• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر ڈاکٹر سیّد اقبال عالم

صحت بخش ،متوازن غذاسے مُراد ایسی غذاہے، جس میں ایسےتمام ضروری اجزاء پائے جائیں ،جوجسم کی نشوونما اور اعضاءکی کارکردگی فعال رکھنے میں مفید ثابت ہوں۔قدرت نےمختلف اجناس کے ساتھ متعدّداقسام کے پھل، سبزیاں بھی پیدا کیے تاکہ ان کےاستعمال سے متوازن غذاکا حصول ممکن ہوسکے، لیکن افسوس کہ ہم نے سبزیوں کی افادیت نظر انداز کرتے ہوئے جہاں ان کا استعمال محدود کردیا ہے، وہیں تازہ پھلوں سے بھی کچھ خاص رغبت باقی نہیں رہ گئی۔ 

یاد رکھیے، سبزیاں اور پھل جہاں غذائیت کا ماخذہیں، وہیں ان کے استعمال سے کئی بیماریوں سےبھی تحفّظ حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ گاجر،جس کا شمارسبزی اور پھل دونوں میں کیا جاتا ہے،بے پناہ افادیت کی حامل ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ عیسوی دَور سے قبل بحیرہ ٔروم کے علاقوں میں گاجر کاشت کی جاتی تھی اور یونانی اور رومن اسے غذا کی بجائے دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ دسویں صدی عیسوی میں(وہ جغرافیائی علاقے، جن میں آج کل ایران اور ترکی شامل ہیں)پہلی بار گاجر کو غذائی فصل کے طور پر کاشت کیا گیا۔ 13ویں صدی عیسوی میں یہ چین اور شمال مغربی یورپ میں متعارف ہوئی، تو اسی دَور میں برطانیہ کی خواتین نےگاجر کے سبز پتّے والے سِرے کو بالوں اور ہیٹس کی آرایش کے لیے استعمال کیا کہ وہاں کے باشندےگاجر کے فوائد سے واقف نہیں تھے۔لیکن اب دُنیا بَھر میں گاجر اپنی افادیت کے باعث غذائی اجزاء کا خزانہ تسلیم کی جاتی ہے۔

اس وقت دُنیابھرمیں گاجرکی پیداوار کے اعتبار سے چین سرِ فہرست ہے۔ موجودہ دَور میں گاجر، نارنجی اور ہلکے سُرخی مائل نارنجی رنگ میں دستیاب ہے، مگر ابتدائی دَور میں جامنی،سُرخ ، پیلے اور سفید رنگوں میں کاشت کی جاتی تھی۔ ممکن ہے کہ گاجر ان رنگوں میں دُنیا کے کسی حصّے میں اب بھی دستیاب ہو۔کہا جاتا ہے کہ ہالینڈ کے کاشت کاروں نے 17ویں صدی عیسوی میں ڈچ تحریکِ آزادی کی سربراہی کرنے والے رہنما ،ولیم آف اورنج سے اظہارِمحبّت کے لیے Cross breed کے ذریعے پیلے رنگ سے نارنجی رنگ کی گاجر کاشت کی اور اب اسی رنگ کی گاجر دُنیا بَھر میں عام ہے۔ گاجر وٹامن اے،سی ،ڈی، ای اور بی6کا ماخذ ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ مثلاً:

٭امراضِ چشم میں فائدہ مند:گاجر کا استعمال آنکھوں کے لیے نہایت مفید ہےکہ اس میں بیٹاکیروٹین (Beta Carotene) وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ مادّہ دوسری سبزیوں مثلاً پالک، گوبھی،جب کہ پھلوں میں آم اور نارنگی میں بھی پایا جاتا ہے۔ بیٹا کیروٹین آنتوں میں جذب ہوکر جگر میں بائل ترشے یا صفرائی ترشے کی موجودگی میں وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو بعد ازاں ،ریٹینا میں بنفشی پِگمنٹ(Rhodopsin)میں تبدیل ہوکر رات میں دیکھنے (Night Vision) کی صلاحیت بہتر رکھنے کے علاوہ کچھ طبّی مسائل مثلاً شب کوری،پردۂ چشم میں خرابی اور بڑھتی عُمر میں موتیےسے بھی محفوظ رکھتاہے۔

٭عُمر رسیدگی کے اثرات نمایاں نہ ہونے دینا :گاجرمیں وٹامن سی کی موجودگی جسم میں کولیجن(Collagen) بناتی ہے۔ یہ ایک قسم کا پروٹین ہے،جو جِلد کی لچک برقرار رکھنے سمیت چہرے پر جُھرّیاں پڑنے نہیں دیتا، جب کہ گاجر میں موجود وٹامن اے، اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کی وجہ سے آزاد ریڈیکل پراثر انداز ہوکر بڑھاپے میں جُھرّیاں پڑنے اورچہرے کےداغ دھبّوںسے محفوظ رکھتا ہے۔

گاجر میں وٹامن ای بھی پایا جاتا ہے،جو اینٹی ایجینگ ہے،لہٰذا جو افراد گاجر کا باقاعدہ استعمال کرتے ہیں،بڑھاپے میں ان کی جِلد عُمر رسیدگی کے اثرات سے کافی حد تک محفوظ رہتی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتی عُمر میں جسم، ہڈیوں کے درد اور آسٹیوپوروسس سے بھی تحفّظ ملتا ہے۔

٭سرطان سے تحفّظ:حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بیٹاکیروٹین کئی جسمانی اعضاء مثلاً پھیپھڑوں، معدے اورمثانے کے سرطان سے تحفّظ فراہم کرنے کے علاوہ خلیات کی جھلّی کو تکسیدی دبائو (Oxidative stress) سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔نیز، یہ سرطان کے خلیات کے لیے Inhibition خصوصیت کابھی حامل ہے۔ گاجر میں تقریباً77 فی صد بیٹا کیروٹین پایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں پایا جانے والا ایک اور جُزو Falcarinol بھی سرطان کے خلیات کی نمو سُست کرنے یا روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

٭جِلد کی نمی برقرار رکھنا:جسم میں پوٹاشیم کی کمی کے سبب اکثر جِلد خشک ہوجاتی ہے،جب کہ گاجر کے استعمال سے اس میں موجودپوٹاشیم کی خاص مقدار کے سبب جِلد نم رہتی ہے۔

٭ذیابطیس اور کولیسٹرول کنٹرول: گاجرکا استعمال ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے کہ اس میں موجودCarotenoids اپنے کیمیائی عمل کے سبب خون میں شکر کی سطح متوازن رکھتا ہے، جب کہ حل پذیر غذائی ریشے، کولیسٹرول کم کرنے کے علاوہ نظامِ ہاضمہ درست رکھتے ہیں اور قبض کی شکایت بھی نہیں ہوتی۔

٭دفاعی نظام کےلیے مؤثر: گاجرمیں موجود وٹامن سی، سفید خلیات کی سرگرمی کو تحریک دے کر مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے۔

٭بالوں کی افزایش:سَر کی جِلد کا دورانِ خون بہتر ہونے کے نتیجے میں بال گھنے، مضبوط اور چمک دارہوجاتے ہیں۔

٭ داغ دھبّوں کا علاج: اگر چہرے یاجِلد پر معمولی نوعیت کے زخم کے دھبّے یا ایسے داغ ہوں، جن سے خُوب صُورتی متاثر ہوتی ہو، تو اس کے لیے گاجر کا جوس پینے کے ساتھ اگر گاجر کا گُودا(نرم پیس کر)متاثرہ جگہ پر لگالیا جائے،تو چند ہی دِنوں میں جِلد صاف ہوجاتی ہے۔

تازہ ترین