آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ28؍جمادی الاوّل 1441ھ 24؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تنہا ایک وارث کا مکان کا ایک حصہ استعمال میں لانا

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ میں جس گھر میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتی ہوں، وہ میرے سسرکا ہے۔ ساس اور سسر کا انتقال ہوچکا ہے۔ اوپر کی دو منزلیں کرایے پر دی ہوئی ہیں، ان کا جو کرایہ آتا ہے، وہ میرے شوہر سب بھائی بہنوں میں شرعی طور سے تقسیم کردیتے ہیں۔ 

میرے ایک دیور اور دو نندیں ہیں۔ دیور ملک سے باہر ہیں۔ چند سال پہلے اس گھر کی لیز ختم ہورہی تھی جس کی وجہ سے میرے شوہر نے یہ مکان تمام بہن بھائیوں کی رضامندی سے اپنے نام کروالیا تھا۔ میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ہمارا اس گھر میں رہنا شرعی طور پر صحیح ہے یا نہیں ،یا اس مکان کو فروخت کرکے سب کو ان کا حصہ دے دینا چاہیے؟( ش۔ف، کراچی)

جواب:۔ اگر آپ کا شوہر دیگر ورثاء کی اجازت سے مکان کی ایک منزل میں رہائش پذیر ہے تو کوئی حرج نہیں۔مکان شرعی حصص کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ آپ کے شوہر اور دیور کو دو دو حصے اور نندوں کو ایک ایک حصہ ملے گا۔مکان فروخت کرکے رقم تقسیم کی جاسکتی ہے اور ورثاء ایک دوسرے کو بھی اپنے حصص بیچ سکتے ہیں، باری باری اسے استعمال بھی کیا جاسکتا ہے اور ورثاء خود رہائشی استعمال میں بھی لے سکتے ہیں، تمام ورثاء کو ان کاحصہ دے دینا چاہیے۔ شرعی طور پر بیٹوں کوبہ نسبت بیٹیوں کے دگناحصہ ملے گا۔

اقراء سے مزید