آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسلامو فوبیا کا ایشو، بیرونس وارثی کا حکومت پر ہپو کریسی کا الزام

لندن (پی اے) سابق ٹوری منسٹر بیرونس وارثی نے اسلامو فوبیا کے معاملے پر حکومت پر ہپو کریسی کا الزام لگایا ہے۔ کنزرویٹیو پارٹی کی سابق شریک چیئر بیرونس سعیدہ وارثی نے غیر جانبدارانہ طور پر اسلاموبیا ایشو پر پارٹی کے موقف کا اس کے اینٹی سیمیٹزم پر موقف کے ساتھ موازنہ کیا۔ انہوں نے لارڈز میں کوئسچن ٹائم میں منسٹرز کو چیلنج کیا کہ وہ اینٹی سیمیٹزم پر اقدامات کے مقابلے میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے حکومت کے موقف میں منافقت اور ستم ظریفی کو تسلیم کریں۔ لیڈی وارثی کے یہ کمنٹس اس وقت سامنے آئے جب آل پارٹیز پارلیمنٹری گروپ (اے پی پی جی) کی اسلامو فوبیا کی تیار کردہ تشریح کو حکومت کے قبول کرنے سے انکار پر پیئرز نے دبائو ڈالا۔ ہائوسنگ، کمیونیٹیز اینڈ لوکل گورنمنٹ منسٹر لارڈ ویسکائونٹ ینگر آف لیکی نے کہا کہ حکومت اینٹی مسلم منافرت اور ہر قسم کے ہیٹ کرائمز کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے مخلص اور پر عزم ہے لیکن انہوں نے کہا کہ اے جی جی پی نے اسلامو فوبیا کی جو تعریف تیار کی ہے وہ ایکویلٹی ایکٹ کے مطابق نہیں

ہے اور اس کے آزادی اظہار پر نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ بیرونس وارثی نے کہا کہ پارلیمانی گروپ کی تجویز کردہ تعریف نان لیگلی بائنڈنگ ورکنگ ڈیفینیشن ہے جو ایکویلٹی ایکٹ سے متصادم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی اور حکومت نے لیبر پارٹی پر اینٹی سیمیٹزم کے بارے میں خاصی درست تنقید کی ہے۔ سعیدہ وارثی نے کہا کہ کیا آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اینٹی سیمیٹزم پر حکومت کے اختیار کئے جانے والے موقف کے مقابلے میں اسلامو فوبیا کے سلسلے میں حکومت کا موقف ستم ظریفی اور منافقت پر مبنی ہے۔ لارڈ ینگر نے کہا کہ حکومت اینٹی سیمیٹزم کی نان بائنڈنگ تعریف اپناتے ہوئے اس ایشو سے وہاں نمٹنے کیلئے عزم اور خلوص کا مظاہرہ کرے گی جہاں یہ سر اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد نے اے پی پی جی کی تیار کردہ اسلامو فوبیا تعریف کو اپنانے کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک جاری مسئلہ ہے جس پر بات چیت جاری ہے۔ ساؤتھ وارک سے لیبر کے لارڈ کینیڈی نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کو ہراساں کرنے اور نسلی طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کی خوفناک و تکلیف دہ مثالیں موجود ہیں۔انہوں نے پوچھا کہ حکومت ایسی تعریف کو کیوں نہیں اپنا رہی جس کو سیکڑوں تنظیموں نے قبول کیا ہے اور ان میں لوکل اتھارٹیز اور پولیس فورسز بھی شامل ہیں۔ لارڈ ینگر نے کہا کہ حکومت کا وسیع تعریف کی جانب جلد از جلد پیشرفت کا ارادہ ہے۔ منسٹرز اور آفیشلز اس معاملے کو درست انداز میں سمجھنے کیلئے اس پر بھرپور گفتگو کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید