آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعظم کا دورہ آزادکشمیر، سردی کی لہر جاری، برفانی تودوں سے مزید 14ہلاکتیں، فوج کی ریسکیو کارروائیاں

وزیراعظم کا دورہ آزادکشمیر، برفانی تودوں سے مزید14ہلاکتیں


مظفرآباد، آٹھ مقام (نمائندگان جنگ،اے پی پی، جنگ نیوز) ملک بھر میں شدید سردی کی لہر جاری ہے، برفباری، لینڈسلائیڈنگ اور دیگر حادثات میں مزید 14افراد جاں بحق ہوگئے۔

خیبرپختونخوا میں 2؍ اور گلگت میں 7؍ افراد جاں بحق ہوئے ،وادی نیلم میں ایک اور برفانی تودہ گرنے سے تین گاؤں شدید متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں فوج کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، وادی گریس میں زمینی رابطے منقطع ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں نہ پہنچ سکیں، تودہ گرنے سے چترال کی طرف سے لواری ٹنل بند ہوگئی۔

خراب موسم کے باعث پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے، گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے حالیہ شدید برف باری سے 100 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، ذرائع کے مطابق کے ٹو بیس کیمپ میں 120 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے برفانی طوفانی ہوائیں چل رہی ہیں جبکہ پہاڑوں کی انتہائی بلندی پر برفانی طوفان کی رفتار 240 کلومیٹر فی گھنٹہ تک تھی۔

براوٹ پیک بیس کیمپ میں طوفان نے کوہ پیماوں کے خیمے اکھاڑ دیئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفباری سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، زخمیوں کی عیادت کی اور نقصانات پر بریفنگ لی۔ 

تفصیلات کے مطابق ملک کے بالائی اور زیریں علاقوں میں سردی کی شدت برقرار ہےجبکہ برفباری، لینڈسلائیڈنگ اور دیگر حادثات کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 100 سے تجاوز کرچکی ہے۔

 گزشتہ روز وادی نیلم کے علاقہ ڈھکی چکناڑ میں ایک اور برفانی تودہ گرنے سے 3 دیہات دب گئے، امدادی ٹیموں نے 14 لاشوں کو نکال لیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ تین روز میں آزاد کشمیرمیں برفانی تودے گرنے سے76، بلوچستان میں 21، خیبرپختونخوا میں 2 اور گلگت بلتستان میں برفباری سے 7 افراد جاں بحق ہوئے۔

وادی نیلم میں منگل کو تودہ گرنے سے بکوالی اور سیری گائوں مکمل دب گئے تھے اور وہاں 59افراد جاں بحق ہوئےتھے ، اس کے علاوہ راولا کوٹ، سدھنوتی اورکوٹلی میں مختلف حادثات میں 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے، بائیس دکانوں، 107 مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 91 مکمل تباہ ہوگئے۔

سب سےزیادہ نقصان وادی نیلم کےعلاقہ سرگن میں ہوا ہے۔برفباری سے متاثرہ آزادکشمیر کے پانچ اضلاع کی سڑکیں تیسرے روز بھی بند ہیں۔وادی نیلم میں کئی کئی فٹ برف کے باعث امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ضلع باغ میں چکار کو ملانے والی سڑک سُدھن گلی کے مقام پر، باغ حویلی سڑک کےعلاوہ وادی لیپہ جانے والی روڈ، ریشیاں کےمقام پر آمدورفت کیلئے بند ہے۔

ایس ڈی ایم اےحکام کہناہےکہ برفباری سےشدید متاثرہ سرگن سمیت دیگر علاقوں میں اشیائے خورد و نوش،گرم کپڑے اوردیگرامدادی سامان ہیلی کاپٹر کےذریعے بھیجاجارہاہے اور سڑکوں کی بحالی کیلئے ہیوی مشنری کا استعمال کیاجارہاہے۔

اہم خبریں سے مزید