آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار30؍جمادی الاوّل 1441ھ 26؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

افغانستان، نائیجیریا اور پاکستان کے سوا دنیا بھر میں پولیو کا ایک کیس بھی موجود نہیں جبکہ وطن عزیز میں گزشتہ برسوں کی نسبت رواں برس اس موذی مرض کے کیسوں کی سینچری مکمل ہو گئی ہے حالانکہ 2017میں یہ تعداد آٹھ اور 2018میں بارہ تھی۔ ہفتے کو نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر فار پولیو نے ملک میں تین نئے کیسوں کی تصدیق کی جن میں سے دو کیس سندھ اور ایک خیبر پختونخوا کا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں پولیو وائرس کے کیسوں میں بتدریج کمی آئی تھی جس پر ماہرین امید کر رہے تھے کہ پاکستان پولیو وائرس کے خاتمے کے قریب پہنچ چکا ہے لیکن غلط حکمتِ عملی کے باعث امسال پولیو وائرس کے 101کیس سامنے آگئے جس نے پولیو وائرس کے خاتمے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ پاکستان میں گزشتہ 12برسوں کے دوران 1201بچے پولیو وائرس سے معذور ہوئے جبکہ پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے والے 60سے زائد ورکر قاتلانہ حملوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پاکستان کو پولیو وائرس کے خلاف کیے جانیوالے اقدامات کو تیز کرنا ہوگا اور تمام متاثرہ علاقوں میں فوری اور موثر سرگرمیاں شروع کرنا ہوں گی۔ یہ صورتحال ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی اور عالمی برادری کے سامنے شرمندگی کا باعث ہے لہٰذا حکومت کو اس کام میں پیش آنیوالی تمام رکاوٹیں بلاتاخیر دور کرنا چاہئیں۔ وقت

کا تقاضا ہے کہ متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کو اس مقصد کیلئے ٹائم فریم دیا جائے اور ہدف کے حصول کیلئے پولیو ورکرز کو تمام ضروری سہولتیں اور مراعات مہیا کی جائیں۔ انہیں مکمل سیکورٹی کی فراہمی بھی لازمی ہے۔ اگر منفی عناصر بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے سے روکنے کیلئے والدین پر دبائو ڈالتے ہیں تو اس سے نمٹنا بہرطور حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ مزید برآں حکومت کو چاہئے کہ بلاتاخیر ابلاغی مہم کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار کیا جائے اور بچوں کو ویکسین کی فراہمی پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔