آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 26؍ جمادی الثانی 1441ھ 21؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم عظیم انسان تھے۔ ان جیسے لوگ معاشرے میں ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ وہ باہمت تھے جو کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ وہ مختلف مناصب پر رہے اور ضمیر کی آواز پر کام کرتے رہے۔ وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی اقدار موجود ہیں۔ وہ سب کے لیے مشعل راہ ہیں اور ان کے قول و فعل کو آگے لے کر چلنا چاہیے۔

یہ تاثرات سیاسی و سماجی شخصیات نے جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی یاد میں انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ سوشل ریسرچ اور سہیل یونیورسٹی کے تحت تعزیتی ریفرنس ’’آئین کی بالادستی اور جسٹس فخرالدین جی ابراہیم‘‘ سے خطاب کے دوران بیان کیے۔

مقررین میں سینیٹر رضا ربانی، ناظم ایف حاجی، جنرل (ر) معین الدین حیدر، اقبال علوی، ڈاکٹر ہارون، کرامت علی، زاہدہ حنا و دیگر شامل تھے۔

ریفرنس کی نظامت انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ سوشل ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید جعفر احمد نے کی۔ اس موقع پر سہیل یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر طارق سہیل، رکن بورڈ بلند سہیل، جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کے صاحبزادے زاہد ایف ابراہیم و دیگر بھی موجود تھے۔

جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
سینیٹر رضا ربانی

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ فخرالدین جی ابراہیم میرے استاد تھے، وہ مختلف مناصب پر رہے اور ضمیر کی آواز کے تحت کام کرتے رہے۔ وہ ہم سب کے لیے مشعل راہ ہیں ان کے قول و فعل کو آگے لے کر چلنا چاہیے لیکن اس دوران سوسائٹی کا موازنہ کرنا چاہیے۔ ان کے دور میں معاشرہ زیادہ جمہوری، مہذب اور لبرل تھا۔ آج کے معاشرے میں گھٹن ہے جو میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایوب اور یحییٰ کے خلاف تحاریک چلیں لیکن اس وقت دشمن واضح تھا، آج ایسی ہائبرڈ جنگ ہے، جس میں دشمن ہے بھی اور کھل کر سامنے بھی نہیں آتا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے وقت کا دھارا پاکستان کو بھی مصر جیسا ماڈل بنانے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ پہلے تمام اداروں کو جانتے بوجھتے کمزور کیا گیا اب جو ایک ادارہ بچ رہا تھا اس پر بھی وار کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے بارے میں ریاست نے کبھی اچھی رائے بننے ہی نہیں دی۔ اب احتساب کی بات کی جارہی ہے تو احتساب یقیناً ہوناچاہیے لیکن سب کے لیے ہونا چاہیے کسی مقدس گائے کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو بے توقیر کر دیا گیا ہے، افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کا وزیر خارجہ واشنگٹن میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ پاکستان کا طالبان کو مذاکرات کے ٹیبل پر لانے کے لیے کیا کردار رہا۔ اس کا ملک کی سیکیورٹی اور ہماری نسلوں اور مستقبل پرجو اثر پڑے گا اس کو سوچا ہی نہیں جارہا۔ اگر بیان دینا تھا تو اپنی سرزمین پر بیٹھ کر دیتے۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ امریکا کے نزدیک اپنے مفادات ہیں، ہمیں بھی اپنے مفادات سامنے رکھنے چاہئیں۔ وزیر اعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ ہماری پہلی ترجیح افغانستان ہے۔ اگرایسا ہے تو کشمیر اور کشمیریوں کے لیے کیا معاہدہ ہوگا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال تھی تو عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا، ہم بھیٹر بکریاں یا غلام نہیں ہیں۔ قائد اعظم نے ہماری خود مختاری کی بات کی اور بڑے معاشی تحفظ کی بات کی۔ آج ہماری معیشت عالمی سامراج عالمی بینک کے ہاتھوں گروی ہے، ایسی صورت میں ایسی گھٹن ہے اور اس حال میں وہ آئیکون جنہوں نے اصولوں کے تحت زندگی گزاری انہیں یاد کرکے ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔

ناظم ایف حاجی نے کہا کہ فخرو بھائی کی جذباتی خواہش تھی کہ وہ ملک کی خدمت کریں، اس لیے انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کا عہد ہ قبول کیا وہ بہت زیادہ فعال اور سرگرم تھے، انہوں نے ملک کی بہت خدمت کی۔

جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا کہ فخرالدین جی ابراہیم پاکستان کے لیے مشعل راہ ہیں۔ وہ عظیم انسان تھے۔ خواہش ہے کہ ان جیسے بلند خیالات اور حوصلہ ہمیں بھی ملے۔

اقبال علوی نے کہا کہ وہ ہمارے درمیان نہیں لیکن ان کی اقدار ہمارے درمیان آج بھی موجود ہیں۔

ڈاکٹر ہارون نے کہا کہ دوست اور دشمن انہیں فخرو بھائی پکارتے تھے۔ ان کی شہرت یہ تھی کہ وہ مستعفی ہوجاتے تھے لیکن جب الیکشن کمشنر بنے تو دوستوں نے ان سے کہا کہ اب آپ نے استعفیٰ نہیں دینا۔

کرامت علی نے کہا کہ وہ سب سے پہلے طالبعلموں کے کیسز لیتے تھے۔ میں نے زندگی میں بہت کم لوگ دیکھے ہیں جو بااصول ہوں اور اصولوں پر قائم رہیں۔ ایسے لوگ معاشرے میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ وہ باہمت انسان تھے جو کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔

زاہدہ حنا نے کہا کہ فخرو بھائی نیک نامی کی دولت سے مالا مال تھے۔ ان کے جانے سے ہم غریب ہوگئے۔

ریفرنس کے اختتام پر رکن بورڈ آف گورنرز بلند سہیل نے اظہار تشکر کیا۔

قومی خبریں سے مزید