آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رجب المرجب 1441ھ 28؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عمر بیت چلی ہے زوال در زوال دیکھتے۔ تیرگی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے۔ یہ بھی دیکھنا تھا کہ کرپشن کے خلاف اُبھری تحریکِ انصاف اور عمران خان کی احتسابی مہم بھی مشرف بہ کرپشن ہوئی۔ 

جس ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی پاکستان میں جاری کرپشن بارے گزشتہ رپورٹوں کو گواہ بناکر عمران خان نے مخالف جماعتوں کے منہ پہ سیاہی ملی تھی، اب اُسی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے عمران خان کی بزعم خویش ’’شفاف ترین حکومت‘‘ کو گزشتہ دس برس میں کم ہوتی ہوئی کرپشن کے مقابلے میں کرپشن کو جانچنے کے پیمانوں پہ تین درجے گرا کر 117ویں پوزیشن سے 120ویں کرپٹ پوزیشن پہ دھکیل دیا ہے یعنی یہ حکومت ماضی کی حکومتوں سے بھی زیادہ کرپٹ ثابت ہوئی ہے۔ 

جن آٹھ میں سے پانچ جائزوں پہ یہ منفی صورت سامنے آئی ہے، اُس میں ورلڈ اکنامک فورم کا ایگزیکٹو رائے سروے، قانون کی حکمرانی بارے ماہرانہ سروے، جمہوریت کی اقسام کے جائزے، تبدیلی کے انڈیکس اور کاروباری خطرات بارے رائے عامہ کے جائزے شامل ہیں۔ 

دُنیا میں بڑھتی کرپشن پہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی منیجنگ ڈائریکٹر پیٹریسا موریرا نے کرپشن کے خاتمے سے لوگوں کی زندگیوں میں  بہتری لانے کے لئے سیاست اور بڑی دولت کے مابین گھنائونے گٹھ جوڑ کے خاتمے پہ زور دیا ہے۔ 

جن ممالک میں انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں پیسے والوں کا زیادہ عمل دخل ہوگا وہاں پہ کرپشن کے خاتمے کے امکان اُتنے ہی کم ہیں۔ تحریکِ انصاف کی کرپشن مخالف تحریک کا بڑا المیہ یہ تھا کہ اس میں بلاحساب کتاب دھن دولت کا عمل دخل حد سے بڑھ گیا اور پانچ برس گزرنے کے باوجود بھی پی ٹی آئی اپنے مالی حساب دینے سے کتراتی رہی۔ 

جہاں وزیراعظم کے پاس ذاتی گزارے کے پیسے نہیں اور اب وہ بیرونی دورے بھی نجی سرمایہ داروں کے کھاتے میں کریں گے تو وہاں گندم اور شوگر اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث لوگ ہی اس بابت تحقیقات کریں گے۔

کرپشن کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ شہریوں کو باخبر اور بااختیار بنایا جائے، سماجی کارکنوں، نشاندہی کرنے والوں اور صحافیوں کو تحفظ دیا جائے، چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مضبوط کیا جائے، سیاسی فنڈنگ کنٹرول کی جائے، مفادات کے ٹکرائو کو روکا جائے، ریگولیٹری اتھارٹیز کو مضبوط کیا جائے، مافیاز کا احتساب ہو، بھرتیوں، ٹھیکوں اور سرکاری اخراجات میں شفافیت اور عوامی مفاد کو تحفظ دیا جائے اور عوام کی فیصلہ سازی میں بھرپور شرکت، اطلاعات تک بلاروک رسائی اور کاروبارِ حکومت میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے لیکن یہ تبھی ممکن ہے اگر جمہوری، انسانی، سماجی اور انتظامی پیمانوں پہ ملک کا سیاسی و انتظامی نظام بھی جمہوری اُصولوں پہ پورا اُترتا ہو۔ 

خیر سے اکانومسٹ کے انٹیلی جنس یونٹ کی جانب سے جاری کردہ جمہوری انڈیکس میں بھی پاکستان پہلے سے نیچے چلا گیا ہے۔ اس کا شمار نہ تو ’’مکمل جمہوریت‘‘ اور نہ ہی ’’خراب جمہوریت‘‘ میں کیا گیا ہے۔ بلکہ پاکستان کو ایک ’’عجیب الخلقت‘‘ (Hybrid) حاکمیت یا ’’آمرانہ حکومت‘‘ کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔ دس میں سے پاکستان کا مجموعی اسکور 4.25ہے اور اس کی 108ویں پوزیشن ہے۔ 

پاکستان کے انتخابی عمل اور تکثیریت پہ 6.08پوائنٹس سیاسی شراکت میں  2.2پوائنٹس، سیاسی کلچر میں 2.50پوائنٹس اور شہری آزادیوں میں 4.71پوائنٹس ہیں۔ 2013-14ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں 4.64پوائنٹس، 2016 میں نواز حکومت میں 4.33پوائنٹس اور اب یہ مزید کم ہوکر 4.25رہ گئے ہیں۔ گویا جمہوری زوال کے ساتھ ساتھ کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ دو عالمی جائزے اُس وقت سامنے آئے جب وزیراعظم ورلڈ اکنامک فورم پہ کھڑے ہوکر کرپشن کے خلاف بڑے بڑے بھاشن دے رہے تھے اور اُن کے دورے کے اخراجات کوئی نجی طور پر ادا کر رہا تھا۔ بھلا ڈینگیں مارنے سے ’’اسٹیٹس کو‘‘ کہاں  بدلنے والا ہے جبکہ آپ خود ’’اسٹیٹس کو‘‘ کا کل پرزہ بنے ہوئے ہوں یا پھر کرپشن کے نظام میں گھرے ہوئے کرپٹ لوگوں کے پیسے کے بل بوتے پہ آپ کرپشن کا کیسے بال بیکا کر سکتے ہیں۔ 

جانے کس منہ سے یہ دعوے کیے جاتے رہے ہیں کہ اس حکومت کا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ایک ارب درختوں، مالم جبہ اور پشاور جنگلا بس اسکینڈلز کو چھوڑئیے، اب گندم اور چینی کے ہوشربا اسکینڈلوں پہ کوئی چپ کیسے رہے۔ گندم اور چینی میں وافر ملک اب اس کی درآمد پہ مجبور ہو گیا۔ 

کوئی یہ بھی تو اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ سے پوچھے کہ ساڑھے تیرہ فیصد کی شرح پہ دو فیصد شرح سود پہ حاصل کردہ ہاٹ منی سے 2.2ارب ڈالر قرض لینے والوں کا کون احتساب کرے گا۔ جو سلسلہ 2016سے 2018تک شرح مبادلہ کو مستحکم کرنے کے لئے چلا اور اس پر 24ارب ڈالرز پھونکے گئے، موجودہ اور گزشتہ حکومتوں سے اس کا حساب کون لے گا۔ 

پنجاب میں تو حکومت نام کی کوئی شے باقی نہیں تو اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کے لئے رشوت کا بازار گرم ہوا چاہتا ہے، پختونخوا میں کرپشن کے خلاف حکمران جماعت میں بغاوت اور بلوچستان میں مالِ غنیمت کی تقسیم پر حکمران جماعت بکھرنے کو ہے۔ 

پورے کرایہ داری کرپٹ نظام جہاں بیرونی طاقتیں بھی ریاست کو کرایہ پہ حاصل کرتی رہی ہوں کو موجودہ ٹٹ پونجی دست نگر سرمایہ داری کے پاکستانی ایڈیشن کو بدلے بنا کیسے کرپشن ختم ہو سکتی ہے۔ جب اسٹیٹس کو کی سیاسی معیشت و کرایہ داری ریاست ہو تو اسٹیٹس کو کی قوتیں جو اب سب ایک صفحہ پہ ہوں تو موجودہ عوام دشمن اور استحصالی و جبری نظام کو کیسے بدلا جا سکتا ہے۔ 

جو اُمید جمہوری عبور سے لگائی گئی تھی وہ اسٹیٹس کو کی پرانی قوتوں کی تاریخی موقع پرستی کے ہاتھوں دم توڑ بیٹھی ہے۔ اب نئی اور پرانی اسٹیٹس کو کی قوتیں ہر تنخواہ پہ کام کرنے کو تیار ہیں تو عوام کی بھلائی، جمہوریت کی پارسائی اور قانون کی حکمرانی اور عوام کو جوابدہی کے لئے کوئی کس سے اُمید باندھے؟

بڑھتے ہمہ نو زوال اور پژمردہ جمہوری روایات کے ہوتے ہوئے وہ کونسی عوامی قوتیں ہیں جو پھر سے جمہوری مزاحمت کی شمع روشن کریں؟ تمام طرح کی سیاسی قوتوں کی ناطاقتی کے پیچھے ان کا عوام سے کٹے ہونا ہے۔ 

منظم، متحرک اور باشعور عوام کے بغیر جمہوریت ممکن ہے نہ جمہوری حکمرانی۔ جمہوری عبور کا زوال ہوا اور اٹھارہویں ترمیم کی جمہوری قوتیں پسپا ہوئیں۔ 

ایک طرف میڈیا آزاد رہا نہ شہری حقوق محفوظ رہے۔ آئین سے حقیقی عملداری کی جگہ طاقت کی بالادستی ریاست کے رگ و پے میں پھیلتی چلی گئی۔ دوسری طرف مہنگائی ہے کہ ہر روز لوگوں کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل رہی ہے۔ اوپر سے اقتصادی بحران ہے کہ بڑھتا اور طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔ آئندہ دو برستوں میں بھی شرحِ نمو 3فیصد سے اوپر نہ جا پائے گی جس کا مطلب آبادی میں اضافے کے تناسب سے کسی طرح کی نمو کا نہ ہونا ہے۔ 

ایسے میں کسی ایک کے صفحے سے نکالے جانے اور کسی دوسرے کے صفحے پہ آنے سے کچھ بدلنے والا نہیں۔ ایسے میں یومِ محشر کے بپا ہونے کی اُمید کے سوا کوئی کیا سوچ سکتا ہے کہ

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے