امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایران کے خلیجی خطے میں جوابی اقدامات کے بعد عالمی معیشت ہل کر رہ گئی ہے، تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ ماہرین عالمی سطح پر کاروبار کا گراف کا مسلسل نیچے آنے کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔
ایران جنگ کے دنیا بھر پر اثرات سے متعلق ’الجزیرہ‘ نے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد برینٹ کروڈ تیل کی قیمت 72 ڈالرز سے بڑھ کر 106 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، یعنی 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، اسی طرح ایل این جی (قدرتی گیس) کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے، کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس سے ایشیائی ممالک شدید دباؤ میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے کم از کم 85 ممالک میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، کئی ممالک میں حکومتوں نے ایندھن بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں جیسے کہ 4 روزہ ورک ویک، گھروں سے آفس کا کام اور پیٹرول کی راشننگ، یہ اقدامات معیشت کی رفتار کم کر رہے ہیں۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق جنگ کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں اوسطاً 5.5 فیصد کمی آئی ہے۔
ایشیاء کی مارکیٹیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں جبکہ امریکا نسبتاً مستحکم رہا ہے۔
روس کی مارکیٹ میں اضافہ دیکھا گیا کیونکہ وہ تیل کا بڑا برآمد کنندہ ہے۔
رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے، ماضی میں بھی ایسے حالات کے بعد عالمی کساد بازاری دیکھی گئی ہے۔
کمزور معیشتوں والے ممالک کو قرضوں کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے اور شرحِ نمو میں کمی متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو یورپ کی معاشی شرحِ نمو 0.5 فیصد تک گر سکتی ہے، چین کی ترقی 3 فیصد سے کم ہو سکتی ہے اور امریکا نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔
ایندھن مہنگا ہونے سے فضائی ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، کئی پروازیں متبادل طویل راستوں سے جا رہی ہیں جس سے اخراجات مزید بڑھ رہے ہیں۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ میں ماہرین کی جانب سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو عالمی معیشت کو شدید بحران، مہنگائی اور سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔