آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل2؍جمادی الثانی 1441ھ 28؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یہ پیٹرک لینسیونی کی نئی کتاب ”Death by Meeting“ پر تبصرہ نہیں، یہ موت کی سوانح ہے۔ یہ وہ کہانی ہے جسے ہر روز لاکھوں افراد دہراتے ہیں۔ ہم سب اس کہانی کے کردار ہیں۔ یہ کہانی ازل سے چل رہی ہے۔ ہر گلی، ہر کوچے، ہر مکان سے اس کی جان پہچان ہے۔ یہ کہانی جب اپنے ذاتی دورے پر آپ کے دفتر میں آنکلتی ہے تو سانس ہوا بن جاتا ہے۔ موت کو اِس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ آپ نے کتنا کام کر لیا ہے اور کتنا باقی ہے، وہ یہ بھی نہیں کرتی کہ بتاکر دورے پر آئے تاکہ اس کے آنے سے پہلے آپ اپنے کام مکمل کر چکے ہوں، سو اس کی آمد ہمارے لئے بڑی تکلیف دہ ہے۔ ہم کسی صورت اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ چاہے زندگی ہمارے لئے کتنی ہی بوجھ کیوں نہ بن چکی ہو۔وہ جو کہتے ہیں ’’موت ملائم ریشم جیسی اور سبک ہے اتنی، جیسے مرغابی کے پر‘‘ وہ صحیح الدماغ نہیں ہوتے یا جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ طے ہےکہ خودکشی ایک ذہنی بیماری ہے، چاہے مرنے سے پانچ منٹ پہلے لاحق ہو یا اس کے جراثیم برسوں میں دماغ میں موجود ہوں۔بے شک ہم مرنے کے لئے پیدا ہوتے ہیں مگر ہم میں سے کچھ لوگ مرکر بھی نہیں مرتے۔ جیسے بلھے شاہ نے کہا تھا، گور پیا کوئی ہور۔ قائداعظم محمد علی جناح فوت ہوئے، مرے نہیں۔ علامہ اقبال دنیا سے گئے مگر ہر جگہ موجود ہیں۔ زندہ ہونے کا اتنا ثبوت انہوں نے زندگی میں نہیں دیا جتنا مرنے کے بعد دیا۔ موت ایسے لوگوں سے ملتی ہے تو دم سادھ لیتی ہے، کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندہ ہوتے ہوئے مر چکے ہوتے ہیں۔ ایسی بے شمار لاشیں ہمیں گلیوں میں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ ہائے زندگی سے محبت کتنی خوفناک چیز ہے، ان میں سے کوئی لاش بھی دفن ہونے کے لئے تیار نہیں۔

حکمرانی بھی زندگی جیسی ہے۔ کوئی شخص بھی وقار کے ساتھ اقتدار کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ کتابیں یہی کہتی ہیں، زیادہ تر حکمراں قتل ہوکر اقتدار سے الگ ہوئے یا پھر انہیں بے وقار ہوکر اقتدار کو چھوڑنا پڑا۔ جیسے ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق کا طیارہ فضا میں پھٹ گیا، پرویز مشرف، نواز شریف اور آصف علی زرداری اقساط میں موت سے مکالمہ کر رہے ہیں۔ ان کے لئے دعائے صحت! میرے بابا نے کہا تھا ’’ہمیں پہلے ہی بہت سارے لوگوں کی قطار میں کھڑا کر دیا گیا ہے‘‘ بے شک ہر صاحبِ اقتدار کو ایک دن اسی قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ قطار اُس ڈاکٹر کے کلینک کے باہر لگی ہوتی ہے جسے ’’ڈاکٹر موت‘‘ کہتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اُن کے جانے کے بعد لگتا ہے کہ جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں۔ کیا کہوں یہاں تو لوگ روتے روتے تالیاں بجانے لگتے ہیں۔

ایک انشورنس کمپنی نے اپنے بروشر کے سرورق پر لکھا تھا ’’موت، زندگی کے چکر کا ایک فطری حصہ ہے۔ یہ مختلف شکلوں میں آتی ہے، وقت کا تعین خود کرتی ہے۔ لوگ اِس سے خوف زدہ رہتے ہیں اس کے ساتھ ملاقات کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ خوف زدہ ہونے سے چیزوں کو ترتیب میں رکھنا زیادہ منطقی ہے۔ اس ناگزیر مرحلے کی تیاری کے لئے ہم آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔ افسوس کہ ’’سیاسی موت‘‘ سے پہلے انشورنس کا کوئی رواج نہیں۔ پھر پاکستان کے تو کسی شہر میں بھی سیاسی قبرستان نہیں۔ ویسے سان فرانسسکو دنیا کا وہ واحد شہر ہے جس میں اصلی قبرستان بھی نہیں ہے۔ کسی زمانے میں وہاں 27چھوٹے بڑے قبرستان تھے۔ 1942ء میں انہیں شہر سے نکال دیا گیا تھا۔ یہ قبرستان ’’الما‘‘ نامی شہر میں آباد کئے گئے۔ اِس وقت الما کی کل آبادی پندرہ لاکھ سترہ سو افراد پر مشتمل ہے۔ پندرہ لاکھ لوگ قبروں میں دفن ہیں اور سترہ سو زندہ انسان مکانوں میں رہتے ہیں۔ قبرستانوں کو سان فرانسسکو جیسے شہروں سے نکالنے میں بھی ایک گہری سیاسی بصیرت موجودہے۔ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ مُردوں کی کمیونٹی سے ووٹ نہیں مل سکتے۔ زندوں کے ہجوم ہی زندہ باد کے نعرے لگا سکتے ہیں۔ دوسری طرف ’’الما‘‘ جیسے شہروں میں کئی سیاسی قبریں جیتی جاگتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان سیاسی قبروں کے اردگرد چلتی پھرتی لاشوں کے ہجوم جمع رہتے ہیں۔ جلوس نکالتے ہیں، دھرنے دیتے ہیں۔

سیاسی موت سے مرنے والوں کی آبادی میں روحوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کی بھی کمی نہیں، ابھی چند ہفتے ہوئے ہیں سرخ اور سبز سیاست کے قبرستانوں میں زندگی کا شور و غوغا اٹھا۔ کہیں سے آواز آئی ’’ایشیا سرخ ہے‘‘ تو کہیں سے ’’ایشیا سبز ہے‘‘ کا شور اٹھا۔ کہیں سرخ انقلاب زندہ باد کے نعرے لگے تو کہیں سبز انقلاب کے۔ کہیں لال لباس میں لڑکیوں نے کہا ’’لال لال لہرائے گا، لگ پتا چل جائے گا‘‘ تو کہیں لڑکوں نے ’’سبز ہے پاکستان سبز ہے‘‘ کی گونج پیدا کی۔ شاید یہ اِسی جادو کا کمال ہے کہ لگنے لگا ہے جیسے چین سبز ہو۔ جیسے امریکہ سرخ ہو۔ بہرحال انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں جاں بحق ہونے والے طالبعلم کی قسم! قم باذنی اور قم بادن اللہ کہنے والے چلے گئے ہیں۔ اب دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کے مقبرے آباد نہیں ہو سکتے۔ اب دنیا کسی نئے نظام کی تلاش میں ہے۔ ایسا نظام جو تمام تر منافرتوں سے بالاتر ہو۔ ترکی کے صوفی شاعر یونس ایمرے کی زبان میں ’’میں مذہبی، نسلی، قومی، جنسی، علاقائی، لسانی اور نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر خود سے اپنے کسی بھائی کو جدا نہیں کر سکتا۔ میرے لئے اس کائنات میں کوئی بھی اجنبی نہیں‘‘۔