آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سوشل ورک اس وقت عروج پر ہے۔ پنجاب میں پینے کے صاف پانی پہنچانے کے منصوبے پر بالآخر پیش رفت ہونا شروع ہوگئی ہے۔ آب پاک اتھارٹی کے سی ای او زاہد عزیز نے ٹیم بنانا شروع کر دی ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ آئندہ مالی سال میں آب پاک اتھارٹی کے لیے بڑا بجٹ مختص کرنے کا حکومت پنجاب ارادہ رکھتی ہے۔ چودھری محمد سرور موجودہ سیاسی صورتحال میں کافی ایکٹیو دکھائی دے ہے ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ہڑتال موخر کرانے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ 

پی ٹی آئی کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چودھری سرور کو خاص ٹاسک دیئے گئے ہیں جن میں تاجر برادری، اتحادیوں سمیت پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنے سمیت دیگر ذمہ داریاں چودھری سرور کے پاس ہیں ، وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو تیسری بار پھر لائف لائن مل گئی ہے۔ ان کی گیم اوور ہوتے ہوتے رہ گئی ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کواقتدار کے ستون کے گرد وزیراعظم عمران خان کی سپورٹ پھر سے مل گئی ہے۔ وزیراعظم کے حالیہ دورہ لاہور میں وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار پر ایک بار پھر مکمل اعتماد کا اظہار کرنے کے علاوہ ان کی کارکردگی کو بہترین کارکردگی کہہ کر عمران خان نے درحقیقت وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو تیسری لائف لائن دے دی ہے۔ 

عمومی طور پر کہا یہ جاتا ہے کہ لائف لائنز صرف 3 ہوتی ہیں چاہے ویڈیو گیم میں ہو،یا سیاست کی گیم ہو لیکن عثمان بزدار کے حلقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ آج کل ایسی گیمز بھی ہیں جن کی لائف لائنز 5سے بھی زیادہ ہیں اور عثمان بزدار کی لائف لائن وزیراعظم عمران خان ہیں جب تک وہ سردار عثمان بزدار سے ناراض نہیں ہوتے عثمان بزدار کو لائف لائنز ملتی رہیں گی۔ جبکہ پی ٹی آئی کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار لائف لائن لینے میں کامیاب تو ہوگئے ہیں لیکن اب ان کو اپنی اننگ جاری رکھنے کے لیے بونس لینا ہوگا۔ اگر بونس نہ لیا تو گیم کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو کارکردگی دکھانا ہوگی اور حقیقت یہ ہے کہ کارکردگی دکھانے کے لیے ترقیاتی منصوبے شروع کرنا ہوں گے۔ 

چونکہ پنجاب کے سیاسی کلچر میں جیت اس کی ہوتی ہے جو بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ سردار عثمان بزدار ایماندار اور محنتی بہت ہیں لیکن پنجاب کی بیوروکریسی حکومت کا ساتھ نہیں دے رہی۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پنجاب کے چیف سیکرٹری میجر (ر) اعظم سلمان اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو مکمل مینڈیٹ ملنے کے باوجود عوام کے لیے کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ ایل ڈی اے سمیت دیگر محکموں میں نئے منصوبے شروع ہونے تو دور کی بات جاری منصوبے بھی اس مالی سال میں مکمل ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔

جہاں تک ملک کی سیاسی صورتحال کا تعلق ہے ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو مرکز میں ایم کیو ایم، سندھ میں جی ڈی اے، بلوچستان میں بی این پی (مینگل) کی جانب سے گلے شکوئوں کا سامنا ہے وہیں پنجاب میں اتحادی جماعت ق لیگ بھی حکومت سے نالاں نظر آتی ہے۔ق لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے آئے روز تند و تیز بیان اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پنجاب میں بھی ’سب اچھا‘ نہیں ہے۔ 

خبر ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ق اپنے وزیروں کے اختیارات میں کمی اور اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر حکومت سے ناراض ہے جبکہ اندرونِ خانہ یہ بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پچھلے دنوں چیف سیکریٹری پنجاب کو وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات میں سیاستدانوں کو نظر انداز کرکے اپنے کام سے کام جاری رکھنے کا ملنے والا مینڈیٹ بھی ناراضی کا ایک سبب ہے جبکہ تیسری بڑی وجہ ن لیگ کی جانب پنجاب حکومت میں نمبر گیم کا کھیل ہے جس میں ن لیگ کا رجحان ق لیگ کی جانب بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ 

گزشتہ دنوں ن لیگ کی جانب سے یہ بھی تاثر دیا گیا کہ ہم نے اپنا نمبر گیم پورا کر لیا ہے، اب تبدیلی کیلئے قائد نواز شریف کا ایک اشارہ درکار ہے۔ مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کا کہناہے کہ نواز شریف جب حکم کریں گے تب پنجاب اور وفاق میں حکومت بدل کر رکھ دیں گے۔ شہباز شریف پہلے ہی تبدیلی کے خواہاں ہیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں،ق لیگ کے رہنمائوں کے بیانات اور ق لیگ کی سیاست کے اسرار و رموز سمجھنے والے حلقوں کے مطابق ن لیگ اورق لیگ کا اتحاد دیوانے کی بڑ ہے، ق لیگ ن لیگ کے رویے کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے اور اب وہ دوبارہ ن لیگ کے جھانسے میں نہیں آئے گی، تاہم سیاست میں کچھ بھی حرفِ آخر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

اسپیکر پنجاب اسمبلی اور ق لیگ کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی کے مطابق حکومت سے ناراضگی کی وجہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نئی مشاورتی کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ ہے جس پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ سوتن والا سلوک نہیں کرنا چاہیے‘۔ اسی طرح اس سے چند روز قبل پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کا بھی یہ بیان میڈیا پر گرم رہا کہ ’شاید وزیراعظم مجھے پسند نہیں کرتے‘۔

تاہم دوسری جانب وزیراعظم نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی سربراہی میں وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی مسلم لیگ ق سے بات چیت کے لیے بنا دی ۔ شفقت محمود کی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات ہوچکی ہے مگر بے سود لگتا ہے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بزدار ق لیگ کو منانے میں کامیاب ہوجائیں گے یہ آنیوالا وقت بتائے گا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید