آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سانحہ یوحنا آباد کے قیدیوں کی رہائی

گل و خار … سیمسن جاوید
جیسے جیسے سانحہ یوحنا آباد میں گرفتار مسیحیوں کی قسمت کا فیصلہ طول پکڑتا جا رہا تھا۔ مایوسی اور وسوسے بڑھتے جا رہے تھے اورطرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیںکیونکہ ان 42 قیدیوںکا مقدمہ کسی ایک وکلاء پینل کے پاس ہونے کی بجائے مختلف گروپس میں تقسیم تھاجو اپنے اپنے وسائل اور علم کے مطابق مقدمہ لڑ رہے تھے۔جہاں گرفتار ہونے والے گھرانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا تھا وہاں امید کی کرن بھی پھوٹ رہی تھی۔2019 ء کے آخری مہینوں میںیہ کہا جا رہا تھاکہ خدا کے فضل وکرم سے یوحنا آباد کے قیدی اپنے خاندان ماں باپ،بہن بھائی اور بچوں کے ساتھ کرسمس کریں گےاور جنوری میں تو ہر روز ہی یہ خبر سننے کو مل جاتی کہ بس فیصلہ آنے ہی والا ہے۔بھلا ہو ان افراد کا جنہوں نے اصل جڑ کو پکڑ لیا اور وہ صلح کروانے میں کامیاب ہوگئے۔آخر کار انسدادِ دہشت گردی لاہور کی خصوصی عدالت نے پانچ سال کے بعد 30 جنوری 2020 کو یوحنا آباد،لاہور میںحافظ نعیم اور بابر نعمان کو زندہ جلائے جانے ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اورتوڑ پھوڑ میں ملوث افرادکے مقدمے کا فیصلہ سنادیاکہ چونکہ مدعی عالیہ سے راضی نامہ ہو چکا ہے لہٰذا ان 40 افراد کو بری کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ 15 مارچ 2015 بروز اتوار لاہور میں مسیحی برادری کے اکثریتی علاقے

یوحنا آباد میں قائم دو چرچوں، رومن کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ میں عین اْس وقت 2 خودکش دھماکے ہوئے جب مسیحی ان چرچز میں عبادت میں مصروف تھے۔دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے تھےجس پر مشتعل ہو کر مسیحیوں نے موقع پردو مشتبہ افراد کو زندہ جلاد یا اور یوحناآباد سے باہر نکل کر توڑ پھوڑ کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔بم دھماکوں کی آواز اور دو اشخاص کے زندہ جلائے جانے کی خبر آناً فاناً اردگرد کے علاقوں میں پھیل گئی اور مسلمان بھی یوحنا آباد میں جمع ہونا شروع ہو گئے جس سے بلوے کا خطرہ بڑھ گیالیکن رینجرز نے وقت پر پہنچ کر کنٹرول سنبھال لیا۔ اْس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے کہنے پر توڑ پھوڑ اور دوافراد کوجلائے جانے کے خلاف گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔سول کپڑوں میں ملبوس ایجنسیوں اور پولیس کے عملے نے گھر گھر چھاپے مارے اورہاتھ لگنے والوںپر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ 100 افرادکو ویڈیو
فٹ ایجز کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔گرفتار افراد کی شناخت پریڈ کے بعد 42 افراد کے خلاف فردِجرم عائد کی گئی جن میں مسیحا ملت پارٹی کے چیئرمین اسلم پرویز سہوترہ بھی شامل تھے۔ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مسیحیوں کو اشتعال دلایا جس کے نتیجے میں نوجوان توڑ پھوڑکرنے پر راغب ہوئے۔ ان 42 افراد میں سے دو افراد کا انتقال جیل میں ہو گیاتھا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے جیسے ہی کیس میں ملوث افراد کی رہائی کا فیصلہ سنایا اوریوحنا آباد کے افراد کے بری ہونے کی خبر آئی توپوری دنیا میں رہنے والے پاکستانی مسیحیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے شکرانے کی دعا ئیںکیں ۔ یوحنا آباد اور اْس کے گرد و نواح کے مسیحی علاقوں میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔مٹھائیاں تقسیم کی گئیںاورشکرانے کی دیگیں پکائی گئیں۔جہاںانسان کی سوچ کی حد ختم ہوتی ہے وہاں خدا کے کام کاآغاز ہوتا ہے۔ آخرکارخدا نے لوگوں کی جد وجہد اوردعاؤں کو قبول کیا اور تقریباً 5سال قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد مسیحی نوجوان اپنے پیاروں کے پاس گھروں کو لوٹ آئے۔ آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد مسیحیوں کے لئے یوحنا آباد کے قیدیوں کو چھڑانا ایک بہت اہم معرکہ تھاکیونکہ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا تشویش بڑھتی جا رہی تھی ۔اس اہم معرکے کو سر کرنے کیلئے ہر کوئی اپنی اپنی سطح پردعائیں اور کام کر رہا تھا۔ کالم نگار کالم لکھ رہے تھے۔مسیحی سوشل و مذہبی تنظیمیں سر جوڑ ے سوچ رہی تھیں کہ ان افرادکی رہائی کو کیسے ممکن بنایا جائے۔پانچ سال پہلے کے اس سانحہ کے بعد یوحنا آباد اور گرد و نواح کے مسیحیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا ۔ لوگ اپنے گھر باہر چھوڑ کر دربدرہوگئے تھے ۔مائوں کی بوڑھی آنکھیں اپنے بیٹوں کو دیکھنے کے لئے ترس گئی تھیں۔دن بہ دن متاثرہ خاندانوں کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہاتھا ۔ مگر ان کربناک حالات میںجن مخیر حضرات نے ا ن کی مالی معاونت کی وہ قابل تحسین ہے۔ ،مشنری پاسٹرز،پادری حضرات ،فادر صاحبان اور این جی اوزنے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کے علاوہ فری لیگل سپورٹ بھی مہیا کی۔وہ لوگ بھی قابل تعریف ہیں جن کی بدولت جلائے جانے والوں کے لواحقین کے ساتھ صلح ممکن ہوئی۔ یہاں پاسٹر انور فضل،صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق اعجازاگسٹین و دیگر حضرات بھی قابل تعریف ہیںجنہوں نے ہار نہ مانی اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ ہم دعا گو ہیں ان تمام متاثرہ خاندانوں کیلئے اور جیل سے رہائی پانے والے افرادکیلئے کہ خدائے قدوس و برحق تعالی ا ن کی زندگیوں کو بحال کرےاورہمارے ملک پاکستان کو ایسے سانحات سے محفوظ رکھے۔ آمین 

یورپ سے سے مزید