اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں امریکا کا کامیاب دورہ کیا ہے جس کے بعد ان کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دورے کے دوران اِن کی کھل کر تعریف کی اور غزہ جنگ بندی منصوبے پر اسرائیل کی کارکردگی کو ’سو فیصد‘ قرار دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نیتن یاہو غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں جانے سے دانستہ طور پر تاخیر کر رہے ہیں۔
معاہدے کے مطابق قیدیوں کے تبادلے، امداد کی فراہمی اور محاذوں کے منجمد ہونے کے بعد غزہ میں نئی انتظامیہ اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورس تعینات ہونا تھی مگر اسرائیل نے ابھی تک اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے جنگ بندی کو مکمل طور پر نافذ نہ کرنے کی چار اہم وجوہات ہیں۔
1۔ دائیں بازو کا دباؤ
نیتن یاہو کی حکومت اسرائیل کی تاریخ کی سب سے سخت گیر دائیں بازو کی حکومت ہے۔ ان کے اتحادی وزراء جنگ بندی کے خلاف ہیں اور غزہ پر قبضے کے حامی ہیں۔ ان کی حمایت برقرار رکھنا نیتن یاہو کے لیے سیاسی طور پر ضروری ہے۔
2۔ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی مخالفت
بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی سے اسرائیل کی فوجی آزادی محدود ہو جائے گی۔ نیتن یاہو نہیں چاہتے کہ غزہ میں کسی بیرونی طاقت کا اثر و رسوخ بڑھے یا اسرائیل کے فوجی فیصلے بین الاقوامی دباؤ میں آئیں۔
3۔ دو ریاستی حل سے گریز
جنگ بندی معاہدے میں مستقبل کے سیاسی حل کی بات بھی شامل ہے جسے دو ریاستی حل کی طرف قدم سمجھا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہیں جبکہ اسرائیلی حکومت کی نئی آباد کاریاں اس امکان کو مزید کمزور بنا رہی ہیں۔
4۔ جنگ کی واپسی سے سیاسی فائدہ
نیتن یاہو کو اپنے ملک میں کرپشن مقدمات، جبری فوجی بھرتی اور 7 اکتوبر کے حملوں پر عوامی جواب دہی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ممکنہ طور پر نئی جنگ ان مسائل سے توجہ ہٹا سکتی ہے اور انہیں ایک بار پھر ’جنگی رہنما‘ کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو فی الحال حالات کو جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ نہ امریکا ناراض ہو اور نہ ہی ان کی داخلی سیاسی طاقت کمزور پڑے۔