آپ آف لائن ہیں
ہفتہ13؍ربیع الاوّل 1442ھ31؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان شوبز انڈسٹری کا اُبھرتا نام ’’مدیحہ امام‘‘

کہا جاتا ہے کہ تمام صلاحیتیں کسی ایک شخص میں ملنا بے حد مشکل ہیں، کہیں خوبصورتی ہے تو کہیں ذہانت۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان شوبز انڈسٹری کافی خوش قسمت رہی ہے کہ اسے ہمیشہ ہی ایسے فنکار ملے ہیں جو نہ صرف ذہین اور فنی خصوصیات سے مالا مال ہیں بلکہ خوبصورتی میں بھی ان کا کوئی مقابلہ نہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ ہماری میڈیا انڈسٹری میں بےشمار فنکار ایسے ہیں جو پلک جھپکتے ہی شہرت کی بلندیوں کو چھوتے چلے گئے۔ پاکستان کی کم عمر، خوبصورت اور معصوم سی اداکارہ مدیحہ امام کا شمار بھی ایسے ہی فنکاروں میں ہوتا ہے، جن کی بے پناہ صلاحیتوں نے انھیں مختصر عرصے میں نہ صرف قومی بلکہ بین الا قوامی سطح پر بھی ایک باصلاحیت فنکارہ تسلیم کروا دیا ہے۔

8فروری 1991ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی مدیحہ امام نے اپنے شوبز کیریئر کا آغاز بھی اسی شہر سے کیا۔ انھوں نے کم وقت میں بطور وی جے، اداکارہ اور میزبان اپنی ایک پہچان بنائی اور جلد ہی انھیں ناظرین کی بے حد پسندیدگی بھی حاصل ہوگئی۔ مدیحہ امام کے کیریئر پر نظر ڈالیں تو انھوں نے ابتدا بطور وی جے کی۔ انھوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی کے فرائض بھی سرانجام دیئے، ایسے میں بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ مدیحہ کامعصوم چہرہ اور متناسب سراپا ماڈلنگ انڈسٹری کی آنکھوں کو نہ بھاتا۔ ایسے میں توقعات کے عین مطابق، کچھ عرصے بعد ہی ماڈلنگ انڈسٹری کی جانب سے مدیحہ کو آفرز آنا شروع ہوگئیں جنھیں مدیحہ نے بخوشی قبول کرتے ہوئے اپنے ماڈلنگ کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا۔

مدیحہ امام نے پاکستان کے مشہور ڈیزائنر اور مشہور میگزین کی جانب سے فوٹو شوٹ بھی کروائے جنھیں لوگوں نے بے حد پسند کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مدیحہ امام ہر برانڈ کا پہلا انتخاب بن گئیں۔ مدیحہ کا ماڈلنگ کیریئر نہ صرف فوٹو شوٹ تک محدود رہا بلکہ انھوں نے مختلف برانڈز کی جانب سے کروائے جانے والے فیشن ویک میں ریمپ واک میں بھی شرکت کی۔

مشہور و معروف ماڈل مدیحہ امام نے اپنی کامیابی کا سفر یہی تھمنے نہ دیا، آگے بڑھنے کی لگن میں جب اس خوبصورت اور معصوم ماڈل کو ڈرامہ انڈسٹری کی جانب سے اداکاری کی پیشکش ہوئی تو اس نے یہاں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کی ٹھان لی۔ 

مدیحہ امام کا پہلا ڈرامہ 2013ء میں آن ایئر ہوا، جس میں انہوں نے معاون کردار ادا کیا۔ اپنی بےساختہ اور معصومانہ اداکاری کی بدولت اداکارہ نے پہلے ڈرامے کے ذریعے ہی ناظرین کے دل ایسے جیتے کہ اس کے یکے بعد دیگرے انھیں مختلف ٹی وی سیریلز اور مختلف ٹی وی چینلز پر دیکھا جاتا رہا۔ 

تاہم اب باری معاون نہیں مرکزی کردار نبھانے کی تھی۔ یہ کامیابی بھی مدیحہ کو جلد حاصل ہوگئی اور انھیں علی فیضان کی ہدایات میں جیو ٹی وی کے لیے بننے والے ڈرامے ’’دھانی‘‘ کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ جاوید بابر کی پیشکش ’’دھانی‘‘ کے مرکزی کردار کے لیے ایک شوخ و شنگ اور زندگی کی خوبصورتیوں سے محبت کرتی لڑکی کی تلاش تھی، جس پر مدیحہ امام پورا اترتی تھیں۔ اس کردار کو انھوں نے پوری ایمانداری اور جاندار اداکاری کے ذریعے بے حد خوبصورتی سے نبھایا۔ 

اس ڈرامہ سیریل سے متعلق ایک انٹرویو میں مدیحہ امام کا کہنا تھا کہ فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے ہی ایک فنکار منفرد شناحت بنا سکتا ہے۔ جدید دور میں فنکار کی خداداد صلاحیتیں ہی اس کے لئے کامیابی کا دروازہ کھولتی ہیں۔ عریانی کسی فنکار کے لیے وقتی شہرت کا باعث ضرور بنتی ہے لیکن مستقبل میں زہر قاتل ثابت ہو تی ہے۔

انہی خداد صلاحیتوں نے مدیحہ امام کے لیے بالی ووڈ کے دروازے بھی کھول دیے۔ مدیحہ امام کو بھارتی فلم ’’ڈیئر مایا‘‘ کے لیے منیشا کوئرالہ کے ہمراہ کردار اداکرنے کی پیشکش کی گئی، جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ اس آفر سے متعلق مدیحہ نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا، ’’انڈین فلم’ ڈیئر مایا‘کے لیے ڈائریکٹرسنینا بھٹناگر کو ایک کم عمر لڑکی کی تلاش تھی، یہ تلاش ڈائریکٹر کو ایم ٹی وی انڈیا کی ویڈیو ز دیکھنے پر اُکسانے لگی، اسی دوران سنینا بھٹناگر نے ایم ٹی وی پاکستان پر موجود میری ایک ویڈیو دیکھی جس کے بعد انہوں نے2015ء میں مجھ سے رابطہ کیا، پہلے پہل مجھے لگا کوئی میرے ساتھ مذاق کررہا ہے تاہم بعدازاں میں نے فلم سائن کرلی کیونکہ میں ہمیشہ سے ایسی فلم کرنا چاہتی تھی‘‘۔ مدیحہ کی فلم’’ڈئیر مایا‘‘ کو نہ صرف فلم بینوںبلکہ شوبز انڈسٹری کی جانب سے بھی کافی پذیرائی ملی۔

مدیحہ کے حالیہ پروجیکٹ کے حوالے سے بات کی جائے تو ان کا کامیاب ڈرامہ ’’میرا رب وارث‘‘ کچھ ماہ پہلے جیو ٹی وی پر اختتام پذیر ہوا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی شادی شدہ جوڑوں کے غیرازدواجی تعلقات پر مبنی تھی۔ منفرد کہانی اور جاندار اداکاری کی بدولت ڈرامہ سیریل ’’میرا رب وارث‘‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنائے۔ ڈرامے کے مرکزی کرداروں (دانش تیمور اور مدیحہ امام) نے بہترین پرفارمنس پیش کی۔ 

مدیحہ امام کے کردار کے حوالے سے بات کی جائے توانھوں نے ’’عائشہ‘‘ نامی ایک مذہبی لڑکی کا کردار نہایت خوبصورتی سے نبھایا۔ اس حوالے سے ایک انٹرویو میں مدیحہ امام کا کہنا تھا، ’’میرےلیے ایک مذہبی لڑکی کا کردار نبھانا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا‘‘۔ مدیحہ کے کامیاب اور مقبول ڈراموں میں ہیر، دھانی، زویا صالحہ، بابا جان اور دیگر شامل ہیں۔

فیشن اینڈ شوبز سے مزید