آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال :۔ میں نے ایک مطلّقہ عورت سے شادی کی تھی، اس کی ایک 5 سال کی بیٹی ہے تو میں نے اس کی ولدیت میں اپنا نام درج کرادیا، تا کہ کاغذات اور اسکول میں ایڈمیشن میں رکاوٹ نہ آئے اور 5 سال کی بچی پر برا اثر نہ پڑے اور بعد میں بچی پر مشکلات نہ آئیں کہ تمہارے باپ نے ماں کو کیوں چھوڑا؟ اب میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا نام اس کے نام کے ساتھ رہے۔اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: اس بچی کا حقیقی والد مطلّقہ عورت کا سابقہ شوہر ہے، اس لیے شریعت کی روسے اسے بلانے ،پکارنے اور کاغذات میں ہر طرح اسی کی طرف منسوب کرنا چاہیے۔ آپ کا کاغذات میں اس کی ولدیت میں اپنا نام درج کرانا ناجائز ہے۔ قرآن کریم حکم دیتا ہے کہ اولاد کو ان کے حقیقی باپ کی طرف نسبت کرکے پکارو اور احادیث بھی اس سلسلے میں بہت زیادہ اور صاف ہیں کہ نسبت حقیقی والد ہی طرف ہونی چاہیے۔ اگر بچی کو حقیقی والد کی طرف منسوب نہ کیا جائے تو مستقبل میں اس سے بہت شرعی خامیاں پیش آئیں گی، اس لیے آپ پر لازم ہے کہ ابھی ہی سے درست ولدیت کے ساتھ اس کے کاغذات بنوالیں۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk

اقراء سے مزید