آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’دلیل کوٹ‘ گولائی میں بنا قلعہ، تعمیراتی فن کا منفرد شاہکار

نواب شاہ سے سکرنڈکی طرف جاتے ہوئے دائیں ہاتھ پر ایک عظیم الشان قلعہ سر اٹھائے نظر آتاہے جوکہ عظمت رفتہ کی تصویر بنا سیاحوں کی دلچپسی کا سامان اپنے اندر پنہاںرکھے ہوئے ہے۔یہ قدیم تعمیراتی فن کا عجیب و غریب شاہکار ہے جسےاس دور کے کاریگروں نے گولائی میں تعمیر کیا ہے۔دلیل کوٹ اور دلیل قلعہ کے نام سے معروف اس قلعہ کی تاریخ صدیوں قدیم ہے۔ اس کے بارے میں سندھ کی تاریخی کتب میں اس قلعے کے حوالے سے مختلف واقعات منسوب ہیں۔ تاہم سوانو ایکڑ رقبہ پر چکنی مٹی سے تعمیر کیا گیا یہ قلعہ حوادث زمانہ کے باوجود آج بھی قائم و دائم ہے۔

اس قلعے کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اسے گولائی میں اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ اس کا کوئی حصہ چوکورنظر نہیںآتا بلکہ اس کو بنانے والے کاریگروں نے اسے ایک نئی شکل مں ڈھالا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میںسائنسی ترقی اور اِس دور کی طرح جدید تعمیری مشینری نہ ہونے کے باوجودجس طرح پرکار سے گول دائرہ بنایا جاتا ہے اسی طرح اس قلعہ کو گول گیند کی طرح بنایا گیا ہے۔بعض مورخین کے مطابق پاکستان کی ہی نہیں بلکہ ہندوستان تک میں اس طرح کے کسی قلعہ کا وجود نہیں ہے جو مکمل طور سے گولائی میں بنایا گیا ہو۔ البتہ ہندوستان کے شہر بیجاپور میں ایک قلعہ ہے جس کا صرف شمالی حصہ گول ہے۔

دلیل قلعہ کی دیوار کی لمبائی زمین سے بیس فٹ بلندہے جبکہ قلعہ کی کچی دیواروں کو سہارا دینے کے لئے قلعہ کی بنیاد سےچار فٹ اوپر تک دیوار بنائی گئی ہے تاکہ موسم کے سردوگرم اور تیز آندھیاں اور طوفان اس قلعہ کی دیواروں کو منہدم نہ کردیں ۔قلعہ کی دیوار کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اس میں لکڑی کے تختوں کی بھی چنائی کی گئی ہے۔ اس قلعے کے چاروں اطراف خوبصورت انداز میں برجیاں تعمیر کرکےاسے مزید دلکش بنادیا گیا ہے۔عمارت کے اندرتہہ خانے واقع ہیں جن کا راستہ اینٹیںلگا کر بند کردیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خطرے کے وقت قلعہ موجود خواتین، بچوں اور بزرگوں کو تہہ خانے میں منتقل کردیا جاتا تھا۔

برسوں قبل اس قلعے کی سیر کے لیے آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ تہہ خانے اپنی مثال آپ تھے اور ان کی چھتیں اتنی مضبوط تھیں کہ ان کے اوپر چلنے والوں کی آوازیں تہہ خانے کے اندر موجود لوگوں کو نہیں سنائی دیتی تھیں ۔ تاریخی روایات کے مطابق ماضی میں دریائے سندھ کے قلعہ ک فصیل کے ساتھ بہتا تھالیکن زمینی تبدیلیوں کے بعدیہ رخ تبدیل کرکے سکرنڈ کے قریب مڈ کے مقام پر بہہ رہا ہے ۔ 

اس بارےمیں محکمہ آب پاشی کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اس علاقہ میں پانی کا قدرتی بہائو اب بھی دلیل کوٹ کے ساتھ موجود ہے اور کئی مرتبہ روہڑی کینال میں شگاف پڑنے کے وقت سیلابی پانی دلیل قلعہ کےساتھ شمال سے جنوب کی طرف جاتا ہے۔دلیل قلعہ کی خوبصورتی اور دیگر قلعوں سے اس کی انفرادیت ایک یہ بھی ہے کہ اس قلعہ کی برجیوں کو کنول کے پھول کی نقوش سے مزین کیا گیا ہے اور چونکہ ہندودھرم میں کنول کے پھول کو روحانی تقدس کا درجہ حاصل ہے اس لئے دلیل قلعہ کی برجیوں پر بھی اس پھول کی مانند برجیاں بنائی گئی ہیں۔

مختلف روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ اس دور کے حکمراں نے اپنے عقیدے کی بنیاد پر اس کی تعمیر میں کنول کے پھول کی شبیہوں سے مزین برجیاںاس لئے بھی بنوائیں کہ اشیاد اس کا عقیدہ رہا ہو کہ اس قلعہ میں رہنے والےاس کی برکتوں سے محفوظ و مامون رہیں گے اور کوئی انہیں یہاں سے بے دخل نہ کر سکے گا ۔تاہم ان کا یہ عقیدہ اس وقت باطل ہوگیا جب محمد بن قاسم نے سندھ کا رخ کیا ۔ 

تاریخ میںرقم ہے کہ دلیل قلعہ میں اس وقت تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ فوج کی چھائونی بھی تھی جس میں سولہ سوسپاہی سکونت پذیر تھے۔دلیل قلعہ پر محمد بن قاسم کے حملے کی خبر سن کر تاجروں اور ان کے اہل خانہ نے دریا کے راستے راہ فرار اختیار کی اور قلعہ بند فوج نے محمد بن قاسم کی فوج سے شکست کھائی۔

دلیل قلعہ کو اب دلیل دیرو کہا جاتا ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد اس کے سامنے کراچی سے پنچاب ۔بلوچستان اور خیبر پختونخواہ جاتے ہوئے گزرتے اور دلیل قلعہ کی پر شکوہ عمارت کو دیکھتے ہیں۔ محکمہ قدیم آثار، ٹورزم ڈیولپمنٹ اور وزارت ثقافت کی عدم توجہی کی وجہ سے قدیم آثار، پرشکوہ قلعہ اور عمارت یںصہ پارینہ بنتی جارہی ہیں۔ 

 یہی وجہ ہے کہ سکرنڈ کے قریب چایھن جودڑو جوکہ زمین بوس ہو چکاہے اس کے آثار قدیمہ کی تلاش کے لئے جرمنی کے ماہرین کئی مرتبہ آچکے ہیں اور وقفے وقفے سے اس کی کھدائی جاری اور اس میں نوردات نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔سندھی تہذیب و تمدن کی علامت تاریخی ورثہ کو محفوظ بنانے کے لیے صوبائی و وفاقی حکومت بھی توجہ مبذول کرے۔ 

وادی مہران سے مزید