آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسپتال پر حملے کی جرات کیسے ہوئی؟ جج کا وکلا سے سوال

اسپتال پر حملے کی جرات کیسے ہوئی؟ جج کا وکلا سے سوال


لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی اے سی) حملے میں گرفتار وکلا سے عدالت نے سخت سوالات پوچھ لیے۔

گرفتار وکلا کی رہائی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے ملزمان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کی جرات کیسے ہوئی اسپتال پر حملہ کرنے کی؟ حملہ کیوں کیا گیا؟

انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ (وکلا) نے کہیں کا نہیں چھوڑا، اس طرح تو جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔

جسٹس باقر نجفی کے ریمارکس پر جواب دیتے ہوئے ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ہم نے پی آئی سی واقعے کی مذمت کی ہے۔

جج نے اس پر کہا کہ آپ اس کو وقوعہ کہتے ہیں؟ آپ کو اندازہ نہیں ہم کس دکھ میں ہیں، بڑی مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں، دکھ اس بات کا ہے آپ اس پر وضاحت دے رہے ہیں۔

جسٹس باقر نجفی نے ملزمان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پروفیشن میں کالی بھیڑیں ہیں۔

دوران سماعت جسٹس انوار الحق نے ریمارکس دیے کہ ایک ویڈیو بڑی عجیب ہے، جس میں کہا جارہا ہے یہ ڈاکٹر کی موت ہے۔

عدالت نے ملزمان کا انسداد دہشت گردی کے میڈیکل کروانے کے فیصلے پر عمل درآمد کروانے کا حکم دیا۔

جس پر اعظم نذیر تارڑ اور جسٹس علی باقر نجفی کے درمیان مکالمہ بھی ہوا، ملزمان کے وکیل نے کہا کہ وکلا کو میڈیکل کروانے لے کر گئے تو ڈاکٹروں نے ان کا علاج کرنے سے انکار کردیا۔

جسٹس علی باقر نجفی نے ملزمان کے وکیل سے کہا کہ ’اب آپ کو اندازہ ہوا؟ اس کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

قومی خبریں سے مزید