آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ یکم رجب المرجب 1441ھ 26؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وطنِ عزیز اِس وقت گوناگوں مسائل سے دوچار ہے لیکن اِن میں سب سے بڑا مسئلہ بےلگام مہنگائی ہے، جو کسی بلائے بے درماں سے کم نہیں کہ کسی صورت ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہی، ایسا نہیں کہ حکومت نے اِس عفریت کو قابو کرنے کی کاوشیں نہیں کیں، بےشک کی ہیں اُس کے باوجود مہنگائی کے اعتبار سے ایشیا میں سرِفہرست ہونا اِس امر کا غماز ہے کہ حکومتی کوششیں ثمربار نہیں ہو پا رہیں، خاص طور پر روز مرہ کی بنیادی ضروریات یعنی اشیائے خورو نوش کا عوام کی دسترس میں نہ ہونا تشویشناک امر ہے، اس سے معاشرے میں بےیقینی اور اضطراب پھیل کر جرائم کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔ تسلیم کہ اقتصادی درجہ بندی کرنے والی دنیا کی تین بڑی ایجنسیوں میں سے ایک نے ملکی معیشت کی بہتری اور استحکام کا اشارہ دیا ہے تاہم اِن نقائص کو بھی عیاں کیا ہے جن کی موجودگی کے باعث وطنِ عزیز کو مطلوبہ معاشی اہداف حاصل کرنے کیلئے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ یوں بھی کسی ملک کی ترقی و خوشحالی جانچنے کے عالمی معیار یا پیمانے کچھ بھی ہوں، عوام سے وہی حکومت قبولیت کی سند پاتی ہے جو انہیں ہر طرح سے آسودگی اور ریلیف فراہم کرے۔ حکومت پاکستان نے اسی نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے عوام پر توجہ مبذول کی ہے۔ جمعرات کے روز اپنی زیر صدارت اجلاسوں میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ

عوام کو مہنگائی سے ریلیف دیں گے، اجلاسوں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ بڑھانے اور نئے لنگر خانے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ حکومت نے اپنی اتحادی جماعتوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے جائز مطالبے پورے کیے جائیں گے۔ کہا گیا کہ عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی موجودہ حکومت کی واحد ترجیح ہے، مشکل معاشی حالات کے باوجود تمام متعلقہ وزارتیں دو روز کے اندر عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے، ان کی قیمتوں پر کنٹرول، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کیلئے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں بلکہ عوام کو ریلیف دینے کے مزید اقدامات کی بھی نشاندہی کی جائے۔ دریں اثنا اپسوس نامی انٹرنیشنل تنظیم کے سروے کے مطابق موجودہ حکومت میں مہنگائی، بیروزگاری، غربت میں اضافہ اور ٹیکسوں کا بوجھ ملک کے اہم مسائل ہیں۔ ملک کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو متذکرہ سروے مبنی برحقیقت ہی دکھائی دیتا ہے کہ سردست پاکستانی عوام کے سب سے بڑے مسائل یہی ہیں۔ یکم جنوری کو شائع ہونے والی ادارۂ شماریات کی رپورٹ میں منکشف ہوا تھا کہ 26دسمبر 2019کو اختتام پذیر ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح 18.51فیصد بڑھی، یہ اس ملک کے نئے سال کی ابتدا تھی جس کی آبادی کی غالب اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا وظیفہ بڑھانا اور مزید لنگر خانے کھولنے کا اعلان اگرچہ احسن امر ہے لیکن یہ جز وقتی اقدامات ہیں، پچھلے 7برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ جانے والی مہنگائی کو نکیل ڈالنے کیلئے مستقل بنیادوں پر موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے، ویلفیئر اسٹیٹ نہیں چنانچہ اسے وظائف دینے اور لنگر خانے کھولنے سے زیادہ کاروباری سرگرمیوں کی طرف آنا ہوگا، ورنہ اس کے عوام کا جذبۂ محنت دیمک زدہ ہو سکتا ہے، جز وقتی اقدامات کی اہمیت اپنی جگہ زیادہ توجہ ہنرمند نوجوان، کاروبار کیلئے آسان قرضوں، اسمال اور میڈیم انڈسٹری پر دینا ہوگی۔ رہی بات مہنگائی سے ریلیف کی تو اس کا فوری حل سبسڈیز دینا، بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانا، قیمتوں پر کنٹرول اور ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کا آہنی ہاتھوں محاسبہ ہے۔ حکومت صرف یہ فریضہ بطریق احسن انجام دیدے تو اس کی نیک نامی کیلئے یہی کافی ہے۔