آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ دنوں جو کچھ لاہور میں امراض قلب کے اسپتال میں ہوا وہ بڑا افسوس ناک ہے۔ دل و دماغ نہیں مانتا کہ اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ اور ایک مقدس پیشہ سے منسلک افراد ایک معمولی سی بات پر اتنے شدید ردعمل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ مجھے یہاں حکیم الامت حضرت اشرف علی تھانویؒ کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے ایک نمازی جس کے جوتے کوئی لے گیا تھا، نے نماز کے بعد حضرت سے دریافت کیا کہ کیا نماز میں جوتا چور مسلمان بھی آتے ہیں، میرا جوتا کوئی چرا کر لے گیا ہے۔ اس پر حضرت تھانوی نے فرمایا، کوئی مسلمان چور نہیں ہو سکتا اگر کوئی چور مسلمان بن گیا ہو تو ایسا ممکن ہے۔ ایسے ہی میرا گمان ہے کہ کوئی وکیل غنڈا بدمعاش نہیں ہو سکتا، یہ اور بات کہ کچھ غنڈوں نے وکالت کو اپنا لیا ہے۔ وکالت تو مقدس کام ہے۔ بات ہو رہی تھی لاہور کے امراض قلب کے اسپتال پر دھاوے کی، حیرت ہے کہ اتنے اعلیٰ و ارفع ذمہ دار کام سے منسلک ہونے اور اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہونے کے باوجود ایسا بدنما کام کر گزرے جس کی توقع جنگی جنون میں مبتلا افواج سے بھی نہیں کی جا سکتی کیونکہ بین الاقوامی معاہدے کے تحت دورانِ جنگ اسپتالوں پر حملہ نہیں کیا جاتا ۔کیا انسان جذبات میں اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ وہ تمام اخلاقی، انسانی مذہبی حدوں کو پار کر جائے؟ اس لئے اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نے غصے کو حرام قرار دیا ہے۔ غصہ شیطانی عمل ہے، غصے میں انسان شیطان کے قابو آ جاتا ہے، اُسےاپنی اقدار کا ہوش نہیں رہتا۔ لاہور کے امراض قلب کا حادثہ کوئی معمولی یا اتفاقی نہیں ہے، نوجوان وکلا کا ایک سوچا سمجھا عمل ہے اس سارے معاملے میں اصل قصوروار مسلم لیگ (ن) کو کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) ہی تھی جس نے چیف جسٹس کی بحالی کے لئے وکلا کو بار سے سٹرکوں کی راہ سجھائی تھی، شاید اسی باعث وکلا آج تک بار سے باہر ہی ہیں، اُن کاجو جی چاہے کرتے رہتے ہیں۔ اگر کبھی کسی جج سے اختلاف ہو جائے یا موکل سے تو اس بے چارے کی دھلائی میں دیر نہیں لگتی۔ برداشت ختم ہونے کی بات صرف وکلا کی ہی نہیں، برداشت کا عنصر تو ہمارے معاشرے سے ہی ختم ہو چکا ہے۔ ہماری مذہبی اقدار و اخلاقیات ہم سے نت نئے طریقوں سےچھینی جا رہی ہیں۔ لاہور کا سانحہ عدم برداشت کانتیجہ ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ قانون دانوں کو قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے تھا، اُنھیں اس کی عبرت ناک سزا دی جائے۔ قانون دان ہی قانون ہاتھ میں نہیں لے گا تو کون لےگا، بس اس کا استعمال درست کرنا شرط ہے۔ سمجھنا یہ ہے کیا وکلا حضرات اپنے کیے پر شرمندہ ہیں یا فخر کر رہے ہیں کہ جو کیا اچھا کیا۔ قاتل کو پھانسی سے بچانے والے خود قاتل کیسے بن گئے؟ امراض قلب کے مریض تو ویسے ہی لب دم ہوتے ہیں ان کو تو وہ ہنگامہ آرائی ہی کافی رہتی جو کی گئی، آپ کا معاملہ تو ڈاکٹر صاحبان سے تھا، پھر مریضوں کو کیوں موت کےگھاٹ اُتارا گیا۔ اہل سیاست اس سارے واقعہ کی ذمہ دار حکومت کی نااہلی اور کمزوری کو بتا رہے ہیں۔ اس ساری کارروائی کو انتظامی نااہلی بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ وکلا نے اپنے ٹھکانے پر پہلے ایک اجتماعی اجلاس کیا، جہاں طے پایا کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے۔ وکلا جو بار سے تقریباً دو سوا دو گھنٹے پیدل مارچ کرتے ہوئے روانہ ہوئے تھے، اس کےباوجود انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی، آخر کیوں؟ وکلا نے کیوں لب دم مریضوں کے آکسیجن ماسک نوچے، کیوں وینٹی لیٹر لگے مریضوں کو اس سے محروم کیا۔ یہ سب کس قانون کے تحت کیا گیا۔ اب جو لوگ اس بے رحمانہ کارروائی کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے گئے، اُن کا کون ذمہ دار ہوگا۔ کیا قانون حرکت میں آئے گا؟ کیا یہ سب ہنگامہ اور قتل عام کرنے والوں کو سزا اور مرنے والوں کو کوئی جزا مل سکے گی؟ اللہ ہمیں برداشت و تحمل کی قوت عطا کرے، ہر برائی برے کاموں سے بچنے کی قوت دے۔ آمین!