آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بچوں کیلئے بہترین تعلیمی سرگرمیاں

ایک عام تاثر یہ ہےکہ بچوں کے لیے سیکھنے یا تربیت حاصل کرنے کا واحد ذریعہ صرف اسکول ہیں۔ درحقیقت بچے کی پہلی درسگاہ اس کا گھر ہے، جہاں والدین اور دیگر اہل خانہ اس کی تربیت کرتے ہیں۔ آپ بچوں کو پُرجوش انداز میں یا تفریحی سرگرمیوں کے ذریعہ بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ مؤثر طریقہ کا ر کے تحت بھی بچوں کو تربیت فراہم کی جاسکتی ہے۔

کھیل کے ذریعے سکھائیں

تربیت کے عمل کو متحرک رکھتے ہوئے کھیلوں کی مدد لینے سے آپ کےبچے کی توجہ متعدد مضامین پر مرکوز رہے گی۔ یہ توجہ سیکھنے کے عمل کو آسان کرتے ہوئے بچے کے آگے بڑھنے کا بھی باعث بنے گی۔ اسکول جانے کی عمر کے بچوں (Preschoolers) کوبنیادی چیزیں سکھانے کے لیے کھیل کا سہارا لیں مثلاً کھیل کھیل میں انہیں کھلونوں، جانوروں، ہندسوں ، رنگوں اور اشکال کے ذریعے مختلف چیزوں کے بارے میں آگاہی دیں۔ 

اسکول جانے کی عمر کے بچوں کے لیے انسانی اعضاء، عالمی ریاستیں، غیر ملکی زبانیں اور تاریخ کا احاطہ کرنے والے کھیل اپنائیں، جو کچھ بھی آپ کھیلوں کی مدد سے تعلیم دینے کے لیے منتخب کرتے ہیں وہ سب آپ کا بچہ جلدی سیکھ لیتا ہے۔

تلفظ کی بنیاد سکھائیں

بچوں کو یہ سکھانا کہ پڑھنا (Reading)کیسے ہے، ان بہترین تحائف میں سے ایک ہےجو کسی بھی وقت بچے کو دیا جاسکتا ہے۔ تلفظ کی بنیادی باتیں سکھانے کے لیے فونک میتھڈ(Phonic Method)اپنائیں، جو کہ پڑھنے کی ایک تکنیک ہے اور حروف کے بجائے ان کی آواز کو بنیاد بناتی ہے۔ یہ طریقہ کار بچوں کو ہجے کرنا سکھاتا اور پڑھنے کی جانب راغب کرتا ہے۔

بچوں کو تلفظ سکھانے کے لیے آپ کو لگاتار آوازیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، ایسی سرگرمیاں اپنائیں جن کی مدد سے ان کا تلفظ بہتر بنایا جاسکے۔ ایسی چیزوں کی جانب توجہ دیں جن کا آغاز مخصوص آوازوں سے ہوتا ہے۔ اس طرح بچے الفاظ اور تحریر پر اپنی گرفت مضبوط کرسکتے ہیں۔ حروف تہجی کی کتابیں یا ڈیجیٹل کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے بھی تلفظ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

تحریری مشق کرنا

لکھنے کا ہنر زندگی بھر کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ بچوں کو ان طریقوں کے ذریعے لکھنا سکھائیں جس سے ان کے اندر لکھنے کی دلچسپی پیدا ہو۔ بچے آغاز میں لکھنے کے بجائے کاغذ گندا کرتے ہیں، انھیں ایسا کرنے دیں۔ آپ ٹریسنگ کے ذریعے انہیں لفظ بنانا سکھائیں، حروف اور نقطوں کی مدد سے اشکال بنانا سکھائیں، یہ مشقیں ایک طرف تفریح کا ذریعہ بنیں گی تو دوسری جانب بچوں کی اسکول کی تیاری میں معاون ہوں گی۔ اگر آپ کابچہ اسکول جاتا ہے تو اسے روزانہ کی بنیاد پر رائٹنگ ٹاسک دیں، اس طرح بچے کی تحریری صلاحیتیں بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

رنگوں کی شناخت

کم عمری سے ہی بچےرنگوں کی پہچان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ رنگ برنگی گیندوں یا کھلونوں کی مدد سے بچوں کو رنگوں کی شناخت بہتر طور پر کروائی جاسکتی ہے۔ تیز رنگ بچوں کی توجہ تیزی سے اپنی طرف مبذول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہٰذا پہلے تیز اور پھر ہلکے رنگوں کی پہچان کروائی جائے۔ بچوں کو رنگ برنگی گیندیں دیں اور ان سے کہیں کہ دو نیلی، ایک پیلی اور تین ہری گیندوں کو علیحدہ علیحدہ کریں۔ یہ طریقہ کار انھیں رنگوں کی پہچان کے ساتھ ساتھ گنتی بھی سکھائے گا۔ ایک ہی وقت میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو مختلف انداز سے کرتے رہنے سے ان کی صلاحیتوں میں مزید بہتر آئے گی۔

گنتی کرنے کی صلاحیت بڑھائیں

بچے کو گنتی سکھانا بہت آسان لگتا ہے لیکن صحیح ترتیب میں بلند آواز کے ساتھ نمبروں کی گنتی کرنا ان کے لیے ضروری ہے۔ ایسا کھیل اپنائیں جس میں چیزوں کو چھونے کے ساتھ ساتھ وہ گنتی بھی کریں۔ اس طرح بچے گنتی کرنے میں بھی بہتر ہوتے ہیں اور ان کے لیےمختلف زاویوں سے صلاحیتوں کا اظہار بھی آسان ہوجاتا ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ہاتھوں سے کسی پراجیکٹ پر کام کرنے سے انسان کی دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

ریاضی کی تعلیم

تعلیم دینے کے لیے ریاضی ایک آسان مضمون ہے کیونکہ یہ ہمارے ارد گرد زندگی کا حصہ ہے۔ بچوں کو جمع تفریق سکھانے کے لیے ریستوران میں دائیں اور بائیں جانب بیٹھے لوگوں کی تعداد کا مجموعہ معلوم کرنے کو کہا جائے۔ دوسری جانب تقسیم کے سوالات کے لیے بچوں کو میدان میں موجود کھلاڑیوں کی تعداد کو ٹیبل پر رکھی بوتلوں کی تعداد سے تقسیم کرنے کو کہا جائے۔

سائنسی تجربات

سائنسی تجربات کی بات کریں توذہن زمانہ طالب علمی کے دوران کیمسٹری لیب کی جانب چلاجاتا ہے لیکن یہاں چونکہ بات بچوں کی ہورہی ہے تو آپ کو انھیں سائنسی تجربات کروانے کے لیے عام اشیاکو استعمال کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر بچوں کو مختلف اشیا کے نام سکھانے کے لیے ڈراپس یا کلر فل ٹوتھ پیس کا سہارا لیں۔ 

ان اشیا کی مدد سے کاغذ پر کچھ تصاویر بنائیں اور بچوں کو ان کے نام بتائیں۔ بڑے بچوں کے لیے مختلف سائنسی تجربات کی لمبی فہرست موجود ہے لیکن اس حوالے سےآپ کا گھر بھی بکھر سکتا ہے، لہٰذا بچوں کے ساتھ ان تمام تجربات میں آپ کا شامل ہونا ضروری ہے۔

تعلیم سے مزید