آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’نگار سنیما‘ اس جگہ قیامِ پاکستان سے قبل موتی رام تھیٹر تھا

گل حسن کلمتی

پاکستان بننے کے وقت کراچی میں 22 سنیما موجود تھے۔ان پرانے سنیماؤں میں اب صرف تین موجود ہیں ،کمار نپئیر روڈ،راکسی بھیم پورا اور نگار- کمار اور راکسی اب تک چل رہے ہیں لیکن نگار 2012 میں بھتہ نہ دینے پر بم دھماکے کا شکار ہوا،جس کے بعد سے بند ہے۔آخری فلم جو نمائش کے لیے پیش ہوئی وہ پشتو فلم”دام گناھ دہ چہ پختون یم” تھی۔1921 میں کراچی میں چار تھیٹر اور تین سنیما تھے۔

سنیماؤں میں اسٹار،پیلس اور کراؤن تھے۔کراؤن ٹاکیز کا نام بعد میں تبدیل کرکے “پلازہ” رکھا گیا۔چار تھیٹر تھے۔پارسی تھیٹر،یہ 1928 تک تھا،اس میں آخری جو تھیٹر ہوا وہ،لیلی مجنوں تھا ،جس میں کجن اور نثار نے کام کیا،1929 میں اس کو “گلوب” سنیما میں تبدیل کیا گیا ،بندر روڈ پر قائم اس سنیما کا نام 1946 میں “لائیٹ ہاؤس”رکھا گیا،موتی رام تھیٹر،شیوا رام تھیٹر اور کوھنور تھیٹر۔

موتی رام تھیٹر اسی جگہ تھا، جہاں اب “نگار”سنیما ہے،یہ سنیما نپئیر روڈ،لارنس روڈ (اب نشتر روڈ)اور وادھو مل اودھارام روڈ(اب طاھر سیف الدین روڈ) کے سنگم پر ،پرانے پان منڈی کے ساتھ ہے۔یہ شہر کا بہترین تھیٹر تھا،ادکار عبدالرحمن کابلی اور فقیر محمد یہاں آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے اسٹیج کرتے تھے ۔عبدالرحمان مزاحیہ کردار کرتے تھے اور فقیر محمدہیرو کے کردار ادا کرتے تھے۔کابلی بعد میں ریڈیو پاکستان سے منسلک رہے اور 1966 کو وفات پا گئے۔سنیما کے پردے کے عین نیچے ایک بزرگ کا مزار بھی ہے،کچھ کہتے ہیں کہ یہ کسی بزرگ کا آستان تھا۔

موتی رام جو اس تھیٹر کا مالک تھا وہ جب معاشی طور پر کمزرو ہوا ،تو اس نے تھیٹر کو 1935 میں فروخت کردیا،اس کے لیے اس دور میں یہ بات مشہور تھی کہ وہ ہر جمعرات کو مغرب کے بعد مزار پر دعائیہ پروگرام کروتا تھا، قوالی ہوتی تھی۔نئے مالک نے تھیٹر کی جگہ پتھر کی ایک خوبصورت عمارت بنائی ،جسے” پربھات” سنیما کا نام دیا ،جس کا نام بعد میں تبدیل کرکے “نگار” رکھا گیا ،اس سنیما کے عمارت پر لارنس روڈ کے جانب ایک پتھر کا ترا شیدہ شیر بنا ہوا ہے،جب یہ بنا لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے تھے،یہ بلڈنگ اور اس پر بنا ہوا شیر اب بھی موجود ہے ،لیکن وہ بھی کراچی کے موجودہ حالات کے شکار ہے اور سنیما جو اب بھوت بنگلا بنتا جا رہا ہے اس پر وہ بھی اداس ہے۔

بزرگ جس کا نام حضرت پیر مامون حمزہ لکھا ہوا ہے ،اس پر جانے کے لیے نیچے زینہ بنا ہوا ہے،یہ مزار سنیما کے پردے کے بلکل نیچے ہے ،اس کا عرس ہر سال 15 اور 16 رجب کو منایا جاتا ہے،جب میں نے اپنے دوست نذیر کاکا کے اس سنیما کا وزٹ کیا تو مزار پر حاضری دی ،سنیما کے دیکھ بحال والوں نے سنیما کھول کر دورا کرایا، عمارت اندر سے اچھی حالت میں تھی،میں کچھ دیر نشستوں پر بیٹھ کر سنیما کے پردے کو تکتا رہا،اور ایک پوری تاریخ کسی فلم کے مانند دماغ کے پردے پر چلتی رہی،کالج کے زمانے میں جب اس سنیما میں آتے تھے وہ تمام یادیں فوکس اور ڈی فوکس ہوتی رہیں۔کراچی کے سنیما کی ایک خوبصورت تاریخ بس چند لمحوں یا مہینوں کی مہمان ہے، دعا ہے یہ عمارت اپنی خوبصورت تاریخ اور یادوں کے ساتھ باقی رہے۔

کولاچی کراچی سے مزید