آپ آف لائن ہیں
پیر3؍صفر المظفّر 1442ھ 21؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
خیال تازہ _… شہزادعلی
برطانیہ کے عام انتخابات کا عمل چونکہ ابھی تازہ تازہ ہی تکمیل پذیر ہوا ہے،کنزرویٹیو پارٹی کی اس مرتبہ پھر کامیابی بعض پاکستانی کشمیری روایتی لیبر گھرانوں پر بھی چاہے محدود پیمانے پر سہی مگر اپنے اثرات مرتب کررہی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی دیکھا دیکھی لیبر پارٹی کو ووٹ ڈالتے رہے، مگر پارٹی نظریات سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ اسی طرح انفرادی طور پر آپ بعض ایسے سیاسی کردار بھی اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں پائیں گے جن کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کنزرویٹیو پارٹی کی پولیٹیکل فلاسفی کیا ہے ؟ لبرل ڈیمو کریٹ آخر کیوں تیسری جماعت ہی رہنا چاہتی ہے ؟یا پھر لیبر کی انفرادیت کیا ہے؟ مگر یہ دلچسپ سیاسی کردار ان تمام نظریات سے ماورا ہوکر بس اس موقع کی تلاش میں دکھائی دیں گے کہ کسی طرح بھی وہ کونسلر اور ایم پی منتخب ہو جائیں۔ اس عمل کو موقع پرستی ہی قرار دیا جائے گا۔ ہاں اگر کوئی شخص کسی پارٹی میں طویل مدت کام کرکے دیانت داری سے یہ سمجھتا ہو کہ یہاں پر تگ و دو کرنا کار لاحاصل ہے اور وہ کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرے اور واضح کرے کہ ایک جماعت سے علیحدگی کا یہ فیصلہ کسی ذاتی مقصد کے لئے نہیں بلکہ کمیونٹی کے اعلیٰ وارفع مقاصد کو سامنے رکھ کر کیا جارہا ہے اور پھر کمیونٹی کو

ساتھ لے کر چلا جائے تو یقینی طور پر سیاسی معاملات اور اپروچ میں ایسا ہونا قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ ہر چند کہ شروع میں مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، مگر خاص طور پر جب ایک شخص ایک پارٹی سے صرف اس لئے رستہ بدل لے کہ اس کی اپنی نااہلیوں نے اب پارٹی کے اندر مزید اس کے لئے گنجائش نہیں چھوڑی تھی اور بس سیاسی پینترا بدل کر کسی دوسری جماعت میں “امیدواری “ کی خاطر شمولیت کرلے یا کسی اور طرح سے سیاسی قوت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے جو کمیونٹی کی عمومی سوچوں سے متصادم ہو تو اس طرح کے امیچور فیصلے وسیع سطح پر کمیونٹی کی حمایت حاصل نہیں کر سکتے۔ اسی طرح سیاست میں داخل ہونے کے خواہشمند بعض نئے امیدوار ایسے ہیں جو پارٹیوں کے پس منظر، مینی فیسٹوز، منشور اور تاریخی کردار جاننے کے تردد میں پڑنے کے بجائے ہر صورت میں نمائندہ بننے کے متمنی ہیں جبکہ بعض پختہ ذہن رکھنے والے افراد کی یہ سوچی سمجھی اور دیانت دارانہ رائے ہے کہ چاہے آپ کوئی بھی جماعت جوائن کریں مگر اس سے پہلے دستیاب تمام جماعتوں کے پس منظر اور منشور کا بغور مطالعہ کریں اور پھر ہی کوئی ذہن بنائیں ۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ برطانیہ میں قومی سطح پر مختلف پولیٹیکل ویوز پائے جاتے ہیں، برطانیہ میں آپ چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی اختیار کریں یا نہ کریں پانچ برطانوی ویلیوز، اقدار کو اپنا اوڑھنا بچھونا ان کی پرموشن اور ترویج کو فرض منصبی خیال کیا جاتا ہے اور یہی مدر آف ڈیموکریسی جمہوریت کی ماں کی کلید ہے:اوّل : ڈیموکریسی، ملک کو گورن کرنے اور چلانے کا رستہ جس میں عوام کی رائے مقدم ہے ۔ دوم: رول آف لاء ، یقینی قانون کی پاسداری کا تصور لیگل اور جسٹس سسٹم میں قطع نظر آپ کا تعلق کس طبقہ سے ہے سب کو مساوی طور پر ٹریٹ کیا جاتا ہے۔سوم: میوچل ریس پکٹ mural respect ، آپ کا چاہئے کیا ہی نظریہ ہو مگر دوسروں کے اعتقادات، آراء نظریات کا احترام کیا جائے۔ چہارم: اس امر کو یقینی بنانا کہ تمام مذاہب کو عبادت کی آزادی ہے۔ پانچواں اصول شخصی آزادی، افراد کو انفرادی طور پر یہ حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کا لائف سٹائل طرز زندگی اپنا سکتے ہیں اور اپنی آراء اور چوائیسز میں آزاد ہیں۔ یہاں کے پولیٹیکل سپیکٹرم(Political Spectrum ) پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ برٹش نیشنل پارٹی (BNP )کو انتہائی دائیں فار رائٹ ونگ جانب کے نظریات کا گروہ خیال کیا جاتا رہا ہے، انگلش ڈیفنس لیگ (EDL) اور بریگزٹ پارٹی انہی حوالوں سے مختلف سطح پر سرگرم عمل رہی ہیں، موجودہ حکمران کنزرویٹیو پارٹی کو دائیں بازو کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سمجھا جاتا ہے، سنٹرل میں لبرل ڈیمو کریٹ کو امتیازی مقام حاصل رہا ہے۔ انتہائی دائیں طرف مار کسی نظریات کے پرچارک گروہ ہیں اور بائیں میں لیفٹ ونگ پولیٹیکل اپوزیشن لیبر پارٹی ہے۔پہلے دائیں طرف کے نظریات سے شروع کرتے ہیں، دائیں بازو رائٹ ونگ کے حامل یہ یقین رکھتے ہیں کہ معاشرے میں کلاس درجہ بندی یہ نیچرل فطری امر ہے۔ اور نارمل بات ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک کلاس سسٹم آئیڈیا ایک صحت مند سوچ ہے، یہ ایک نیچرل آرڈر ہے، طبقہ امراء کے کاروبار ان کی اقتصادی معاشی پالیسیوں سے بالاخر غرباء ہی مستفید ہوتے ہیں ان کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں ۔ حکومتی کاروبار ایوان بالا اور ایوان زیریں میں ان نظریات کی زیادہ سے زیادہ نمائندگی سے یہ طبقہ روساء کے لئے زیادہ سے زیادہ اکنامک فریڈم اور کم ٹیکس پر مبنی پالیسیوں کو عروج دیتا ہے، ان کی یہ آرگومنٹ رہی ہے کہ جب بڑے بزنسز بڑھتے ہیں، حجم اور پھیلاؤ میں وسعت پیدا ہوتی ہے تو ورکرز کلاس کے لئے جابز ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا ہوتے ہیں۔لیبر اور دیگر بائیں بازو کی اہمیت کیا ہے؟ ان کا یقین ہے کہ کلاس سسٹم درجہ بندی سرمایہ کار نظام کی پیدا کردہ اور مصنوعی ہے۔ ان کی فلاسفی ہے کہ سوسائٹی باہم مل کر کام کرتی ہے ، ورک ٹو گیدر، جیرمی کوربن اور ان کی طرح کے کامریڈز کی یہ آرگو argue، بحث کا نقطہ ہے کہ اس درجہ بندی تفاوت کو کم کرنے کے لئے امیر زیادہ ٹیکس کے ذریعے مدد کریں۔ زیادہ ٹیکس کے ذریعے امیر اور غریب کے مابین گیپ gap کم کیا جائے۔دنیا کے کئی دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی مڈل اور اپر کلاس کے افراد اپنی دنیا میں مست ہیں، اور خر مستیوں میں مصروف ہیں، ان کو غریب طبقہ کے کنسرنز، ٹربلز، تفکرات مسائل اور پریشانیوںconcerns and troubles of poor سے کوئی کنسرن تعلق نہیں، ممبرز آف دی اپر کلاس اور مڈل کلاس مکمل یا بڑی حد تک ورکنگ کلاس سے بے خبر ہیں۔برطانوی سیاسی نظام کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک جائزہ کار، پولیٹکل اینالسٹ، ماضی بعید اور ماضی قریب کے بریٹن کے اجزائے ترکیبی سے کما حقہ واقف ہو۔ کم ازکم دو عالمی جنگوں کے پس منظر اور انکے اس سوسائٹی پر پڑنے والے اثرات کو بھی پیش نظر رکھا جائے ورنہ اس طرح کے کسی جائزہ سے انصاف ممکن نہیں۔ باالفاظ دیگر ایک کالم کے لئے کالم نگار کو اپنی راتوں کی نیند ہی نہیں خون جگر کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑتا ہے، تب ہی ایک قاری کی دلچسپی کا سامان مہیا کیا جاسکتا ہے۔سو، جب ہم صرف ایک صدی کے قبل کے برطانیہ پر ایک نظر دوڑائیں تو برطانوی سوسائٹی کی ہیت ترکیبی آج کی طرح نظر نہیں آتی۔ برطانوی معاشرہ کلاس درجہ بندی میں تقسیم تھا،اس پس منظر میں 1906 میں لیبر پارٹی کی تشکیل پائی تاکہ ورکنگ کلاس کے مفادات کی نمائندگی ہوسکے،صرف مرد اور وہ بھی جو پراپرٹی کے مالک ہوں ووٹ ڈال سکتے تھے۔ قومی انتخابات میں خواتین کو قطعی طور پر ووٹ دینے کی اجازت نہیں تھی، آج کی نسبت بہت زیادہ حد تک خواتین کی زندگیوں کو ان کے خاوند اور خاندان کنٹرول کرتے تھے۔آج کی طرح کی حکومت کی ضرورت مند لوگوں کے لئے مدد دستیاب نہیں تھی۔ حاجت مند افراد خیراتی اداروں کے محتاج تھے۔بڑے یورپی ممالک کے مابین سخت تناو کی سطح عروج پر تھی۔ جو پہلی جنگ عظیم 1914 تا 1918 کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ یہ ایک بدترین تنازع تھا جس کی قیمت کئی ملین افراد کو جانوں کی شکل میں ادا کرنا پڑی۔جنگ کے بعد بہت سے برطانوی باشندوں نے جنگ کے دوران اپر کلاس (Upper Class) کی جانب سے مہیا کی گئی قیادت کی صلاحیت پر سوال اٹھائے۔1945 تک وقت اگرچہ بدل چکا تھا مگر اب بھی بدستور کئی مسائل موجود تھے۔ایک تو برطانیہ بدستور کلاس (class) کی درجہ بندی کے اعتبار سے منقسم تھا، لیکن 1928 تک تمام مرد اور خواتین جن کی عمریں 21 سال سے اوپر تھیں کو ووٹ کا حق تفویض ہوگیا، جس کا مطلب تھا کہ طاقت، پاور (power ) کو اب زیادہ ہموار طور پر شیئر کیا جا رہا تھا۔دوسرا، ابھی تک کاروباری مالکان اور کارکنوں، ورکرز کے درمیان تنازعات چل رہے تھے، جیسا کہ 1926 کی عام ہڑتال (General Strike) جس کے باعث بہت سی اہم صنعتوں کو ہالٹ (halt) کی پوزیشن پر پہنچا دیا۔تیسرا1939 کے عرصے میں گلوبل اکنامک سلمپ(Global Economic Slump) جسے ڈپریشن (Depression ) کے نام سے جانا جاتا ہے نے بہت سی برٹش انڈسٹریز کو نشانہ بنایا، بے روزگاری میں بے حد اضافہ ہو گیا اور مزید کئی ورکروں کو سخت غربت اور افلاس کا سامنا کرنا پڑا۔بیسویں صدی کے ابتدائی عرصہ میں واضح کلاس سٹرکچر تھا، اس کلاس درجہ بندی میں ویسے تو کئی چیزوں کا مرکب تھا مگر زیادہ تر تعلق دولت، روپے پیسے کا تھا،وہ جن کے پاس پیسہ تھا یا نہیں تھا۔جے بی پریسلیُ کا ایک انسپکٹر کالAn Inspector Call by J.B. Priestleyاس پس منظر پر بڑی حد تک روشنی ڈالتا ہے۔ورکنگ کلاس وہ تھی جو ہر طرح کےسخت محنت طلب کام کرتی تھی مگر پھر بھی بہت کم پیسہ اس کے پاس ہوتا۔ مڈل کلاس، فیکٹریوں کے مالک یا پروفیشنلز ان کے پاس دولت کی ریل پیل اور فراوانی تھی اور اختیارات تھے، اور اپر کلاس، جو اکثر پیدائشی لارڈز اور لیڈیز تھیں زمین کی بہتات تھی اور پیسے کی کثرت۔ کلاس سسٹم کا معنی یہ تھا کہ لوئر کلاس کے لوگ بہت متاثر تھے۔پھر باقی کسر جو رہتی تھی وہ دوسری جنگ عظیم نے نکال دی، 1919 سے 1945 تک ہر درجہ سے متعلق ملینز کی تعداد میں افراد نے برطانیہ کے لئے جنگ میں حصہ لیا، اب جنگ کے بعد لوگ یہ چاہتے تھے کہ کیسے اس سوسائٹی کو بہتر بنایا جائے ۔عالمی جنگوں نے لوگوں کو برطانیہ کے سوشل سٹرکچر پر سوال اٹھانے کے مواقع مہیا کر دیئے۔ سوشل ازم اور دیگر لیفٹ ونگ آئیڈیاز جنہوں نے دولت اور طاقت کی زیادہ مساوی طور پر تقسیم اور شیئرنگ کے تصورات دیئے۔ زیادہ مقبول، پاپولر ہوگئے، کیونکہ رائٹ ونگ کے نظریات زیادہ پرائیوٹ ملکیت اور دولت کے نظریات پر مشتمل تھے، دی لیبر پارٹی اس پس منظر میں 1945 کا عام انتخاب ، جنرل الیکشن لینڈ سلائیڈ سے جیتی۔جب آپ بتدریج مختلف دہائیوں کے اس صدی کے واقعات کا مشاہدہ کرتے ہوئے حالیہ الیکشن تک پہنچتے ہیں تو بھی یہ دیکھا جاسکتاہے کہ جیرمی کوربن نے جو درج ذیل 10 وعدے کئے تھے: فل ایمپلائمنٹ، ایک محفوظ گھر کی ضمانت، کام پر تحفظ، ایک محفوظ قومی محکمہ صحت اور سوشل کیئر، ایک قومی تعلیمی سروس، ہمارے ماحولیات کو محفوظ بنانے کے لئے ایکشن، قومی معیشت میں پبلک واپسی،آمدن اور دولت میں عدم مساوات کو کم کرنا، ایک مساوی سوسائٹی کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھانا اور خارجہ پالیسی کا محور امن اور انصاف۔ یہ دراصل ایک نظریئے کا تسلسل تھا اور یہ وہ انقلابی منشور تھا اگر لیبر کو موقع دے دیا جاتا تو شاید کسی حد تک ہی سہی کلاس درجہ بندی میں کمی آجاتی۔اسی طرح کنزرویٹیو پارٹی کے نظریات کو گہرائی سے دیکھا جائے تو اس کے گائیڈنگ پرنسپلز guiding principles میں پرائیوٹ جائیداد کی ملکیت اور انٹر پرائز کی پر موشن شامل ہے ، یہ ملٹری کی بھی حمایتی ہے اور روایتی کلچرل ویلیوز اور اداروں کے بچاو کی دعویدار ہے ، انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کے مطابق جنگ عظیم اوّل سے لے کر اب تک کنزرویٹیو اور اس کی مخالف لیبر پارٹی نے برطانیہ کی سیاسی زندگی کو گھیر رکھا ہےاور لبرل ڈیمو کریٹس لبرل ازم اور سوشل ڈیمو کریسی کا مرقع ہیں۔ ان کے بھی تاریخی طور پر گہرے روٹس ہیں، یہ وسیع تر معنوں میں لیفٹ ونگ، مرکزی اور رائٹ ونگ عناصر کا مجموعہ ہے، تمام لبرلز شخصی حقوق پر زور دیتے ہیں مگر وہ ریاست کے ایکٹیو رول کے حوالے اپنا مختلف نقطہ ہائے نظر رکھتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید