• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بال بنوانے کے لیے حجّام کی دُکان میں داخل ہوئے، تو سامنے نئی ریٹ لسٹ آویزاں تھی، یعنی منہگائی کا اثر اب اُستروں تک بھی آپہنچا ہے۔ اعلان کے نیچے’’ آل پاکستان ہیئر ڈریسرز ایسوی ایشن‘‘ کے الفاظ نمایاں تھے۔’’دیں گے بھئی! اب بال بڑھا کر تو گھومنے سے رہے‘‘، بڑبڑاتے ہوئے بینچ پر بیٹھ گئے اور اخبار اُٹھا کر پڑھنے لگے۔ لاہور سے خبر تھی کہ وہاں’’ نان بائی ایسویسی ایشن‘‘ نے پھر روٹی کی قیمت بڑھانے کی دھمکی دی ہے۔ اخبار کی شہہ سُرخی پر نظر دوڑائی، تو وہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے ہونے والے مُلک گیر مظاہروں سے متعلق تھی، جن میں ہزاروں طلباء وطالبات نے شرکت کی تھی۔بات تو ان کی ٹھیک ہی ہے۔

یاد آیا، پچھلے دنوں ایک صاحب ملے تھے، جو کسی رکشا یونین کے خزانچی تھے۔پاکستان میں نان بائی، حجام، آڑھتی، چھوٹے تاجر، بڑے تاجر، صنعت کار، رکشے والوں، بس والوں، سرکاری ملازمین، اساتذہ، ڈاکٹر، صحافی، وکلاء سب کی یونینز ہیں اور خُوب سرگرم بھی ہیں، مگر لاکھوں طلبہ اس حق سے محروم ہیں اور وہ تین دہائیوں سے اپنا یہ حق مانگتے پِھر رہے ہیں، لیکن کہیں کوئی شنوائی نہیں۔یونین کیوں بنائی جاتی ہیں؟ دراصل اس کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ 

ایک تو یہ کہ اُس یونین سے وابستہ افراد کے قانونی حقوق کا تحفّظ کیا جاسکے اور دوسری بات یہ کہ یونین کے پلیٹ فارم سے ارکان کی فلاح وبہبود کے مختلف منصوبوں پر کام کیا جاتا ہے۔ یہی کام ماضی میں طلبہ یونینز کیا کرتی تھیں۔ وہ ایک طرف طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے پُل کا کام دیتیں، تو دوسری طرف طلبہ کی تعلیم وتربیت کے ساتھ مثبت غیر نصابی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا کرتیں۔

طلبہ یونین …کب کیا ہوا؟

پاکستان میں پہلی بار1962 ء میں صدر ایّوب خان کے دورِ حکومت میں طلبہ کو تعلیمی اداروں میں اپنے نمایندے منتخب کرنے کا حق دیا گیا۔ اس سرگرمی نے طلبہ کے سیاسی شعور میں اضافہ کیا اور بعدازاں، اُنھوں نے ایّوب خان کے خلاف جاری مہم میں بھرپور کردار ادا کیا۔ گو کہ یہ طلبہ تحریک کا ایک روشن باب تھا، مگر اس کردار نے حکومتی ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بجادی۔ ضیاء الحق اقتدار میں آئے، تو تحریک کے خوف سے طلبہ کو بے زبان کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔

سب سے پہلے صوبہ سرحد کی طلبہ تنظیمیں نشانہ بنیں، جنھیں 26 اپریل 1983 ء کو خلافِ قانون قرار دے دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ضیاء الحق نے اس اقدام کے لیے گورنر سرحد، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فضل حق کے ایک جلسے میں بعض طلبہ کی ہنگامہ آرائی کو جواز بنایا۔13 جون 1983 ء کو وائس چانسلرز کی 19 رکنی کمیٹی نے حکومتی ایما پر متفّقہ طور پر مُلک بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر پابندی کی سفارش کی۔جس کے بعد فروری1984 ء میں مارشل لاء آرڈرز کے ذریعے طلبہ یونینز پر پابندی عاید کردی گئی۔ 

یہ احکامات مختلف زونز کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرز نے جاری کیے تھے۔پنجاب میں جنرل غلام جیلانی نے 9 فروری 1984ء کو آرڈر نمبر1371 اور سندھ میں جنرل ایس ایم عباسی نے 11 فروری 1984 کو آرڈر نمبر 227 کے تحت طلبہ یونیز پر پابندی عاید کی۔ ضیاء حکومت کے اس اقدام کے خلاف طلبہ نے شدید مزاحمت کی، جس کی پاداش میں اُن پر مقدمات قائم کیے گئے اور اُنھیں جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ کئی مطلوب طلبہ پولیس کے ہاتھ نہ آئے، تو اُن کی ماؤں کو تھانے میں بٹھا کر رکھا گیا۔ 

تاہم جون میں تمام طلبہ رہا کردئیے گئے۔ کچھ دنوں بعد یونی ورسٹیز اور کالجز میں اداروں کے سربراہان کی اجازت سے طلبہ کاؤنسلز اور سوسائٹیز قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی، مگر چناؤ کا حق صرف تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے پاس تھا۔ لہٰذا، طلبہ نے اس حکومتی فیصلے کو قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ 1985ء میں سندھ میں طلبہ یونینز سے پابندی اٹھائی گئی اور کراچی کے بیش تر کالجز میں انتخابات ہوئے، لیکن کراچی یونی ورسٹی اس انتخابی عمل سے محروم رہی۔2 دسمبر 1988ء کو نومنتخب وزیرِ اعظم، بے نظیر بھٹّو نے طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان کیا، مارشل لاء آرڈرز کالعدم قرار دے دیے گئے اور یوں یونینز بحال ہوگئیں۔ 

نواز شریف پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ تھے، جب کہ دیگر صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ 12 اپریل 89 ء کو سندھ اسمبلی نے طلبہ یونینز کی بحالی کا بل منظور کیا، تاہم صرف پنجاب ہی میں طلبہ یونینز کے الیکشن ہوئے ۔ یکم جولائی 1992ء کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، محمّد افضل ظلہ، جسٹس افضل لون اور جسٹس سعید الزماں صدیقی پر مشتمل بنچ نے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے عبوری حکم سُنایا کہ طلبہ کو داخلے سے قبل طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں میں حصّہ نہ لینے کا حلف نامہ دینا ہوگا۔ حیرت انگیز طور پر حلف نامے کی یہ تجویز پاکستان بار کاؤنسل کے چیئرمین، محمّد نواز مری نے عدالت عظمیٰ میں پیش کی تھی۔ 

اسلامی جمعیت طلبہ نے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ 10 مارچ 1993ء کو سپریم کورٹ کے بنچ نے اسلامی جمعیت طلبہ کے سیکرٹری جنرل، اویس قاسم کی دائر کردہ پیٹیشن پر فیصلہ سُناتے ہوئے طلبہ یونینز بحال تو کردیں، مگر کئی شرائط بھی عاید کردی گئیں۔عدالت نے کلاسیکل یونین سرگرمیوں جیسے کُتب میلے اور مشاعروں کی اجازت دی، لیکن طلبہ نمائندوں کی تعلیمی ادارے کے انتظامی امور تک رسائی یا ان میں عمل دخل روک دیا۔ 1995ء میں پنجاب میں طلبہ یونینز کے انتخابات ہوئے، لیکن پُرتشدّد واقعات کی وجہ سے حکومت نے ایک بار پھر طلبہ یونینز پر پابندی عاید کر دی۔ 

29مارچ2008ء کو وزیرِ اعظم، سیّد یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اپنے پہلے پالیسی بیان میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا، مگر عملاً کچھ نہ ہوا۔ 23 اگست 2017 ء کو سینیٹ نے یونینز کی بحالی کے لیے متفّقہ قرار داد منظور کی، مگر بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اب ایک بار پھر اسمبلیوں سے قرار دادیں منظور ہو رہی ہیں، دیکھیے آگے کیا ہوتا ہے۔

جُھکے نہیں، تھکے نہیں…!!

طلبہ تنظیمیں اور جمہوریت پسند قوّتیں گزشتہ 35 برسوں سے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہیں۔ اس ضمن میں کئی بار طلبہ نے تحریکیں چلائیں، جلسے جلوس کیے، مظاہرے ہوئے۔ تاہم، اس بار 29 نومبر کو طلبہ نے اس قوّت اور وسیع پیمانے پر مظاہرے کیے کہ وزیرِ اعظم، عمران خان اور بلاول بھٹو نے( جن کی پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے) نہ صرف یہ کہ طلبہ کی آواز سُنی، بلکہ اُن کے مطالبات کے حق میں بیانات بھی جاری کیے۔ 

دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کیا گیا۔قومی اسمبلی میں طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے متفّقہ طور پر بل منظور کیا گیا، جسے مزید کارروائی کے لیے قائمہ کمیٹی کے پاس بھجوا دیا گیا۔ طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں اسلام آباد سمیت تمام بڑے شہروں میں’’ مارچ‘‘ کیا، جن میں سیاسی، سماجی رہنما اور ٹریڈ یونینز کے کارکنان بھی اظہارِ یک جہتی کے طور پر شریک ہوئے۔

طلبہ نے بینرز اور پلے کارڈز اُٹھارکھے تھے ،جن پر مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طویل جدوجہد کے باوجود طلبہ جُھکے ہیں، ڈرے ہیں اور نہ ہی تھکے ہیں۔اُن کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دَم لیں گے۔

طلبہ تنظیموں کے ہوتے ہوئے یونینز کیوں؟

پاکستان میں طلبہ تنظیموں کی تاریخ بہت پرانی ہے، بلکہ کئی تنظیمیں تو نہ صرف یہ کہ قیامِ پاکستان سے قبل قائم ہو چُکی تھیں، بلکہ اُنھوں نے تحریکِ آزادی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ اِس وقت بھی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے طلبہ ونگز کام کر رہے ہیں، جن میں سے بہت سے تعلیمی اداروں میں بھی سرگرم ہیں۔ مُلک کا شاید ہی کوئی ایسا بڑا سرکاری تعلیمی ادارہ ہو، جہاں طلبہ تنظیمیں وجود نہ رکھتی ہوں۔ 

اُن کے وہاں جھنڈے لہراتے ہیں، جلسے ہوتے ہیں، استقبالی کیمپس، کُتب میلے، مینا بازار لگتے ہیں۔ ان تنظیموں نے تعلیمی اداروں کی حدود میں اپنے دفاتر یا جمع ہونے کے لیے مخصوص ٹھکانے بھی بنا رکھے ہیں۔ ان تنظیموں کے ارکان انتظامیہ سے بھی رابطے میں رہتے ہیں اور’’ ہر طرح‘‘ کے کام بھی نکلوا لیتے ہیں۔ 

اب سوال یہ ہے کہ جب تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیمیں وجود رکھتی ہیں اور بھرپور طور پر سرگرم بھی ہیں، تو پھر طلبہ یونینز کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟اس ضمن میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ، محمّد عامر اور پروگریسیو اسٹوڈنٹس کلیکٹیو خواتین وِنگ کی بانی، موحبہ احمد کا کہنا ہے کہ’’یہ وہی بات ہوئی کہ مُلک میں سیاسی جماعتیں تو ہوں، مگر پارلیمنٹ نہ ہو۔ 

یونینز ایک منتخب ادارہ ہے، اِس لحاظ سے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے اور طلبہ کے منتخب نمایندے ہی طلبہ کا مقدمہ زیادہ بہتر طور پر لڑ سکتے ہیں۔‘‘ اگر دیکھا جائے، تو طلبہ معمولی انتظامی کاموں کے لیے بھی تنظیموں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جن کا الگ الگ مزاج ہوتا ہے کہ بیش تر تنظیموں کے رہنما بنیادی اخلاقیات تک سے عاری ہوتے ہیں اور اُن کے کسی اچھے تعلیمی ریکارڈ پر نہیں، بلکہ مار دھاڑ اور دھونس دھمکی کی صلاحیت کی بنیاد پر آگے لایا جاتا ہے۔ 

وہ اپنی اس صلاحیت کو نہ صرف یہ کہ انتظامیہ، بلکہ طلبہ پر بھی آزماتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے عام طلبہ ان تنظیمی افراد سے خود کو دُور رکھنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر تعلیمی اداروں میں یونینز ہوں، تو اُن کے منتخب ارکان اور طلبہ تنظیمیں طلبہ کی زیادہ سے زیادہ حمایت کے حصول کے لیے اُن سے بہتر رویّہ اپنائیں گی۔پھر یہ یونینز چوں کہ ایک جمہوری عمل سے نمو پاتی ہیں، تو اُن کے ذریعے آگے آنے والے طلبہ قومی سطح پر بھی زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں، جیسے ماضی میں کئی نام وَر افراد طلبہ یونینز ہی کےپلیٹ فارم سے قومی منظر نامے پر اُبھرے۔

طلبہ یونینز ہونی چاہئیں…؟

کوئی ضرورت نہیں!!

ہمارے ہاں طلبہ یونینز کے حوالے سے دو طرح کی آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ تعلیمی ماحول کی بہتری اور طلبہ کی تربیت کے لیے اسے ضروری خیال کرتا ہے، تو بہت سے افراد طلبہ یونینز کو تعلیم کے لیے زہرِ قاتل قرار دیتے ہیں۔ حامیوں کے مطابق، طلبہ یونینز سیاسی شعور اجاگر اور قائدانہ صلاحیتیں نکھارنے کے ساتھ طلبہ اور انتظامیہ میں پُل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ جب کہ مخالفین کی رائے میں اس طرح کی سرگرمیوں سے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔ طلبہ تدریسی سرگرمیوں سے لاتعلق ہو کر بات بے بات ہڑتالیں، احتجاجی مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ کرنے لگ جاتے ہیں۔ 

یوں نہ صرف’’ لیڈر‘‘ طلبہ، بلکہ عام طلبہ کے بھی تعلیمی کیریئر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ سیاست دان اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے طلبہ کو استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، طلبہ یونینز کے حامیوں کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ’’ ان دنوں تو تعلیمی اداروں میں یونینز پر پابندی ہے، پھر وہاں آئے روز پُرتشدّد کارروائیاں کیوں ہو رہی ہیں؟‘‘نیز، قومی انتخابات کے دوران بھی بعض اوقات امن و امان کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، تو کیا قومی سطح پر بھی انتخابی عمل اور پارلیمنٹ کی تشکیل پر پابندی لگا دینی چاہیے؟

سینئر سیاست دان، جاوید ہاشمی کا ایک زمانے میں طلبہ سیاست میں طوطی بولتا تھا۔ وہ یونینز کی اونچ نیچ سے بخوبی واقف ہیں۔’’ کیا موجود حالات میں طلبہ یونینز کی بحالی ایک مناسب عمل ہوگا؟‘‘ اس سوال پر اُنھوں نے کہا’’کیوں نہیں۔ مَیں تو یونینز کا پُر جوش حامی ہوں، کیوں کہ اسی کی پیداوار ہوں۔اسکول سے پنجاب یونی ورسٹی تک یونینز کا عُہدے دار رہا۔یونینز طلبہ کی صلاحیتوں کے نکھار میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں اور متوسّط طبقے کے نوجوان ان سے تربیت پاکر مُلکی سیاست میں اہم مقام حاصل کرسکتے ہیں۔

جس زمانے میں یونینز ہواکرتی تھیں، طلبہ تنظیموں میں اختلافات کے باوجود باہمی تعلقات اچھے تھے، سب مل کر ادارے کا ماحول بہتر رکھنے کی کوشش کرتے، کیوں کہ اُنھیں ووٹ لینے کے لیے طلبہ کے پاس جانا ہوتا تھا۔ نیز،جب کبھی یونینز کو فنڈز ملے، اُنھوں نے انتہائی دیانت داری سے اُنھیں خرچ کیا۔ قیامِ امن میں بھی یونینز کا اہم کردار رہا ہے، کیوں کہ وہ طلبہ کی منتخب کردہ باڈی ہوتی ہے، جس کی طلبہ میں بات سُنی جاتی ہے۔اُن کا انتظامیہ کی نسبت طلبہ میں زیادہ اثر ورسوخ ہوتا ہے۔پھر یہ کہ طلبہ یونینز کے عہدے دار تعلیمی لحاظ سے بہت آگے ہوتے تھے۔ 

میرا تعلیمی ریکارڈ ہمیشہ اچھا رہا اور کراچی یونی ورسٹی یونین کے عُہدے دار تو فرسٹ کلاس فرسٹ ڈویژن کے حامل ہوتے۔یونینز پر پابندی کے بعد تعلیمی اداروں میں سیاسی جماعتوں کی مداخلت بڑھی ۔ منتخب پلیٹ فارم نہ ہونے کے سبب مصنوعی طریقے سے کنٹرول کی کوشش نے درس گاہوں کا ماحول متاثر کیا۔اگر اب بھی یونینز بحال ہوجائیں، تو حقیقی قیادت کے سامنے آنے سے تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کے راستے بند ہوجائیں گے۔‘‘

وزیر اعظم طلبہ یونین کی بحالی کے لیے تیار، سندھ حکومت کا بھی بڑا اعلان

وزیرِ اعظم، عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا’’ جامعات مستقبل کی قیادت تیار کرتی ہیں اور طلبہ یونینز اس سارے عمل کا لازمی جزو ہیں، لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونینز متحارب گروپس کا رُوپ دھار گئیں اور جامعات میں دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گیا۔

ہم دنیا کی صفِ اوّل کی جامعات میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع اور قابلِ عمل ضابطۂ اخلاق مرتّب کریں گے تاکہ طلبہ یونینز کی بحالی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے اُنہیں مستقبل کی قیادت پروان چڑھانے کے عمل میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکیں۔‘‘ اُدھر حکومتِ سندھ نے بھی طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی ترجمان، مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ’’ محکمۂ قانون نے اس سلسلے میں باقاعدہ مشاورت شروع کر دی ہے۔‘‘

بحالی ٹھیک، مگر کوئی ضابطہ بھی ضروری ہے

وزیر اعظم کا اعلان اور سندھ حکومت کا اقدام، سیاسی جماعتوں کا طلبہ سے یک جہتی کا اظہار سب خوش آیند باتیں ہیں اور یوں لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے ٹھوس پیش رفت سامنے آئے گی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرنا بھی مناسب نہ ہوگا۔ طلبہ یونینز کی بحالی سے قبل نہ صرف یہ کہ قابلِ عمل ضابطۂ اخلاق کی تیاری ضروری ہے، بلکہ اس پر عمل درآمد یقنی بنانا ہوگا تاکہ ایک مثبت اقدام کسی منفی شکل میں سامنے نہ آجائے۔ 

اس حوالے سے سینیٹ نے 2017ء میں طلبہ یونینز کی بحالی کی قرار داد کے ساتھ جو تجاویز پیش کی تھیں، اُن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان تجاویز میں الیکشن میں حصّہ لینے والے طالبِ علم کی حاضری کا پورا ہونا، تعلیمی کارکردگی کا اچھا ہونا اور اخلاقی اعتبار سے بہتر ہونا لازم قرار دینے کی سفارش کی گئی۔ 

الیکشنز کے دَوران پُرتشدد کارروائیوں اور دھاندلیوں کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا، تاہم اس طرح کی صُورتِ حال کی روک تھام کے لیے بھی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔ واضح رہے، ماضی میں یونینز انتخابات میں اُمیدوار کے لیے حاضری، تعلیمی قابلیت، مہم میں کم سے کم پیسے کے استعمال اور غیر اخلاقی ماحول سے اجتناب جیسی شرائط رکھی جاتی تھیں۔اس حوالے سے ایک اہم بات سیاسی جماعتوں کی مداخلت ہے۔ 

چوں کہ بدقسمتی سے ہمارا قومی سیاسی ماحول آئیڈیل نہیں رہا، جس کا اثر سیاسی جماعتوں کے طلبہ ونگز پر بھی مرتّب ہونے کے قوی امکانات ہیں، اگر ایسا ہوا تو تعلیمی ادارے طلبہ یونینز کی بحالی کی صورت میں سیاسی جماعتوں کے اکھاڑے کی شکل اختیار کرسکتے ہیں، جس سے طلبہ کو ناقابلِ تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔لہٰذا، یونین سازی کے مراحل میں بیرونی عناصر کی مداخلت ہر صورت ممنوع ہونی چاہیے۔

ہم صرف سوال پوچھنے کا حق چاہتے ہیں، عروج اورنگزیب

گزشتہ ماہ لاہور میں منعقدہ روایتی’’ فیض فیسٹیول‘‘ کے موقعے پر طلبہ نے بِسمل عظیم آبادی کی ایک پُرانی نظم ’’سرفروشی کی تمنّا اب ہمارے دِل میں ہے…دیکھنا ہے، زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘‘، کچھ اس انداز سے پڑھی کہ کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود اُس کی گونج باقی ہے۔نوجوانوں کے اس گروپ میں چمڑے کی سیاہ جیکٹ پہنے لڑکی سب سے نمایاں اور پُرجوش تھی۔ اس لڑکی پر اگر تنقید ہوئی، مذاق اُڑایا گیا، طرح طرح کے جملے کسے گئے، تو دِل کھول کر تعریف بھی کی گئی۔ 

عروج اورنگزیب، پروگریسیو اسٹوڈنٹس کلیکٹیو کی سرگرم رُکن ہیں اور عوام کے جمہوری حقوق کے تحفّظ کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔’’ اُس نظم کے بعد آپ کی تحریک کچھ رُک سی گئی ہے؟‘‘ اس سوال پر عروج کا کہنا تھا’’نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ عوام نے ہماری اُس سرگرمی پر جس طرح کا ردِ عمل دیا ہے، اُس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا پیغام بہت پھیلا ہے اور اُس کے بعد سے عوام نے ہم سے بہت سی توقّعات بھی وابستہ کر لی ہیں، جس کی وجہ سے ہم نفسیاتی طور پر بہت دباؤ میں بھی ہیں۔ 

عام افراد کو ویڈیو تو نظر آ رہی ہے، مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس کے پیچھے طلبہ کی کتنی محنت ہے۔‘‘’’آپ کیا چاہتی ہیں؟‘‘ اُنھوں نے جواباً کہا’’ ہم طلبہ حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں، جس میں یونینز کی بحالی بھی شامل ہے۔ ہم تو صرف سوال پوچھنے کا حق چاہتے ہیں، جو ہمارا آئینی حق ہے۔ 

جب آپ سوال نہیں پوچھنے دیں گے، صرف جواب کا رٹّا لگوائیں گے، تو معاشرے، خاص طور پر طلبہ اور نوجوانوں میں بہت سے اُلجھنیں جنم لیں گی۔ ہم پر طرح طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے، کس کس سے جوڑا جا رہا ہے، حالاں کہ ہمارا فوکس صرف طلبہ حقوق پر ہے۔ ہم تو صرف مُلک کی تعمیر و ترقّی چاہتے ہیں۔‘‘

محنت رنگ لارہی ہے،محمد عامر، ناظمِ اعلیٰ، اسلامی جمعیت طلبہ

اسلامی جمعیت طلبہ23 دسمبر 1974ء کو لاہور میں قائم ہوئی۔ اس کا شمار پاکستان کی بڑی طلبہ تنظیموں میں ہوتا ہے اور ماضی میں طلبہ یونینز کے انتخابات میں اس کے امیدوار بڑی تعداد میں کام یابی بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ، محمّد عامر حالیہ ڈویلپمنٹ پر بہت خوش ہیں اور اس حوالے سے اُن کا کہنا ہے کہ’’اسلامی جمعیت طلبہ نے طلبہ حقوق کے تحفّظ کے لیے ہر سطح پر جنگ لڑی۔ 

ہم نے اعلیٰ عدالتوں کے دروازوں پر دستک دی، ایوانوں میں آواز اٹھائی، عوامی فورمز پر بات کی، اگر آج تمام سیاسی جماعتیں اور عوامی حلقے طلبہ کو ان کے حقوق دینے کی بات کر رہے ہیں، تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری محنت رنگ لا رہی ہے۔‘‘ ایک سوال پر اُن کا کہنا تھا ’’طلبہ یونینز، طلبہ تنظیموں کا ایسا ہی ادارہ ہے، جیسے سیاسی جماعتوں کے لیے پارلیمنٹ۔ اب اگر سیاسی جماعتیں تو ہوں اور پارلیمنٹ نہ ہو، تو اُس نظام کو کسی صورت جمہوری قرار نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح تعلیمی اداروں سے طلبہ یونینز کا خاتمہ درحقیقت طلبہ کو بے آواز کرنا ہی ہے۔ 

یونی ورسٹیز کے آئین میں درج ہے کہ سنڈیکیٹ میں طلبہ کا بھی نمایندہ موجود ہوگا، جسے یقیناً یونینز ہی کے ذریعے منتخب کیا جائے گا، مگر یونینز نہ ہونے کی وجہ سے سنڈیکیٹ میں طلبہ اپنی نمایندگی سے محروم ہیں۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں سے تعلق کی بات ہے، طلبہ تنظیموں کا سیاسی جماعتوں سے نظریاتی تعلق تو ہوتا ہے اور پوری دنیا میں ایسا ہی ہے۔ تاہم، ہم یہ ہر گز نہیں چاہیں گے کہ جو کچھ مُلکی سیاست میں ہو رہا ہے، وہ تعلیمی اداروں میں بھی ہو۔ 

خوشی کی بات ہے کہ قومی اسمبلی میں بھی یہی بات کہی گئی کہ سیاست دانوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طلبہ تنظیموں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ہم گزشتہ دنوں ہونے والے طلبہ مارچ کی حمایت کرتے ہیں، تاہم اُنھیں یہ پیغام بھی پہنچایا ہے کہ وہ کسی کے ہاتھوں کھلونا نہ بنیں۔ کیوں کہ اس سے طلبہ تحریک پر منفی اثرات مرتّب ہوں گے۔‘‘

’’بھرپور مشاورت ضروری ہے‘‘ … ڈاکٹر پیر زادہ قاسم…

پروفیسر ڈاکٹر، پیر زادہ قاسم رضا صدیقی نام وَر ماہرِ تعلیم، ادیب، شاعر اور دانش وَر ہیں۔ وہ جامعہ کراچی سمیت کئی یونی ورسٹیز میں وائس چانسلر کے منصب پر فائز رہے۔ طلبہ سیاست کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا’’ قیامِ پاکستان ہی سے طلبہ تنظیمیں تعلیمی اداروں میں سرگرم ہیں اور وہاں اُن کی یونینز بھی ہوتی تھیں۔

بلاشبہ، ان یونینز اور تنظیموں نے تعلیمی ماحول کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا، ان کے تربیت یافتہ طلبہ نے آگے چل کر سیاست سمیت کئی شعبوں میں نام کمایا۔ تاہم، پھر ایک ایسا وقت آیا، جب سیاسی جماعتوں نے ان تنظیموں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا، جن سے مسائل نے جنم لیا۔ 

صدر ضیاء الحق نے طلبہ یونینز پر پابندی عاید کی، تو بہت سے افراد نے تحفّظات کا اظہار کیا تھا، کیوں کہ خرابیوں کا یہ مطلب نہیں تھا کہ سِرے سے نظام ہی لپیٹ دیا جاتا۔ طلبہ کو کوئی متبادل راستہ دیا جانا ضروری تھا۔ خود مَیں نے کئی تجاویز ارسال کیں، جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ شعبہ جاتی سطح پر طلبہ کے نمایندے مقرّر کیے جائیں اور پھر ان نمایندوں پر مشتمل پورے ادارے کی سطح پر کوئی سوسائٹی وغیرہ تشکیل دے دی جائے۔ ضیاء الحق کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے بھی اس ضمن میں سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔ 

اس عرصے میں سیاسی جماعتوں کا بھی طلبہ تنظیموں میں اثر ورسوخ بڑھ گیا، جس کے نتائج سامنے ہیں۔ اب اتنے طویل عرصے کے بعد طلبہ یونینز بحال کی جا رہی ہیں، تو ہمیں اسے خوش آمدید کہنا چاہیے۔‘‘ اُنھوں نے تجویز دی کہ’’ طلبہ یونینز کی بحالی سے قبل ماہرین پر مشتمل ایسی کمیٹیاں تشکیل دینی چاہئیں، جو ایسا طریقۂ کار طے کریں، جس سے یہ عمل خوش اسلوبی سے طے ہو سکے۔‘‘

’’ معاملہ مزید 10 سال نہ چھیڑا جائے‘‘ … ڈاکٹر عطاء الرحمٰن …

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن، معروف سائنس دان، ماہرِ تعلیم ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چئیرمین اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر رہے۔’’ کیا طلبہ یونینز ضروری ہیں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا’’جب طلبہ یونینز تھیں، تو تعلیمی اداروں میں ہنگامے ہی ہوتے تھے، کیوں کہ اُنھیں سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ کہنے کو ضابطۂ اخلاق بھی طے تھا، مگر اُس پر عمل درآمد نہیں ہوتا تھا اور اب بھی یہی ہوگا۔ 

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طلبہ کی غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے انتظامات ہونے چاہئیں۔ ڈیبیٹس ہوں، سماجی سرگرمیاں ہوں، کھیل کود کے مقابلے ہوں، مگر سیاسی جماعتوں کے لیے دروازے نہیں کھولنے چاہئیں۔ہم مغرب کی دیکھا دیکھی طلبہ یونینز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مگر ہمارے ہاں ماحول کچھ اور ہے۔ 

طلبہ تنظیمیں اور اُن کی یونینز انتظامی معاملات میں بہت زیادہ مداخلت کرتی ہیں، جائز، ناجائز کاموں کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، داخلے کروائے جاتے ہیں، جس سے ماحول خراب ہوتا ہے، سو، میری رائے یہ ہے کہ یونینز تب ہی بحال کی جائیں، جب ہمارے ہاں کچھ میچوریٹی آجائے، سیاسی جماعتیں اپنی ذمّے داریوں کا ادراک کرلیں۔ ابھی اس معاملے کو مزید پانچ، دس سال التوا میں رکھنا چاہیے۔‘‘

ایک تصویر جس پر بہت تنقید ہوئی

طلبہ مارچ کے دوران سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی، جس میں لڑکیاں ایک شخص کے گلے میں رسّیاں ڈال کر کھینچ رہی تھیں۔ اس تصویر پر بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی اور کہا گیا کہ اس منظر میں بے ہودہ انداز میں مَردوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مارچ کے منتظمین نے اسی سے متعلق ایک سوال پر بتایا’’ اُس تصویر میں دِکھائے جانے والے منظر کا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا، جو اخذ کیا گیا۔ دراصل ایک ڈراما پیش کیا گیا، جس میں رسّیوں میں جکڑی لڑکی مجبور و بے بس’’ طلبہ‘‘ کی علامت تھی اور کھینچنے والے تعلیمی اداروں کی ’’انتظامیہ‘‘ کی عکّاسی کر رہے تھے۔‘‘

کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں،پروگریسیو اسٹوڈنٹ کلیکٹیو

’’پروگریسیو اسٹوڈنٹ کلیکٹیو‘‘ طلبہ سیاست کا ایک نیا نام ہے۔ اس تنظیم نے ستمبر 2016 ء سے اسٹڈی سرکلز کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور اب کئی شہروں تک اپنا تنظیمی نیٹ ورک بڑھا چُکی ہے۔ اسی تنظیم کے زیرِ اہتمام 29 نومبر کو پچاس سے زاید مقامات پر’’ اسٹوڈنٹس مارچ‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ زاہد علی، پی ایس سی کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رُکن ہیں۔ 

یہ طلبہ مانگیں ’’یونین‘‘
موحبہ احمد

اُنہوں نے جی سی یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا اور اِن دنوں لمز سے ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر وابستہ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ’’ ہمارے بنیادی مطالبات طلبہ یونینز کی بحالی، ایچ ای سی کے بجٹ میں کٹوتی کی واپسی، جی ڈی پی کا کم ازکم پانچ فی صد تعلیم پر خرچ، طلبہ سے سیاست میں حصّہ نہ لینے کے حلف نامے کا خاتمہ اور تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ کے واقعات کے خلاف سخت کارروائی پر مشتمل ہیں۔‘‘ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ ہماری اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی میں سندھ، بلوچستان اور کے پی کے، کی طلبہ تنظیموں کی بھی نمایندگی ہے، جنہیں بعض معاملات پر کچھ اداروں سے شکایات ہیں، تو اُن کے رہنماؤں نے دورانِ خطاب اُن شکایات یا اپنے مطالبات کا اظہار کیا تھا۔‘‘موحبہ احمد پروگریسیو اسٹوڈنٹس کلیکٹیو، خواتین ونگ کی بانی ہیں۔ 

یہ طلبہ مانگیں ’’یونین‘‘
زاہد علی

اُن کا کہنا تھا’’ہم نے55 شہروں میں طلبہ حقوق کے لیے مارچ کیا۔ ہم عوام اور حکم رانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صرف طلبہ تنظیموں کا ہونا کافی نہیں، بلکہ تعلیمی اداروں میں اُن کی یونینز بھی ہونی چاہئیں۔ طلبہ تنظیموں کی قیادت خود ساختہ ہوتی ہے اور یہ کسی جمہوری یا انتخابی عمل سے گزر کر نہیں آتی، پھر یہ کہ ان میں اندرونی احتساب کا عمل بھی نہیں ہوتا۔

یوں یہ تنظیمیں عام طلبہ کی نمایندگی نہیں کرتیں۔ان کے اپنے ہی مقاصد ہوتے ہیں یا پھر یہ اپنی مادر سیاسی جماعتوں کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کام کرتی ہیں۔‘‘ اُن کا مزید کہنا تھا’’ہمارا ایجنڈا بالکل واضح ہے، جو آئینی اور قانونی ہے۔ہمارا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، ہم اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ہمیں بلاوجہ مختلف گروپس سے جوڑا جا رہا ہے۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید