آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارت نے متنازع شہریت ترمیمی بل منظور کرکے ایک سیکولر ریاست والا اپنا امیج نہ صرف پوری دنیا میں بری طرح خراب کردیا ہے بلکہ عالمی برادری کو اس تشویشناک امر کی بھی نشاندہی کردی ہے کہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بھارت فسطائیت کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں اس خطے کے ساتھ ساتھ عالمی امن کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ 

گاندھی اور نہرو کا بھارت جو سیکولر، جمہوری اور صوبوں کی حقِ آزادی کے ساتھ ترقی کی راہ پر تھا، اب تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ پورے بھارت میں اس بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ 

مظاہرین میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ بھارت کی چھ ریاستوں مغربی بنگال، مشرقی پنجاب، کیرالہ، مدھیا پردیش، چھتیس گڑھ اور نئی دہلی نے اس قانون کو مسترد کردیا ہے اور اسے اپنی ریاست میں نافذ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس قانون کے خلاف مظاہروں کی وجہ سے ملک کے بہت سے علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند رہی۔ 

ہنگاموں اور احتجاجی ریلیوں کے باعث جاپان کے وزیراعظم اور دیگر کئی غیر ملکی شخصیات نے بھارت کے دورے ملتوی کردیئے۔ خود بھارت کے اندر اس متنازع قانون کو بھارت کے آئین کے آرٹیکل 14کے منافی قرار دیا جارہا ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ پہلی مرتبہ شہریت کے لئے مذہب کو معیار بنایا گیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا قانون نہیں ہے۔ 

بی جے پی کی حکومت نے اگرچہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپنی اکثریت کی بنا پر یہ قانون منظور کرا لیا ہے لیکن وہ ایوان میں اپنے لوگوں کو بھی مطمئن نہیں کرسکی ہیں کہ اس قانون کا جواز کیا ہے۔ 

بی جے پی کا مؤقف ہے کہ مسلم اکثریت والے تین ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کے ساتھ مبینہ زیادتیاں ہوئی ہیں۔ اس وجہ سے انہیں بھارت میں پناہ اور شہریت دینے کے لئے یہ قانون منظور کیا گیا ہے مگر بی جے پی کے پاس دنیا کے سوالات کا کوئی جواب نہیں۔ یہ سوالات بھارت کے اندر سے بھی کئے جارہے ہیں۔ 

دنیا بھر کے ممالک، عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی یہ سوالات پوچھ رہی ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں مذہب کے ساتھ ساتھ رنگ، نسل، زبان، صنف، فرقہ، سیاسی نظریات، قومیت اور دیگر بنیادوں پر بھی زیادتیاں ہوئی ہیں، ان زیادتیوں کے شکار تمام گروہوں کو اس قانون میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ 

دوسرا سوال یہ ہے کہ صرف تین ممالک کے تارکین وطن یا پناہ گزینوں پر اس کا اطلاق کیوں ہوگا؟ بھارت کے ایک اور ہمسایہ ملک برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے، ان کے معاملے کو کس معیار پر پرکھا جائے گا، جو بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ ساتھ خود بھارت میں بھی پناہ گزین ہیں۔ 

تیسرا سوال یہ ہے کہ 1960ءاور 1970ءکے عشرے میں مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آنیوالے لاکھوں بنگالی مسلمان بھارت میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ اب ان کی کئی نسلیں بھارتی بنگال یعنی آسام میں قیام پذیر ہیں۔ ان کی تعداد اس وقت 20لاکھ سے زیادہ ہے۔ 

نئے ترمیمی بل کے بعد کیا ان لوگوں کو بھارتی شہریت نہیں ملے گی اور انہیں بھارت سے نکال دیا جائے گا، جن کی پچھلی تین نسلوں نے یہاں جنم لیا اور ان کا بھارت کے سوا کوئی وطن ہی نہیں۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ اس قانون کا اطلاق صرف ان پناہ گزینوں اور تارکین وطن پر کیوں ہوا، جو 31دسمبر 2014تک بھارت میں پناہ گزین تھے۔ 

بعد میں اگر کوئی پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں ہونیوالی زیادتیوں کے باعث بھارت میں پناہ لینا اور وہاں کی شہریت حاصل کرنا چاہے تو اس پر اس قانون کا اطلاق کیوں نہیں ہوگا اور بھی بہت سے سوالات بھارت اور دنیا بھر سے اس امتیازی قانون کے بارے میں کئے جارہے ہیں۔ 

ان تمام سوالات کا کوئی جواب بی جے پی کے پاس تو نہیں ہے لیکن بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک گھٹیا بیان دیا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت ’’نہرو لیاقت معاہدے‘‘ کے مطابق جو کام مکمل نہیں ہو سکا تھا، وہ اس بل کے ذریعہ مکمل کیا جارہا ہے۔ اس پر کسی اور نے نہیں بلکہ بھارت کی سیاسی جماعتوں اور تھنک ٹینکس نے یہ سوالات اٹھا دیئے ہیں کہ کیا بی جے پی نہرو لیاقت معاہدے کے تحت ہندوستان کو مزید تقسیم کرنا چاہتی ہے؟

بہرحال بی جے پی کے شہریت ترمیمی بل کو بھارت سمیت ساری دنیا نے مسترد کردیا ہے۔ یہ بل بی جے پی کے فسطائی رجحانات کا عکاس ہے اور وہ ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بھارت کو فسطائیت کی راہ پر ڈال رہی ہے۔ 

21ویں صدی مغرب پر مشرق کی بالادستی کی صدی ہے۔ بی جے پی ہندو انتہا پسندانہ سیاست کے ذریعے بھارت پر سیاسی بالادستی قائم رکھنا چاہتی ہے اور مغرب بی جے پی کی اس انتہاپسندانہ سیاست کو نہ صرف بھارت بلکہ مشرق کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اس لئے ایک تنگ نظر، کوتاہ اندیش اور نچلے درجے کی دانش رکھنے والے مودی کو ایک بڑا لیڈر اور ہیرو بنا کر پیش کررہا ہے۔ مشرق کی تباہی کو صرف بھارت کا وہ اجتماعی ضمیر روک سکتا ہے، جو اس بل کی مخالفت کررہا ہے اور اس کے خلاف مزاحمت کررہا ہے۔ 

یہ بل مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو طلوع ہوتے ہی غروب کرنے کی کوشش ہے۔