آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھارت برصغیر کو جہنم بنانے سے باز رہے

تحریر:حنیف راجہ ۔۔گلاسگو
بھارتی حکومت ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت عوام میں جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہے، تاکہ ملک کی بدتر ہوتی معاشی صورت حال سے توجہ ہٹا سکے۔ شرح ترقی گیارہ فیصد سے5فیصد پر آگئی ہے۔ شہریت بل پر پورے ملک میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور حالات تیزی سے بے قابو ہورہے ہیں، کشمیر میں کئی ماہ سے ہنگامی صورت حال ہے۔ بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل منوج مکھنڈ نے بھی حکومت کی اس پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے بڑ ماری ہے کہ بھارتی پارلیمانی قرارداد کے مطابق5اگست سے قبل والا پورا جموں کشمیر ہمارا علاقہ ہے اور اگر پارلیمان اس کو حاصل کرنے کا حکم دیتی ہے تو اس پر ضرور کارروائی کی جائے گی۔ مزیدبرآں جنرل منوج کمار نے چین کو بھی ایک بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ وہ شمالی اور مغربی سرحد پر یکساں توجہ دیں گے، اس طرح کے بیانات ایک جنون اور پاگل پن کے علاوہ کچھ نہیں کہے جاسکتے اور یہ علاقے کو آگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے، جو بھارت کے جارحانہ عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی دراصل راشٹریہ سیوک سنگھ کا سیاسی بازو ہے جوکہ وہاں رام راج کا نفاذ چاہتی ہے، آئین میں اس کا سرکاری نام بھارت ہے، ہندوستان نہیں اور بھارت کو ایک سیکولر ملک کا درجہ دیا گیا تھا، کشمیر کے معاملے پر بھارت اور پاکستان دونوں ہی اپنی اپنی ملکیت

کے دعویدار ہیں لیکن عملی طور پر صورت حال یہ رہی ہے کہ دونوں لائن آف کنٹرول کو ہی قبول کئے ہوئے تھے اور وقتی طور پر سٹس کوStatus Quoپر ایک انڈر سٹیونگ موجود تھی، لیکن اب بھارت کے نئے جرنل نے نیا دعوے کرکے نئی صورت حال پیدا کردی ہے، جنرل منوج مکھنڈ کو شاید علم نہیں کہ مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع علاقہ ہے، جہاں اس نے رائے شماری کرانے کا حکم دے رکھا ہے اور بھارت70سالوں سے اس پر مسلسل ٹال مٹول کر رہا ہے۔ مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے جو کارروائی کی ہے پورا کشمیر اس پر سراپا احتجاج ہے اور کئی ماہ سے وہاں پابندیاں عائد ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے اور بھارتی فوجی ان کو شہید کرنے کے بعد جشن مناتے ہیں۔ مودی کو گجرات کے قصاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ماضی میں امریکہ نے بھی اس کی دہشت گردانہ پالیسیوں کے باعث اس کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی، وہ شروع سے ہی مسلم دشمن رہا ہے۔ پاکستان عرصہ دراز سے بھارت پر الزامات لگا رہا ہے کہ پاکستان میں خصوصاً بلوچستان اور فاٹا میں دہشت گردی کی کارروائیاں کروا رہا ہے، جن میں اب تک80ہزار افراد شہید ہوچکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو پاکستان میں ان کارروائیوں کا اعتراف بھی کرچکا ہے اور بین الاقوامی عدالت نے بھی کلبھوشن کی سزا برقرار رکھی جوکہ اس کے مجرم ہونے کا ثبوت ہے، جنرل منوج مکھنڈ کا بیان بھی نریندر مودی کی جنونی ہندو توا کی پالیسیوں کا تسلسل ہے اور اپنی حکومت کو خوش کرنے کی کوشش ہے لیکن اسے یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہ1971ء نہیں کہ بھارت پاکستان کو دولخت کر دے، اب دونوں ممالک ایٹمی قوتیں ہیں اور پاکستان کی جوہری پالیسی یہ ہے کہ پاکستان اس وقت تک ایٹمی اسلحہ کا استعمال نہیں کرے گا جب تک مخالف پہل نہ کرے یا کہ پھر وہ روایتی ہتھیاروں کے ذریعہ اپنے دفاع کے قابل نہ رہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس کم از کم ڈیڑھ سو ایٹمی وار ہیڈز ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے تقریباً تمام بڑے شہروں کو تباہ کرسکتے ہیں، اگر جنگ ہوتی ہے تو ماہرین کے مطابق ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے تقریباً13کروڑ افراد موت کے منہ میں جاسکتے ہیں، واضح رہے کہ دوسری جنگ عظیم میں 5کروڑ افراد مرے تھے، جنگ کی صورت میں بھارت کی آبادی اور علاقہ زیادہ ہونے کے باعث وہاں زیادہ نقصانات کے امکانات ہیں، لہٰذا اس کو زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے، ترقی یافتہ دنیا بھی اس مسئلہ سے غیر متعلق نہیں رہ سکتی، کیونکہ جنگ کے اثرات سے نہ صرف دنیا میں شدید موسمی تبدیلیاں آئیں گی بلکہ زمینی پیداوار بھی30فیصد تک کم ہوجائے گی، دونوں ممالک کے لئے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مل جل کر حق و انصاف کے اصولوں کے مطابق اپنے مسائل طے کریں، ایک دوسرے کو دھمکیاں نہ دیں اور اکٹھے ہوکر غربت کے خلاف لڑیں، یورپ نے چار سو سال جنگیں لڑنے کے بعد بالآخر اس راز کو پا لیا کہ جنگیں تباہی کے سوا اور کچھ نہیں لاتیں اور اگر انڈیا اور پاکستان کے درمیان کوئی نئی جنگ ہوئی جو بڑھ کر ایٹمی جنگ میں بدل جاتی ہے تو انڈیا پاکستان میں کوئی باقی نہ رہے گا، کوئی بھی فتح کا جشن نہ مناسکے گا۔

یورپ سے سے مزید