آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے تحت وزیراعظم عمران خان نے یکم جولائی 2020ءسے سول سروس سسٹم میں اصلاحات لانے کا جو فیصلہ کیا ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز (سابق ڈی ایم جی/ سی ایس پی) کا دہائیوں پرانا غلبہ ختم ہونے سے اس گروپ کی 40فیصد (600کی تعداد میں) اسامیاں ختم ہو جائیں گی۔ اب یہ اسامیاں تکنیکی ماہرین کو وفاقی سطح پر دی جائیں گی۔ یہ ایک اصولی فیصلہ ہے جسکے تحت متعلقہ امور پر دسترس رکھنے کے اہل افراد آگے آسکیں گے۔ جس سے بہت سے معاملات میں سرخ فیتے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہوگی اور کام میں روانی آسکے گی۔ قیامِ پاکستان کے 72برسوں میں متذکرہ انتظامی شعبوں میں تعلیم و ٹیکنالوجی کی تبدیلیوں سے تربیت یافتہ باصلاحیت افراد کی ضرورت کا بڑھنا گلوبلائزیشن کا حصہ ہے گویا ایف پی ایس سی کے امتحان کی ترجیحات میں تبدیلی نئے قوانین کا منطقی نتیجہ ثابت ہوگی جس میں آج جگہ جگہ خامیاں پائی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نئی اصلاحات کے نتیجے میں حکومت کارکردگی نہ دکھانے والے اور غیرموثر سرکاری ملازمین کو 20سال کی ملازمت کے بعد ریٹائر کر سکے گی۔ اصلاحات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نئی روٹیشن پالیسی کے متعارف ہونے سے پی اے ایس اور پی ایس پی افسران کی پہلی تعیناتی انکے ڈومیسائل کے صوبے سے باہر کی جائے گی جس کی مدت مردوں کے لئے پانچ اور خواتین کیلئے تین سال سے کم نہ ہوگی۔ اگرچہ متذکرہ اقدامات وقت کی ضرورت ہیں لیکن موجودہ نظام کی جڑیں اس قدر گہری ہیں کہ حکومت کو نئے فیصلوں کے مطلوبہ نتائج کے حصول میں مشکل چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا اس ضمن میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی مداخلت ہے جسے روکنا ہوگا۔ عالمی تناظر میں یہ اقدام ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین