آپ آف لائن ہیں
جمعرات15؍شعبان المعظم 1441ھ 9؍ اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کم نیند موٹاپے کی وجہ بن سکتی ہے

اگر آپ اپنے موٹاپے سے پریشان ہیں تو سب سے پہلے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں کیونکہ موٹاپا ایک ایسا مرض ہے، جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مثلا ً توانائی میں توازن کی کمی، ماحول، خاندان، جینز، ادویات، عمر اور خوراک لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ موٹاپے کی ایک وجہ کم نیند بھی ہوسکتی ہے۔ 

اچھی اور پُرسکون نیند صحت کے لیے بے حداہم ہے، تاہم آج کے دور کی مصروفیات نے نیند کا اوسط دورانیہ6گھنٹوں سے بھی کم کردیا ہے (طبی ماہرین 7 سے 8 گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں)۔ اگر آپ کو نیند کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے تو یہ کمی دیگر مسائل کے ساتھ موٹاپے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ کیسے؟ آئیے جانتے ہیں ۔

طبی ماہرین موٹاپے کو نیند سے منسلک کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ نیند اور وزن کا ایک خاص تعلق ہے۔کم عمری میں اگر آپ روزانہ 10گھنٹےکے بجائے 6گھنٹے سوتے ہیں تو یہ عمل آپ کے ہارمونز پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جو لوگ پوری نیند نہیں لیتے ان کے جسم میں گریلن زیادہ اور لیپٹن لیول کم ہوتا ہے اور یہ لیول کھانے کی اشتہا بڑھا دیتا ہے۔ 

خاص طور پر بہت زیادہ کیلوریز (چربی ) والی غذائیں کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے جبکہ اپنی خواہشات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوجاتی ہے۔ ان دونوں کا امتزاج بہت خطرناک ہے کیونکہ اس کا نتیجہ موٹاپے کی صورت میں نکلتا ہے جبکہ تھکاوٹ کا احساس الگ ہر وقت طاری رہتا ہے۔

یونیورسٹی آف کولوراڈوکی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں 100ایسے شرکا کو شامل کیا گیا، جنھوں نے ہفتے میں صرف5گھنٹے نیند لی، ایک ہفتے بعد جب ان افراد کا وزن کیا گیا تو اس میں تقریباً 2پاؤنڈ کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

نیند کی کمی سے ہارمونز متاثر ہونا

نیند کی کمی لیپٹن اور گریلن نامی ہارمونز کو متاثر کرتی ہے۔ لیپٹن چربی کا ایک خلیہ ہوتاہے، جو ہارمون سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ خلیہ دماغ کو جسم میں توانائی حاصل ہوجانے کا اشارہ دیتا ہے۔لیپٹِن ہارمون جسم کو بتاتا ہے کہ اب مزید کھانے کی ضرورت نہیں، لہٰذا انسان کھانے سے ہاتھ روک لیتا ہے جبکہ گریلن نامی رطوبت ہمارے معدے اور چھوٹی آنت پر اثر انداز ہوتی اور بھوک کو کنٹرول کرتی ہے۔ 

یوں لیپٹن کی کمی اور گریلن کی زیادتی موٹاپے کا باعث بنتی ہے کیونکہ جب گریلن کا لیول بڑھتا ہے تو کھانے کی خواہش بھی بڑھتی ہے۔ اگر یہ ہارمون لگاتار بڑھتا رہے تو آپ کو بھوک زیادہ لگے گی، بھوک کی زیادتی زیادہ کھانے کا سبب بنتی ہےاور زیادہ کھانا موٹاپے کا۔

ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق نیند کی کمی میٹابولک ہارمونز میں تبدیلیوں کا سبب بنتی ہے۔ تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ درحقیقت کم نیند کے سبب ہمارے دماغی نیٹ ورک میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں اور یہ ہمیں وزن میں اضافہ کرنے والی خوراک کی جانب لے جاتی ہیں۔

کتنی نیند بہتر

طبی ماہرین عمر کے مختلف حصوں میں نیند کا دورانیہ مختلف بتاتے ہیں۔

٭پیدائش سے دو ماہ تک ۔۔12سے 18گھنٹے

٭ 3ماہ سے 1سال تک۔۔14سے 15گھنٹے

٭1سے 3سال تک۔۔12سے 14گھنٹے

٭3سے 5سال تک۔۔11سے 13گھنٹے

٭5سے8 سال تک۔۔10سے 11گھنٹے

٭12سے 18سال تک۔۔8.5 سے 9.25گھنٹے

٭18سال سے زائد عمر والے افراد۔۔7سے8گھنٹے

نیند کی کمی کیسے دور کی جائے؟

اگر آپ بھی نیند کی کمی کا شکار ہیں تو ذیل میں درج چند مفید مشورے نیند کی کمی دور کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔

٭قیلولہ اگرچہ صحت کے لیے بہترین ہے لیکن نیند کی کمی کا شکار افراد رات کی پرسکون نیند کے لیے دن کے وقت قیلولہ نہ کریںتو زیادہ مناسب ہے۔

٭مختلف غذاؤں کا استعمال بھی بہتر اور پر سکون نیند کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اپنی غذا میں اخروٹ، بادام، شکرقندی، گرم دودھ، وغیرہ شامل کریں۔ طبی ماہرین کے مطابق ان غذاؤں کا استعمال صبح یا شام کے وقت کیا جاسکتا ہے۔

٭بےخوابی کی شکایت دور کرنے کے لیے میلاٹونن نامی ہارمون بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔جسم میں اس ہارمون کے اضافے سے نیند میں باقاعدگی آتی ہے، اس لیے آپ کو ایسی غذا کا استعمال بڑھانا چاہیے جس سے جسم میں میلاٹونن زیادہ پیدا ہو مثلاً انناس، کیلے، کینو، ٹماٹر، جو اور مکئی وغیرہ۔

٭آپ کی بے خوابی کی وجہ آپ کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی ہوسکتے ہیں۔یہ الیکٹرانک آلات ایک خاص طرح کی طاقتور نیلی روشنی خارج کرتے ہیں۔ اس روشنی کی وجہ سے جسم میں میلاٹونن ہارمون ٹھیک سے نہیں چھوٹ پاتا ۔

٭ نیند لانے میں خوشبو کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ چنانچہ لیونڈر بے خوابی سے نجات کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔اس کی خوشبو سے انسان غشی میں جانے لگتا ہے۔ اس تیل کے چند قطرے سونے سے پہلے ماتھے اور کنپٹی پر لگائیں، آپ را ت بھر چین کی نیند سوئیں گے۔ یہی نہیں، لیونڈر کے علاوہ مختلف پودوں کی موجودگی بھی پرسکون نیند لانے کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

صحت سے مزید