آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جمیلہ اسٹریٹ،مارسٹن روڈ دو قدیم اور مشہور سڑکیں

اقبال اے رحمٰن

جمیلہ اسٹریٹ / بارنس اسٹریٹ

جمیلہ اسٹریٹ کا پرانا نام بار نس اسٹریٹ ہے، پہلے سعید منزل تا لیاری ایک ہی سڑک تھی جو بارنس اسٹریٹ کہلاتی تھی، جب اس کا نام تبدیل ہوا تو سعید منزل تا نشتر روڈ یہ جمیلہ اسٹریٹ کہلائی اور گھاس منڈی سے لیاری تک محراب خان عیسی خان روڈ ۔

جمیلہ اسٹریٹ ایک بھرپور اور گنجان سڑک ہے، سعید منزل سے اندر آئیں تو پاکستان مسجد، چانڈو بلڈنگ، ، ماضی کا جوبلی سینما جو اب شاپنگ سینٹر بن چکا، ماضی کا وہ پوش علاقہ، جہاں کی اپنی روائتیں تھیں، اور یہودی عبادت گاہ جو مسمار کرکے رہائشی اور کاروباری کمپلیکس میں تبدیل کردی گئی، ابتدائی حصہ شہر کا خوبصورت علاقہ کہلاتا تھا۔یہاں کشادہ اور صاف ستھری سڑکیں اور گلیاں تھیں، رنگ و روغن سے آراستہ خوبصورت عمارتیں تھیں، اپر مڈل کلاس طبقے سے آباد اس علاقے میں لڑکیاں ایسی تراش خراش کے برقعے زیب تن کرتی تھیں جو اس زمانے کی فلموں میں زیبا اور شمیم آرا پہنتی تھیں ۔

جمیلہ اسٹریٹ کے ساتھ سینماؤں سے معروف مارسٹن روڈ ہے، آگے چل کر اس سڑک کے ایک جانب رامسوامی ہے اور دوسری جانب رنچھوڑلائن، دونوں علاقے شہر کے قدیم کلاسک علاقے ہیں۔

مارسٹن روڈ

بندر روڈ سے جمیلہ اسٹریٹ میں داخل ہوں تو پہلے چوراہے کے ایک جانب جوہر روڈ ہے اور دوسری جانب مارسٹن روڈ، مارسٹن روڈ کا نیا نام وحید مراد روڈ ہے۔ اس سڑک پر چھ سنیما تھے، چارسنیما قدیم تھے اور دو بعد میں بنے۔ اس سڑک پرماما پارسی اسکول کا عقبی حصہ لگتا ہے۔ آٹو پارٹس مارکیٹ کی دکانیں پھیل کر اس سڑک پر تک آگئی ہیں۔ گل پلازہ کا عقبی حصہ بھی اس سڑک پر کھلتا ہے اور فلم دیکھنے کے لئے آنے والوں کی طویل عرصے سے خدمت کرتی لسی کی دکان بھی اس سڑک پر ہے۔

مارسٹن روڈ اولاً کراچی کے پہلے پولیس چیف جنرل ایل ٹی مارسٹن سے منسوب ہوا، وہ میانی کی جنگ میں چارلس نیپئیر کے شریک کار تھے اور ایک موقع پر انہوں نے چارلس نیپئیر کو ایک بڑے خطرے سے بچایا تھا۔ کراچی پر قبضے کے تقریباً 8 برس کے بعد سندھ میں جب محکمہ پولیس قائم ہوا تو اس کے سربراہ کیپٹن براؤن بنے اور کراچی پولیس چیف ایل ٹی مارسٹن، فوج میں جنرل مارسٹن کا تعلق 25 ویں رجمنٹ سے تھا اور وہ بہادر افسروں میں شمار ہوتے تھے۔ بحیثیت پولیس چیف وہ کراچی کے کلکٹر کرنل پریڈی کے ماتحت تھے۔ جنرل مارسٹن کراچی ریس کلب کے بھی بانی مانے جاتے ہیں۔ اس سڑک کا نام مارسٹن روڈ اس لیےارکھا گیا کہ اس سڑک پر ان کی وسیع و عریض کوٹھی تھی، جنرل مارسٹن کا 1902ء میں انتقال ہوا۔

کولاچی کراچی سے مزید