آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ یکم رجب المرجب 1441ھ 26؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اپنی تاریخ پہ نگاہ ڈالئے۔ خرابی کی جڑ یہی رویہ ہے کہ سنجیاں ہوون گلیاں وچ مرزا یار پھرے۔ یعنی کوچۂ سیاست ویران ہو جائے اور حکمران بلا خوف و خطر اس میں جو جی چاہے کریں۔ عام طور پر جمہوریت میں سیاست کی گلیوں کو ویران یا سنجیاں کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن جہاں تک آمروں کا تعلق ہے ہمارے ملک میں ہر آمر کی یہی خواہش اور حکمت عملی رہی ہے۔ افسر شاہی کے اقتدار پر قبضے کے باوجود فیلڈ مارشل ایوب خان کے اقتدار سنبھالنے سے قبل نام نہاد جمہوری نظام کا ڈانوا ڈول بھرم قائم تھا اور سیاسی گلیاں خوب بارونق تھیں۔ جوڑ توڑ جلسے جلوس، گرما گرم بیانات اور احتجاجی جلوس سب کچھ جاری تھا جب اسکندر مرزا اور ایوب خان نے مارشل لا لگا کر نزدیک آتے انتخابات کو سبوتاژ کر دیا۔ ایوبی حکومت کا سب سے پہلا بھاشن یہ تھا کہ یہ سارے سیاستدان خود غرض اور کرپٹ ہیں اور ان کی موجودگی میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ایوب خان نے ڈنڈے کے زور پر اور ایبڈو کی حمایت سے سیاسی گلیاں ویران کر دیں، بہت سے سیاستدان پابندِ سلاسل ہوئے اور جو باقی بچے اُن کو نااہل قرار دے کر ہونٹوں پہ مہر لگا دی گئی۔ کئی برس تک ایوب خان مرزا یار بن کر ’’سنجی‘‘ گلیوں میں تن تنہا بازو لہراتے رہے۔ کرپشن کے ’’کان پھاڑ‘‘ شور اور سیاستدانوں کی حد درجہ کردار کشی کے باوجود فوجی عدالتوں کے ذریعے صرف چند ایک کو کرپشن کے جرم پر سزا ملی، دوسروں کو سطحی الزامات کا سہارا لے کر گھروں میں بند کر دیا گیا یا کچھ عرصے کے لئے جیلوں کی ہوا خوری کے لئے بھجوا دیا گیا۔ چند برس بعد مردِ آہن کی گرفت ڈھیلی ہوئی تو سارے سیاستدانوں اور کارکنوں نے مل کر ایسی تحریک چلائی جو بالآخر ایوب خان سے نجات اور ’’پُرامن انتقالِ اقتدار‘‘ پر منتج ہوئی۔ بھٹو کے جاگیردارانہ مزاج نے بھی یہی چاہا لیکن سیاسی مجبوریوں کے تحت ایوبی نسخے پر محدود حد تک عمل کیا گیا۔ ضیاء الحق کا مارشل لا ایوب خان کے مارشل لا سے زیادہ کوڑے مار تھا۔ چنانچہ سی ایم ایل اے ضیاء الحق پی پی پی کے کارکنوں اور لیڈروں کی کمر توڑ کر انہیں جیلوں اور قلعوں میں بھجوا کر سنجی گلیوں میں چند برس تک مرزا یار بنے پھرتے رہے۔ بھٹو کو پھانسی چڑھا کر اور ان کے جانشینوں کو ملک بدر کر کے ملک میں ایسا خوف طاری کیا گیا جس میں قلعوں سے اٹھنے والے کارکنوں کی آہ و بکا دب کر رہ گئی۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ سدا ایسا نہیں ہوتا۔ اقتدار و اختیار کے ڈنڈے سے کوچہ سیاست کو ہمیشہ ویران نہیں رکھا جا سکتا۔ خزاں کے بعد بہار، بارش کے بعد خشکی اور سناٹے کے بعد شور قدرت کا اصول ہے اور قدرت کے اصول اٹل ہوتے ہیں۔ حبیب جالب کی زبان میں جسے ہم سناٹا کہتے ہیں وہ دراصل اگلی حکمت عملی طے کرنے کا وقفہ ہوتا ہے۔ وقفہ بہرحال وقفہ ہوتا ہے اُسے برسوں پر محیط نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی قوم آج کل جس سناٹے کا تجربہ کر رہی ہے، وہ محض وقفہ ہے۔ اس وقفے میں آٹا نایاب کر دو، چینی مہنگی کر کے لوگوں کے منہ مٹھاس سے محروم کر دو، مہنگائی کا طوفان برپا کر کے غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین لو، بجلی گیس کے ریٹس بڑھا کر غریب عوام کا جینا دوبھر کر دو، سیاستدانوں کو نیب کے ذریعے ملک بدر کر دو یا جیلوں میں ڈال دو یا خوف کا منظر دکھا کر زبانوں پر تالے لگا دو۔ احسن اقبال جیسے ایمانداروں کو فرضی الزامات پر کوٹھڑی میں بند کر دو اور فواد حسن فواد جیسے قابل افسران کو جیلوں میں بھجوا کر ریٹائر کر دو۔ یاد رہے میں نے آج تک فواد کو دیکھا تک نہیں لیکن اُن کی شہرت سنی ہے۔ احسن اقبال کو معمولی سا جانتا ہوں اور میری دانست میں وہ کرپٹ نہیں ہیں۔ نیب بےپناہ وسائل اور اختیارات کے باوجود جمہور کو الزامات کے ثبوت فراہم کر سکی نہ اُنہیں مطمئن یا قائل کر سکی۔ عدالتوں کا معاملہ الگ ہے۔ اعلیٰ عدالتیں نیب کی کارکردگی سے شاکی اور احتساب عدالتیں ’’وڈیوز‘‘ کی زد میں ہیں۔

مدعائے عرض یہ تھا کہ ہمارے اکثر حکمران اس خواہش کے مریض رہے کہ سنجیاں ہون گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔ مخالفین پر اصلی اور جعلی مقدمات اور پھر ان مقدمات کے خوف سے زبان بندی ہمارے حکمرانوں کی حکمتِ عملی رہی ہے۔ اس بار یہ خواہش نیب نے پوری کر دی۔ اس وقت آپ کو جو سنجیاں گلیاں اور سناٹا نظر آ رہا ہے وہ محض ایک وقفہ ہے۔ وقفہ طویل نہیں ہوتا۔ اس کی وجوہ کا کھوج لکھوں تو کئی کالم لکھنا پڑیں گے۔ نیب نے ایک طرف تو حکمرانوں کی خواہش شرمندہ تعبیرکر دی ہے کہ مخالفت کا میدان صاف کر دیا ہے لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی کم خطرناک نہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ جب تک حکمران جماعت کو سامنے شیر نظر آتا ہے یعنی حزبِ مخالف کا خوف موجود رہتا ہے وہ متحد رہتی ہے یا داخلی اختلافات کو دبا کر اتحاد کا بھرم قائم رکھتی ہے لیکن جب مخالفت کا شیر آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جائے تو اندرونی اختلافات، محرومیاں، دھڑے بندی اور اقتدار کے کیک سے حصہ حاصل کرنے کی خواہشات باغی گروپوں، ہم خیال گروپوں اور ناراض گروپوں کو جنم دیتی ہیں۔ آج کل آپ کو صوبوں میں یہی منظر نظر آ رہا ہے اور اس کے جراثیم پھیل رہے ہیں جس سے اقتدار پر شب خون مارنے کی منصوبہ بندی کرنے والے بھی موجود ہیں۔

رہا وقفہ تو ایک ’’اینکر پرسنی‘‘ پوچھ رہی تھی کیا شہباز شریف لندن میں شیروانی اور ’’سہرے‘‘ کا انتظام کر رہے ہیں کیونکہ روایت کے مطابق وہ کبھی لندن سےاکیلے نہیں آئے ’’اکیلے نہ جانا‘‘ ان کا پسندیدہ گانا بھی ہے۔ جی نہیں اُن کی پہلی شیروانی چھوٹی ہو گئی ہے۔ اب وہ اسلام آباد میں حلفِ وفاداری اٹھانے کے لئے نئی شیروانی سِلا رہے ہیں لیکن میری قلبی نگاہ درمیان میں کچھ عرصے کے لئے اسٹاپ گیپ انتظام دیکھ رہی ہے۔ پھر انتخابات اور پھر مائیک توڑتے انقلابی نعرے لگاتے ’’اکیلے نہ جانا گاتے‘‘ شہباز شریف ....رہے نام اللہ کا.... غائب کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے۔