آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل23؍جمادی الثانی 1441ھ 18؍ فروری2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال :۔ میرے پاس ایک شخص نے امانت کے طور پر کچھ رقم رکھوائی ہوئی تھی، لیکن اب اس شخص کا انتقال ہوگیا ہے ، اس کے مطابق یہ رقم میں اس کی شادی شدہ بہن کو دوں، جب کہ اس کی چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی ہے، جن میں تین بیٹیوں کی شادی ہوچکی ہے ، باقی کی ابھی ہونا باقی ہے،اور ان کے سر پر کوئی کفیل نہیں ہے، والدہ بھی فوت ہوچکی ہے، اب یہ رقم میں اس شخص کی اولاد میں برابر تقسیم کروں یا اس کی وصیت کے مطابق اس کی بہن کو دینی چاہیے؟ (عمر خالد،کراچی)

جواب :۔ اگر اس شخص نے یہ وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد یہ رقم میری بہن کو دے دینا، تو یہ وصیت ہے، اور چوں کہ اس کی بہن اس کی وارث نہیں بن رہی ہے، لہٰذا اگر یہ رقم اس کے تہائی مال کے اندر ہے تو اس کی وصیت پر عمل لازم ہے، تہائی مال سے زائد مرحوم کے ورثاء کا حق ہے، اور اگر اس نے مرنے کے بعد بہن کو دینے کی وصیت نہیں کی تھی، بلکہ زندگی میں ہی کہہ دیا تھا کہ بہن کو دے دو، اور اس کی زندگی میں وہ رقم بہن کے حوالے نہیں کی گئی تو اب یہ رقم مرحوم کے ورثاء کا حق ہے۔ ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔

اقراء سے مزید