آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری، پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج پھر

الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری، پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج پھر 


اسلام آباد (طاہر خلیل)الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری،سندھ سے رکن کے نام پر ڈیڈلاک برقرار ہے، اپوزیشن نے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا، بلوچستان کے رکن پر اتفاق ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج پھر، الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری کے معاملہ پر اپوزیشن نے مشاورت کے لیے مزید وقت مانگ لیا، توقع ہے کہ آج ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان کیلئے الیکشن کمیشن کے رکن کے طور پر حکومت کے نامزد میر نوید جان بلوچ کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ سندھ سے الیکشن کمیشن کے رکن کے نام پر مشاورت کے لیے اپوزیشن نے مزید وقت طلب کر لیا، الیکشن کمیشن اراکین کے تقرر کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

12 رکنی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن اراکین کی تعداد برابر ہے جس کے پاس چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے سندھ اور بلوچستان کےارکان الیکشن کمیشن کے لیے کل 12 نام بھجوائے گئے تھے جن میں 6 نام وزیراعظم جبکہ 6 نام قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تجویز کئے تھے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئر پرسن شیریں مزاری نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کے مابین اراکین کے ناموں پر اتفاق ہوگیا ہے جبکہ دونوں جانب سے تعاون کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، اپوزیشن نے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے جس کے بعد آج(4 نومبر کو) 2 بجے دوبارہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوگا اور قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اراکین کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ اراکین الیکشن کمیشن کے لیے ایک رکن حکومت اور دوسرا رکن اپوزیشن کی تجویز پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پارلیمانی کمیٹی نے رکن بلوچستان کے لیے وزیراعظم کے نامزد کردہ نوید جان بلوچ کے نام پر اتفاق کیا جس کے بعد اب امکان ہے کہ رکن سندھ کا تقرر اپوزیشن کی تجویز پر کیا جائے گا، اس پر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی میں اختلاف ہے۔

پیپلز پارٹی رکن سندھ کے لیے اپنے امیدوار کی تعیناتی کے لیے کوشاں ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) سندھ اور بلوچستان دونوں سے اپنے امیدوار کو کامیاب کروانا چاہتی ہے، بعد ازاں اختلاف رائے دور کرنے کے لیے اپوزیشن نے پارلیمانی کمیٹی سے مشاورت کا وقت مانگتے ہوئے آج تک جواب دینے کی یقین دہانی کروائی گئی، آج کے اجلاس میں اراکین کے ناموں پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ دوبارہ عدالت میں جاسکتا ہے۔

اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا جس میں پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کے متفقہ موقف سے متعلق حکمت عملی مرتب کی گئی، مسلم لیگ (ن) کے رہنمامشاہد اللّہ کا کہنا تھا کہ سیاست کچھ لو اور کچھ دو کا نام ہوتا ہے لہٰذا کچھ لو اور دو پر کام ہورہا ہے،کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا۔

اہم خبریں سے مزید