آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ3؍ جمادی الثانی 1441ھ 29؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لازوال گیتوں کے خالق، تنویر نقوی نے اُردو شاعری کا دامن فلمی گیتوں سے مالامال کیا

لازوال گیتوں کے خالق، تنویر نقوی نے اُردو شاعری کا دامن فلمی گیتوں سے مالامال کیا
1972...1919

فلمی گیت نگاروں اور شاعروں کو اگرچہ اردو ادب میں کوئی مناسب مقام دینے سے احتراز برتا جاتا ہے اور ان کی فلمی شاعری کو کسی کھاتے میں شمار نہیں کیا جاتا، لیکن ادبی نقادوں کے بقول، ایسا بھی ممکن نہیں کہ دلفریب سروں میں لپٹی ہوئی خوبصورت شاعری جو سننے والوں پر سحر طاری کردے۔ اسے یکسر نظرانداز کردیا جائے، مجروح سلطان پوری، قتیل شفاعی، ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی اور دوسرے بے شمار شاعروں نے فلمی صنعت کو خوبصورت گیتوں سے مالا مال کرنے کے علاوہ اردو ادب میں بھی خوبصورت شاعری کا اضافہ کیا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستانی شاعر تنویر نقوی نے بھی ایسے لازوال گیت تخلیق کئے جو اردو شاعری کا آج بھی ایک ناقابل فراموش سرمایہ ہیں۔

تنویر نقوی 6جون 1919ء کو لاہور میں پیدا ہوئے ان کا اصلی نام سید خورشید علی تھا، لیکن شعر و شاعری کی دنیا میں تنویر نقوی کے نام سے جانے پہچانے گئے۔ انہیں شروع ہی سے شعر و شاعری سے شغف تھا اور ان کے بارے میں ہی کہا جاتا تھا کہ ان پر شعر اترتے تھے یا دوسرے الفاظ میں جب ان پر آمد ہوتی تو پھر الفاظ گویا ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی میں اردو اور پنجابی زبان میں 350سے زیادہ فلمی نغمے تحریر کئے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ فلمی شاعر نہ ہوتے تو اردو شاعری میں رومانویت کے ایک بہت بڑے شاعر ہوتے لیکن بطور فلمی شاعر بھی انہوں نے اپنے لازوال گیتوں سے اردو شاعری کا دامن مالا مال کیا۔ 

انہیں فارسی پر بھی دسترس حال تھی اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ ان کے آبائو اجداد کا تعلق ایران کے شہر ابدان سے تھا ان کا یہ خاندان ہجرت کر کے غیر منقسم ہندوستان کے پنجاب میں آباد ہوگیا تھا۔ تنویر نقوی کو شعر و ادب کا شوق شاید ورثہ میں ملا تھا کیونکہ صرف 16سال کی عمر میں فلمی گیت نگاری سے وابستہ ہونے کے بعد 21سال کی عمر میں 1940ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’سنہرے سپنے‘‘ شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور اگرچہ ان کا کوئی اور شعری مجموعہ تو شائع نہ ہوا لیکن فلمی گیتوں کی گونج گلی کوچوں میں سنائی دینے لگی۔ غالباً فلمی صنعت کی دن رات کی مصروفیت نے انہیں روایتی غزلوں اور نظموں کی طرف مائل ہونے کا موقعہ ہی نہ دیا۔ تاہم ان کے انتقال کے بعد معروف شاعر اعزاز احمد آذر نے ان کی شاعری کوکلیات تنویر نقوی کے نام سے شائع کیا اور یہی ’’کلیات‘‘ ہی ان کا شعری سرمایہ ہے۔

تنویر نقوی چالیس سال تک فلمی دنیا سے وابستہ رہے۔ وہ نوجوانی میں ہی تقسیم سے قبل ہندوستان چلے گئے تھے جہاں فلمی دنیا میں بڑے بڑے گیت نگاروں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اگرچہ انہوں نے شروع شروع میں ہندوستان کی فلمی دنیا کے مختلف شعبوں میں کام کیا لیکن بالآخر مستقل طور پر گیت نگار بن گئے اور تاحیات اس سے وابستہ رہے۔ ہندوستان میں انہوں نے نور جہاں اور دلیپ پر بننے والی کئی فلموں کے گیت لکھے۔

تنویر نقوی ہندوستان کی فلم انڈسٹری کو لازوال گانے دینے کے بعد 1948ء میں لاہور آئے اور اندرون بھاٹی گیٹ رہائش پذیر ہوئے۔ پاکستان میں اس وقت بے سروسامانی کے عالم میں فلم انڈسٹری کا آغاز ہورہا تھا اور اسے سنبھالا دینے والوں میں تنویر نقوی سرفہرست تھے۔ انہوں نے قتیل شفاعی کے ساتھ مل کر کئی فلموں کے نغمات تخلیق کئے۔ ان میں ایک فلم ’’انارکلی‘‘ بھی شامل تھی جس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔انارکلی کے نغمات تخلیق کرنے والے دیگر گیت نگاروں میں قتیل شفاعی اور سیف الدین سیف بھی شامل تھے، لیکن جن گیتوں کو سب سے زیادہ پذیرائی ملی، وہ تنویر نقوی کے لکھے ہوئے تھے ان کا ایک گانا

جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے

قسمت کا دستور نرالا ہوتا ہے

بہت مقبول ہوا۔ اسی طرح

کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائوں

ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا سناؤں

بھی بہت مقبول ہوا۔

اسی دوران ’’انتظار‘‘ ’’جھومر‘‘ ’’کوئل‘‘ ’’(1959) اور نیند‘‘ کے نغمات نے بھی لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا اور لوگ آج بھی یہ گیت سن کر ماضی میں کھو جاتے ہیں۔ ’’زندگی ہے یا کسی کا انتظار‘‘ اور ’’مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے‘‘’’اے روشنیوں کے شہر بتا‘‘ بہت مقبول ہوئے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں تنویر نقوی کے لکھے ہوئے نغمے ’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ کو نور جہاں نے گا کر امر کردیا۔

واضح رہے کہ تنویر نقوی ہجرت کے بعد پاکستان آنے کے بعد 1954ء میں مغل اعظم کے ڈائریکٹر کے آصف کے کہنے پر واپس بھارت چلے گئے۔ وہ ان سے اپنی کسی فلم کے گیت لکھوانا چاہتے تھے۔ تنویر نقوی 1960ء تک وہاں مقیم رہے جس کے بعد پھر لاہور واپس آگئے اور وفات تک یہی مقیم رہے۔ تنویر نقوی ملکہ نور جہاں کے بہنوئی بھی تھے انہوں نے ان کی بہن ایدن بائی سے شادی کی تھی۔

’’کلیات تنویر نقوی‘‘ کے مطابق تنویر نقوی کو اس بات پر بھی فخر تھا کہ انہوں نے اپنے پنجابی فلمی گانوں میں پنجاب کی ثقافت کی بھرپور عکاسی کی ہے اور بلاشبہ، ان کا گانا ’’گندلاں کا ساگ‘‘ اس کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ تنویر نقوی بہت منکسر المزاج اور سادہ طبیعت کے انسان تھے اور اکثر سفید کرتا پاجامہ میں ملبوس رہتے۔ انہوں نے ہمیشہ ادب و احترام کے رشتے کو برقرار رکھا۔ آخر کار غنچہ دہن، سیمیں بدن، اے جان من، یوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم، تم جگ جگ جیو مہاراج، اے روشنیوں کے شہر بتا، جدوں ہولی جی لینداں میرا ناں، چھٹی ذرا سیاں جی کے نام کھدے، کے خالق یکم نومبر 1972ء میں ہم سے رخصت ہوگئے۔ لیکن ان کے گیتوں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔

تنویرنقوی کے چند مشہور گیت

……٭٭……٭٭……

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا سناؤں

حضور آپ پر اک جہاں کی نظر ہے

نگاہ کرم سے بھی مجھ کو یہ ڈر ہے

جہاں کی نظر میں کہیں آ نہ جاؤں

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

زمانہ ہوا ہے مجھے مسکرائے

محبت میں کیا کیا ہیں اٹھائے

کسے یاد رکھوں کسے بھول جاؤں

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

دعا ہے یہی کچھ زباں تک نہ آئے

محبت کا شکوہ بیاں تک نہ آئے

جلیں زخم دل کے مگر مسکراؤں

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا سناؤں

……٭٭……٭٭……

رقص میں ہے سارا جہاں

دھوم ہے یہ آج یہاں آیا ہے وہ شہ خوباں

چاند نیا رات نئی، چھیڑ نئی داستاں

راگ بھی ہے، رنگ بھی ہے،

حسن بھی ہے گُل فشاں

بزم جمی،شمعیں جلی،

زندگی ہے شادماں

آیا ہے وہ شہ خوباں

جس کی جفا ایک ادا، پیار کی نگاہ میں

جدھر گزر، ادھر ادھر، پھول کھلے راہ میں

جھکنے لگا جس کے لیے، بیروں جلا آسماں

آیا ہے وہ شہ خوباں

رقص میں ہے سارا جہاں

دھوم ہے یہ آج یہاں آیا ہے وہ شہ خوباں

قرطاسِ ادب سے مزید