آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم عمران خان پہ یوٹرن لینے کا الزام عائد کرتی ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے اپوزیشن خود یوٹرن لیتی دکھائی دیتی ہے۔ 

کل تک اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں فوری نئے انتخابات کرانے کا ڈھول پیٹنا شروع کیا ہوا تھا لیکن آج اپوزیشن لیڈر شہباز شریف لندن میں بیٹھ کر مطالبہ کررہے ہیں کہ ان ہائوس تبدیلی بہت ضروری ہے۔ 

چند دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ اپوزیشن کی کایا ہی پلٹ گئی اور اس نے نئے انتخابات کا راگ چھوڑ کر ان ہائوس تبدیلی لانے کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے حالانکہ مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں طے پایا تھا کہ اپوزیشن ان ہائوس تبدیلی کے بجائے اب صرف ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کرے گی۔ 

ان ہائوس تبدیلی کا یہ مطالبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاج کے لیے بیرونِ ملک روانگی اور آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے عدالت ِ عظمیٰ ٰکی طرف سے پارلیمان میں قانون سازی کی ہدایات کے بعد سامنے آیا ہے جس سے بظاہر یہی نظرآ رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو فوری طور پہ ملک میں نئے الیکشن کا انعقاد عملی طور پہ ممکن نظر نہیں آتا۔ 

اب تو الیکشن کمیشن بھی غیر فعال ہو چکا جبکہ چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری کی بیل بھی آسانی سے منڈھے چڑھتی نظر نہیں آ رہی۔ موجودہ حکومت اور بالخصوص وزیراعظم عمران خان سے جان چھڑانے کی اب اپوزیشن کو ایک ہی صورت نظر آرہی ہے کہ ان ہائوس تبدیلی لائی جائے۔ 

اگر صرف قائدِ ایوان کی تبدیلی کی بات کی جائے تو اپوزیشن جماعتیں یقیناً یہ کسی طور نہیں چاہیں گی کہ عمران خان کی جگہ تحریک انصاف کا ہی کوئی اور رہنما وزیراعظم منتخب ہو۔ 

ایسی صورت میں جہاں یہ ثابت ہو جائے گا کہ اپوزیشن کسی اصول، نظریے یا ملکی مفاد کی بنیاد پہ نہیں بلکہ صرف ذاتی پرخاش کی وجہ سے مائنس عمران خان حکومت چاہتی ہے کیونکہ جس حکومت کو اپوزیشن نا اہل اور نالائق گردانتی ہے وہ عمران خان کی تبدیلی سے کیسے اہل اور لائق ہو جائے گی۔ 

اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ کل کو خان کو کوئی عدالت نا اہل قرار دینے کا فیصلہ سنا دے گی تو نئی قیادت تحریک انصاف کی باگ ڈور سنبھال سکتی ہے تو یہ بھی نا ممکنات میں سے ہے کیونکہ عمران خان کی ذات کی نفی کے ساتھ ہی اس تحریک کا وجود بھی دم توڑ جائے گا۔ 

اب دوسری صورت میں اگر اپوزیشن یہ تصور کرتی ہے کہ وہ ان ہائوس تبدیلی کے ذریعے اپنا قائدِ ایوان لا سکتی ہے تو اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے اسے قومی اسمبلی میں اپنی عددی برتری ثابت کرنا ہوگی۔ 

اگرچہ آئین کے تحت اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کی منظوری کی صورت میں بھی حکومت کو ہی استحقاق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے نئے قائدِ ایوان کو نامزد کر کے منتخب کرا لے تو اس موقع پہ اپوزیشن اپنی طرف سے نامزد امیدوار کو کامیاب کرا کے اپنا وزیراعظم منتخب کرا سکتی ہے لیکن پھر معاملہ وہیں پہنچ جاتا ہے کہ یہ تب ہی ممکن ہے اگر حکومت کی اتحادی جماعتیں اس کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیں۔ 

یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ عام انتخابات کے بعد اگست 2018میں عمران خان قومی اسمبلی میں 176ووٹ لے کر قائدِ ایوان منتخب ہوئے تھے جس میں بیس ووٹ اتحادی جماعتوں کے تھے۔ 

ان کی وزارتِ عظمیٰ محض پانچ ووٹوں کی عددی اکثریت سے قائم ہوئی۔ اس وقت ان کی اتحادی جماعتوں میں ایم کیو ایم پاکستان کی قومی اسمبلی میں 7، مسلم لیگ ق کی 5، بلوچستان عوامی پارٹی کی 5، بی این پی مینگل کی 4، جی ڈی اے کی تین، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کی ایک ایک نشستیں جبکہ دو آزاد امیدوار ان کے ہمرکاب ہیں۔ 

بی این پی مینگل صرف ایشوز کی بنیاد پہ حکومت کی اتحادی ہے جسے تاحال اپنے مطالبات پورا نہ ہونے پہ سخت تحفظات ہیں اور سردار اختر مینگل حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں اپنی 156نشستیں ہیں جبکہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کی مجموعی نشستیں 184ہیں۔ 

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی عددی پوزیشن دیکھی جائے تو مسلم لیگ ن کی 84، پیپلز پارٹی کی 55، ایم ایم اے کی 16، اے این پی کی ایک اور آزاد ارکان کی دو نشستیں ہیں، یوں اپوزیشن جماعتوں کی مجموعی نشستیں 158ہیں جو حکومت اور اتحادیوں کے مقابلے میں 26کم ہیں۔ 

وزیراعظم عمران خان کو اس وقت ایوان میں سادہ اکثریت سے 13زیادہ نشستوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ اپوزیشن کو بھی سادہ اکثریت کے لیے قومی اسمبلی میں 13نشستیں ہی درکار ہیں۔

ان ہائوس تبدیلی کو ممکن بنانے کے لیے اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں میں شگاف ڈالنا ہوگا لیکن فی الوقت بی این پی مینگل کے علاوہ کسی اتحادی جماعت کو حکومت سے اس حد تک تحفظات نہیں ہیں کہ وہ حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائے۔ 

موجودہ صورتحال میں جب سپریم کورٹ کی ہدایت پہ پارلیمان نے اہم قانون سازی کرنی ہے تو اس دوران ان ہائوس تبدیلی کا نیا پنڈورا باکس کھلنے کا ویسے ہی کوئی امکان نہیں ہے اور اگر عمومی تاثر کے مطابق اپوزیشن اس قانون سازی کی حمایت کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پہ کرتی ہے تو کیا وہ مستقبل قریب میں ان ہائوس تبدیلی کے عوض اسی الیکشن اور اسی اسمبلی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی جس کو وہ آج تک جعلی مینڈیٹ سے تعبیر کرتی ہے۔ 

اب جب اپوزیشن متحد ہو کر نئے انتخابات کی بجائے ان ہائوس تبدیلی کے مطالبے کا یوٹرن لے چکی ہے تو جاننے والے جانتے ہیں کہ شہباز شریف کو اس مطالبے پر گھر کے اندر سے بھی حمایت حاصل نہیں ہے۔ 

اپوزیشن نے یوٹرن لے کر عوام کو تو ٹرک کی نئی بتی کے پیچھے لگا دیا لیکن حقیقت یہی ہے کہ کچھ یقین دہانیوں کے عوض اپوزیشن نئے انتخابات کے مطالبے سے دستبردار ہو کر اسی پرانی تنخواہ پہ نوکری کرنے پہ راضی ہو چکی ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)