتی ہے۔ نیب نے دو طرفہ تعاون کے تحت چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دست خط کیے ہیں، جس کا مقصد چین کے ساتھ انسدادِ بدعنوانی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ پاکستان میں شروع ہونے والے سی پیک منصوبوں کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان انسدادِ بدعنوانی کے شعبے میں تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔ ادارے نے راول پنڈی میں جدید فارنزک لیبارٹری قائم کی ہے، جس میں ڈیجیٹل فارنزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹس کے تجزیے کی سہولت موجود ہے۔ چیئرمین نیب کی ہدایات کی روشنی میں مقدّمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری، انویسٹی گیشن اور متعلقہ احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 10ماہ کا وقت مقرّر کیا گیا ہے۔ 

البتہ بعض مقدّمات میں کئی ماہ گزر جانے کے باوجود بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوتی، جس پر اپوزیشن یہ شکایت کرتی ہے کہ حزبِ اختلاف کے رہنمائوں کے مقابلے میں حکومتی رہنمائوں کے مقدّمات کی کارروائی سُست روی کا شکار ہے۔ البتہ نیب نے اپنے سینئر افسران کی اجتماعی دانش اور تجربات سے مستفیدہونے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے، جس کی وجہ سے کوئی بھی فرد تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ چیئرمین نیب، جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ آج بد عنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز بن چکا ہے۔ ادارہ ہر فرد کی عزّتِ نفس پر یقین رکھتا ہے، جس کی پہلی اور آخری وابستگی صرف ریاستِ پاکستان سے ہے اور اجتماعی کوششوں ہی سے تمام شعبہ ٔہائے زندگی میں بد عنوانی کا خاتمہ ممکن ہے۔

خیبر پختون خوا میں نیب کی ساکھ پر سولات اُٹھنے لگے…؟؟

مُلک کے دیگر حصّوں میں قومی احتساب بیورو غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، جب کہ خیبر پختون خوا میں خوابِ خرگوش کے مزے لےرہا ہے۔ میگا کرپشن اسکینڈلز میں عدم دل چسپی کی وجہ سے نیب، خیبرپختون خوا اپنی ساکھ کھو رہا ہے اور صوبے میں اس کی کارکردگی پر سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ نیز، اس کے اس رویّے پر عدلیہ اور اپوزیشن جماعتیں بھی خاصی معترض ہیں۔ ہر چند کہ پشاور ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان کم و بیش روزانہ ہی نیب، خیبر پختون خوا کی کارکردگی پر عدم اطمینان اور برہمی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کارکردگی میں وقت گزرنے کے ساتھ کمی ہی واقع ہو رہی ہے۔ 

نیب، خیبر پختون خوا میں 10ماہ کے دوران تیسرا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے، لیکن پھر بھی ادارہ فعال نہیں ہو سکا۔ یاد رہے کہ رواں برس 28فروری کو فرمان اللہ کی جگہ مجاہد اکبر بلوچ کو ڈی جی تعینات کیا گیا تھا، لیکن پھر 4ماہ بعد ہی 18جون 2019ء کو مجاہد اکبر بلوچ کی جگہ فیاض احمد قریشی کو ڈائریکٹر جنرل مقرّر کر دیا گیا۔ یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ فرمان اللہ میگا کرپشن کیسز پر تیزی سے کام کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں ڈائریکٹر جنرل کے عُہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 

گزشتہ دنوں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ایک مقدّمے کی سماعت کے دوران صوبے میں نیب کی کارکردگی پر سوالات اُٹھائے۔ اس موقعے پر معزز جج کا کہنا تھا کہ ’’یوں محسوس ہوتا ہے کہ صوبے میں نیب نام کا کوئی ادارہ ہی موجود نہیں۔ چند برس پہلے تک خیبر پختون خوا میں یہ ادارہ کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خلاف کافی سرگرم تھا، لیکن بدقسمتی سے آج کل خیبر پختون خوا میں نظر ہی نہیں آ رہا۔‘‘ 

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے ان ریمارکس پر قومی احتساب بیورو کے چیئرمین، جسٹس (ر) جاوید اقبال کو خیبر پختون خوا کا دورہ کرنا پڑا۔ اس موقعے پر انہوں نے ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور ڈی جی سمیت تمام متعلقہ افسران کو سارے مقدّمات پر تیز رفتاری کے ساتھ کام کرنے کے احکامات جاری کیے۔ تاہم، اس کے باوجود ادارہ صوبے میں فعال نہیں ہوا، جو لمحۂ فکر ہے۔ نیب ،خیبر پختون خوا نےمالم جبّہ، ہیلی کاپٹر، بلین ٹری سونامی، احتساب کمیشن، بینک آف خیبر اور بی آر ٹی جیسے مقدّمات میں انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، جب کہ معمول کے مقدّمات میں بھی اس کی عدم دل چسپی نمایاں ہے،جس کی وجہ سے اپوزیشن جماعتیں بھی اس کی عدم فعالیت پر اعتراضات اُٹھا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ مالم جبہّ اسکینڈل 7جنوری 2018ء کو منظرِ عام پر آیا اور چیئرمین نیب نے اسے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مثالی کیس قرار دیتے ہوئے 9جنوری کو انکوائری کے احکامات جاری کیے۔ مقدّمے کی انکوائری کے دوران موجودہ وزیرِ دفاع، پرویز خٹک، وزیرِ اعلیٰ، محمود خان، صوبائی وزیرِ کھیل و ثقافت، عاطف خان اور وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری، اعظم خان سمیت کئی شخصیات نے نیب کے سامنے پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ نیب ،خیبر پختون خوا کے ذرایع کا دعویٰ ہے کہ مالم جبہّ اسکینڈل کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں اور ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایگزیکٹیو بورڈ سے باقاعدہ منظوری کے لیے اسے نیب ہیڈ کوارٹرز بھجوایا گیا ہے، لیکن یہ معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے التوا کا شکار ہے، حالاں کہ ادارہ اپنی تفتیش میں اس کیس کو ’’میگا فراڈ‘‘ قرار دے چکا ہے۔ 2فروری 2018ء کو خیبر پختون خوا حکومت کے ہیلی کاپٹر کے غیر قانونی استعمال کا اسکینڈل سامنے آیا۔ اس مقدّمے میں عمران خان پر خیبر پختون خوا حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا الزام عاید کیا گیا، جب کہ وہ اسے اپنے زیرِ تصرّف لانے کے حق دار نہیں تھے۔ 

مذکورہ مقدمّے میں 7اگست 2018ء کو وزیرِ اعظم، عمران خان کو طلب کر کے ایک سوال نامہ دیا گیا، لیکن پھر یہ مقدّمہ سرد خانے کی نذر ہو گیا اور اب تک عملاً کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ذرایع کے مطابق، عمران خان نے اس سوال نامے کے جوابات جمع کروائے اور نہ ہی نیب نے دوبارہ انہیں طلب کیا۔ خیبر پختون خوا میں مالی بے قاعدگی کا ایک اور اہم اسکینڈل، بلین ٹری سونامی منظرِ عام پر آیا، تو چیئرمین نیب نے 5اپریل 2018ء کو کارروائی کا حکم دیا۔ تاہم، ابھی تک اس کیس کو بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا۔ یاد رہے کہ بلین ٹری سونامی منصوبے میں مبیّنہ طور پر کرپشن میں ملوّث 350افراد کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی جاری ہے۔ نیب کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقدّمے کے حوالے سے مختلف کمیٹیز تشکیل دی گئی ہیں، جو تحقیقات کر رہی ہیں اور اس دوران بعض بے قاعدگیاں ثابت بھی ہو چکی ہیں۔ 

علاوہ ازیں، خیبر پختون خوا احتساب کمیشن میں بے ضابطگیوں اور غیر قانونی تقرریوں کا معاملہ ذرایع ابلاغ کی زینت بنا، تو مارچ 2018ء میں یہ مقدّمہ بھی نیب خیبر پختون خوا کے سُپرد کردیاگیا، لیکن اس کیس میں بھی تا حال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اپنا ہی قائم کردہ احتساب کمیشن ختم کر چکی ہے۔ بینک آف خیبر میں 1400غیر قانونی تقرریوں کا مقدّمہ اسی احتساب کمیشن کے پاس تھا، جسے اس نے تقریباً ایک برس قبل نیب کے حوالے کیا۔اس مقدّمے میں بینک آف خیبر نے پشاور ہائی کورٹ سے حکمِ امتناع لے رکھا تھا، لیکن فروری 2019ء میں اسٹے آرڈر خارج ہونے پر نیب اس بات سے لا علم رہا۔ البتہ ذرایع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آنے پر ادارے نے ایک بار پھر تحقیقات شروع کر دیں اور بینک کے 20موجودہ اور سابق افسران کو طلب کیا گیا۔ اسی طرح ایک اور کرپشن اسکینڈل، بی آر ٹی میں بھی تا حال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اس مقدّمے میں سپریم کورٹ نے حکمِ امتناع دیا ہے، لیکن نیب ،خیبر پختون خوا نے اس اِسٹے آرڈرکو ختم کروانے کے لیے کبھی کوئی سرگرمی نہیں دکھائی۔

سنڈے میگزین سے مزید