آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے دورۂ پاکستان نے جہاں ہم وطنوں کو دنیا کے اہم ترین ادارے کے موجودہ سربراہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا وہاں ہمارے طلبہ، دانشوروں، سیاستدانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو فکر و دانش کی حامل اہم شخصیت کے افکار کو بالمشافہ سننے کا موقع ملا۔ پیر 17فروری کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسلام آباد میں ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کی جو پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام کے چالیس سال مکمل ہونے پر منعقد ہوئی اور جس کےذریعے عالمی سطح پر آج کے دور میں مہاجرین کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے انسانی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔ پاکستان وہ ملک ہے جو فخر سے کہہ سکتا ہے کہ اس نے نہ صرف 30تا 40لاکھ افغان پناہ گزینوں کی چار عشروں سے میزبانی تاحال جاری رکھی بلکہ اقوامِ متحدہ کے قیام کے وقت سے اب تک اس کی ہر قرارداد کو صدق دل سے تسلیم کیا۔ یہاں تک کہ 1948میں جب کشمیر میں اتاری گئی بھارتی فوج کی مزاحمت کرنے والے دستے سرینگر کے قریب پہنچ چکے تھے اس وقت بھی سلامتی کونسل کی قرارداد کے احترام میں اسلام آباد نے ان حریت پسندوں کو جنگ بندی پر رضا مند کیا اور تاحال سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر مکمل عملدرآمد کے لئے کوشاں ہے۔ اقوامِ متحدہ کو جب بھی دنیا کے کسی

حصے میں قیام امن کے لئے فوج بھیجنے کی ضرورت پڑی، پاکستان اس کی کاوشوں میں پیش پیش رہا۔ منگل 18فروری کو معزز مہمان کرتارپور راہداری، بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ دیکھنے گئے اور یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب سمیت خاصے سرگرم رہے۔ ان دوروں، ٹویٹر پیغامات، طلبہ سے خطاب، اخباری انٹرویو اور حکومتی شخصیات سے گفتگو میں انہوں نے جو باتیں کہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان اقلیت نواز ملک ہے اور کرتارپور راہداری پوری دنیا کے لئے بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ کی عملی تصویر ہے۔ طلبہ سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کا ہر جگہ احترام کیا جانا چاہئے۔ اخباری انٹرویو کے دوران ان کی یہ تشویش واضح تھی کہ بھارتی پارلیمنٹ کے منظور کردہ متنازع ’’شہریت ترمیمی قانون‘‘ کے تحت 20لاکھ افراد کے ’’بےوطن‘‘ ہونے کا خدشہ ہے جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور حال ہی میں دہلی سے جاری کی گئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی تفصیلات کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان رپورٹوں میں اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کی دو رپورٹیں بھی شامل ہیں، ان سب پر سنجیدہ توجہ دی جانی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ انکوائری کمیشن کے قیام جیسے فیصلے صرف سلامتی کونسل کر سکتی ہے۔ ایسے منظر نامے میں کہ میونخ میں منعقدہ سیکورٹی کانفرنس کی رپورٹ پاک بھارت تصادم کے امکانات کی طرف اشارہ کررہی ہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کا ویٹو (فیصلوں کو منسوخ کرنے) کا حق مباحثوں کا موضوع بنا ہوا ہے، انتونیو گوتریس ویٹو پاور کو عدم مساوات کی مثال سمجھتے ہیں مگر ان کا کہناہے کہ افراد اور ممالک میں مساوات قائم کرنا آسان نہیں، یہ ایک طویل عمل ہے۔ انتونیو گوتریس نے پولیو، نوجوانوں کی تعلیم، مواقع روزگار اور انسانی حقوق سمیت کئی امور پر تبادلہ خیال کیا جو یقیناً حوصلہ افزا ہے۔ مگر دنیا میں رہنے بسنے والے چھوٹے ممالک کی نظر میں طاقت کی زبان کو سکہ رائج الوقت دینے کا موجودہ منظر نامہ اقوام متحدہ کے مقاصد کی تصویر سے مختلف ہے جبکہ کرۂ ارض میں مظلوموں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی زبانوں سے بلند ہونے والے اس سوال کی آہنگ ہر لمحہ بلند ہورہی ہے کہ کیا اخلاق کی طاقت کی بنیاد پر دنیا کی تصویر کشی کبھی ہو سکے گی؟

تازہ ترین