آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اصل تبدیلی پولیس اور شہریوں میں اعتماد بحال ہونے سے آئے گی، آئی جی پنجاب

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر)انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے کہاہے کہ گڈگورننس میں پولیسنگ اہم کردار ادا کرتی ہے۔امن وامان قائم رکھناپولیس کی ذمہ داری ہے گڈگورننس کے لئے شہریوںاور پولیس کے درمیان انٹرایکشن اوراعتمادکی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ عوام اورپولیس میں اعتمادکارشتہ بحال کرنے کیلئے گذشتہ کچھ عرصہ سے کئی اقدامات کئے گئےفرنٹ ڈیسک بنے۔ماڈل تھانے بنے، خدمت مراکز بنے اورگذشتہ سال لاکھوں افرادنے ان سہولیات سےفائدہ اٹھایا۔پولیس اور شہریوں میں اعتماد ہونے سے ہی اصل تبدیلی آئے گی۔انصاف کی جانب پہلاقدم میرٹ پرتفتیش کرناہے جس کے لئے ہم اقدامات کررہے ہیں۔منگل کوپولیس لائنز راولپنڈی میں پریس کانفرنس اورپولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی نےکہاکہ عوام دوست پولیسنگ کے ذریعے شہریوں میں پولیس فورس کے وقار کی بحالی اور عوام کا تعاون حاصل کرنا میرا ٹارگٹ اور مشن ہے اور اس سلسلے میں پوری فورس کو بہترین کارکردگی سے میرا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ عوام کی خدمات میں مزید بہتری اور معاشرے سے جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ اولین ترجیحات میں شامل ہے اورا س سلسلے میں پولیس فورس کوپبلک ڈیلنگ میں خوش اخلاقی کو شعار بنانے کے ساتھ ساتھ ماڈرن پولیسنگ کی طرز پر خود کو انویسٹی گیشن اور آپریشرنل ڈیوٹیز کی

جدید مہارتوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ پولیس فورس مذہبی و قومی تہواروں سمیت موسم کی شدیدسختیوں میں شب و روز اور اپنے اہل خانہ کی خوشیوں کا خیال کئے بغیر عوام کی حفاظت کے فرائض سر انجام دیتی ہے جبکہ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں ڈیڑھ ہزار کے قریب پولیس افسران واہلکاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے ہیں تاہم پھر بھی عوام میں پولیس کا مجموعی تشخص درست نہیں جو پوری فورس کیلئے سوچنے کی بات ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب کو اپنا احتساب خود کرنا چاہئیے کیونکہ اگر ہم نے اپنا درست احتساب کرلیا تو پھر کسی اور کو ہمارا احتساب کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ انہوں نے کہاکہ سپیشل انیشئیٹو پولیس اسٹیشنز، فرنٹ ڈیسک ، پولیس خدمت مراکز سمیت دیگر جدید پراجیکٹس کا مقصد عوام دوست پولیسنگ کا فروغ ہے لیکن اگر افسران و اہلکاروں نے اپنے رویوں میں شائستگی کے ساتھ خدمت خلق کے جذبے کواپنا نصب العین نہ بنایا تو یہ پراجیکٹس بے سود ہوجائیں گے۔ آئی جی نے کہاکہ صوبے کے تمام اضلاع میں جرائم پیشہ و سماج دشمن عناصر کے قلع قمع کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی لائی جائے جبکہ منشیات فروشوں ، قبضہ مافیا اور بھتہ خوروں کے خلاف ضلعی پولیس افسران اپنی نگرانی میں کریک ڈائون کو مزید موثر بنائیں اس موقع پر آر پی او راولپنڈی سہیل حبیب تاجک، سی پی او راولپنڈی احسن یونس، ڈی پی او اٹک خالد محمود ہمدانی ، ڈی پی او جہلم کیپٹن (ر) حماد عابد، ڈی پی او چکوال عادل میمن سمیت ریجن کے ایس ایس پیز انویسٹی گیشن ، سی ٹی اوز،ایس پیز،اے ایس پیز اور ایس ڈ ی پی اوز سمیت ایس ایچ اوز بھی موجود تھے ۔ دریں اثناءانسپکٹرجنرل پولیس پنجاب نے راولپنڈی پولیس کی جانب سے گذشتہ ایک سال کے دوران درج نہ کی گئی ایف آئی آرزکے اندراج پرراولپنڈی پولیس کی تعریف کی اور کہاکہ بہت شکایات آتی تھیں کہ پرچے درج نہیں ہوتے میرے خیال میں راولپنڈی میں اس حوالے سے خاصی اشک شوئی کردی گئی ہے راولپنڈی پولیس نے املاک کے خلاف کرائم کے13سوپرچے چنددنوں میں درج کئے ہیں اورمیں یہ چاہوں گاکہ اس امرکی تحسین کی جانی چاہئیے یہ کوئی معمول بات نہیں ہے ۔اس سے قبل آئی جی پولیس نے راولپنڈی پولیس لائنز میں یادگار شہداء پر پھول چڑھائے اور شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی ۔ انہوں نے مانیٹرنگ اور سرویلنس کے جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ، تفتیش کے معیار میں بہتری کیلئے انویسٹی گیشن فیسیلیٹیشن سنٹر ، فور س کی ویلفیئر سے متعلقہ مسائل کے ازالے کیلئے ویلفیئر روم اورکانفرنس روم کا افتتاح بھی کیا ۔ سکالرز اور شہریوں سے ملاقات کی اور پولیس اور عوام کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر زور دیا۔ نوجوانوں سے گفتگو میں آئی جی پنجاب نے کہاکہ نوجوان پاکستانی معاشرے کا فعال اور اہم حصہ ہیں جوتعلیمی اداروں میں منشیات فروشوں کے خلاف آپریشنز میں مقامی پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ افسران سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی نے کہا کہ افسران اپنے زیر انتظام تھانوں ، پولیس دفاتر سمیت تمام پراجیکٹس کی انسپکشن اور اچانک دوروں میں مزید تیزی لائیں ۔ں اور جہاں کہیں جاری کردہ ایس او پیز کے خلاف ورزی نظر آئے وہاں ذمہ داران کا محاسبہ کیا جائے تفتیش کے معیار کو بہتر سے بہتر کرنے کیلئے جدید انویسٹی گیشن ماڈیولز، جیو فینسنگ اور فارنزک سائنس سے بھرپور استفادہ کیا جائے تاکہ زیر التواء کیسز کی تعداد کم ہونے سے پولیس کی پرفارمنس بہتر سے بہتر ہوسکے۔آئی جی نےکہا کہ فیلڈ ڈیوٹی سر انجام دینے والی کانسٹیبلری پنجاب پولیس کا اصل چہرہ ہیں جو مختلف شاہرات اور مقامات پر فرائض ادا کرتے ہوئے عوام کے درمیان محکمہ پولیس کی نماندگی کرتے ہیں لہذا کانسٹیبلز کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے افسران بہترین لیڈر شپ کا کردار ادا کریں ، انہیں پروفیشنل کنڈکٹ ، ڈسپلن میں مزید بہتری ، ماڈرن پولیسنگ کے بارے میں بھرپور بریفنگ دیتے ہوئے روزمرہ کی کاروائیوں کا حصہ بنایا جائے ۔ اجلاس میں آئی جی پنجاب نے افسران کے مسائل بھی سنے اور انکے حل کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔

اسلام آباد سے مزید