آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نوید

پاکستان اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ یہاں قیام پاکستان سے ہی فنون لطیفہ کو قدر و منزلت حاصل رہی ہے اور آج پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں آرٹ گیلریاں، فنون لطیفہ کی ترویج کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ کراچی کی آرٹ گیلریاں اس حوالے سے قابل مثال ہیں کہ یہاں ناپید فنون کو از سر نو زندہ کیا گیا اور پاکستان و مشرقی فنون کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کے لیے آرٹ گیلریوں کو کمرشل پیمانے پر استوار کیا گیا ہے۔

فرئیر ہال کی آرٹ گیلری میں صادقین نے اپنی زندگی کا آخری کام کیا تھا

آزادی کے وقت یعنی 1947ءمیں فنون لطیفہ سے متعلق سرگرمیاں سمٹ کر لاہور تک محدود ہوگئی تھیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ آرٹ سے متعلق اہم ادارے لاہور میں تھے، جبکہ باقی بھارت میں رہ گئے تھے۔ 1875ءمیں انگریزوں نے لاہور میں میو اسکول آف آرٹس بنوایا تھا جو فن اور فنکاروں کی خدمت کے حوالے سے بہت مصروف تھا ۔ قیام پاکستان کے بعد عروس البلاد کراچی نے بھی فن کی خدمت کے حوالے سے بہت مصروف تھا پھر پنجاب یونیورسٹی میں قائم ہونے والا فنون لطیفہ کا شعبہ آرٹ میں فیچرز فنکاروں او رڈیزائنرز کی تربیت کی جاتی تھی گویا فنون لطیفہ کے حوالے سے شروع سے ہی لاہور کی ایک خاص پہچان رہی ہے اور اسے فن اور فنکاروں کا شہر خیال کیا جاتا رہا ہے۔ 

قیام پاکستان کے بعد عروس البلاد نے کراچی نے بھی فن کی خدمت کابیڑہ اٹھایا۔ نامساعد حالات اور شہری مسائل کے باوجود یہاں بڑی تعداد میں آرٹ ا سکول اور آرٹ گیلریاں قائم کی گئیں اور فنکاروں نے فن کو زندگی بخشی۔ کراچی کی آرٹ گیلریاں کسی نہ کسی حوالے سے انفرادیت اور اہمیت کی حامل ہیں۔

کراچی کی سب سے پہلی آرٹ گیلری مصروف فنکار بشیر مرزا نے 1964ءمیں قائم کی جلد ہی یہ گیلری فن پاروں کی نمائش کے حوالے سے مرکزی مقام کی حیثیت سے اختیار کر گئی۔ 1970ءکی دھائی میں جب فنون لطیفہ کی طرف سنجیدگی سے توجہ دی گئی اور پاکستان بھر سے فنکاروں نے کراچی میں اپنی نمائشیں منعقد کرانا شروع کیں تو کئی مزید گیلریوں کی ضرورت پیش آئی، گویا یوںیہ صنعت بن گئی او رمختصر عرصے میں بہت سی کمرشل گیلریاں قائم ہوگئیں۔ فنون لطیفہ کے مداحین کے لیے نمائشیں دیکھنا ان کے ذوق کی تسکین تھا۔ خواہ وہ فن پارہ خریدیں یا نہ خریدیں۔ کلفٹن کے علاقے میں آرٹ کلیکٹرز گیلری اپنی مثال آپ ہے۔ 

سلطان محمود نے اپنے جمع کیے ہوئے فن پاروں کی حفاظت اور نمائش کے لیے یہ آرٹ گیلری قائم کی چالیس سال پر مشتمل آرٹ کا ان کا ذاتی ذخیرہ ہزراوں پینٹنگز پر مشتمل ہے، اس ذخیرے سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ 40سالوں کے دوران ان فنون لطیفہ میں کیا کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔ پاکستان میں آرٹ پر ہونے والا کام کس حد تک بہتر ہوا ہے اور تب اور اب اس میں کیا فرق ہے آرٹ کے طالب علموں کے لیے یہ گیلری بذات خود ایک کتاب ہے۔ سلطان محمود ان ابتدائی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے آرٹ کو ذخیرہ کرنا شروع کیا۔ ان کے پاس بعض ایسی نادر پینٹنگز ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں۔ 

ماضی کے ساتھ ساتھ وہ حال سے بھی رشتہ جوڑے ہوئے ہیں اور نو آموز باصلاحیت فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ سارا سال نوجوان غیر معروف آرٹسٹوں کے فن پاروں کی نمائش ان کی گیلری میں ہوتی رہتی ہے جو فن پارے مستقل طور پر اس گیلری کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ان میںعبد الرحمن چغتائی، محمد سردار منصور آئی مقصود علی وغیرہ کا کام نمایاں ہے نوادرات اور دنیا بھر سے خوبصورت مجسّمے بھی یہاں رکھے گئے ہیں۔

”چوکنڈی آرٹ“ کو فنون لطیفہ میں ہونے والی نت نئی تبدیلیوں اور تازہ ترین فن پاروں کے حوالے سے انفرادیت حاصل ہے، اس کی مالک زہرہ حسین ہیں اس آرٹ گیلری کا قیام 1985ءمیں عمل میں آیا۔ گیلری میں پاکستان کے معروف فنکاروں کے متاثر کن فن پارے رکھے گئے ہیں زہرہ حسین یہاں بہترین اور معیاری نمائشیں منعقد کراتی ہیں اور یہی اس آرٹ گیلری کی انفرادیت ہے۔

معروف فنکاروں کے فن پاروں سے سجی اس گیلری میں بے شمار بہترین پینٹنگز اپنی باری کے انتظار میں ہیں کہ کب وہ ونمائش پذیر ہوں گی۔ چوکنڈی آرٹ، سارا سال بے حد مصروف رہتی ہے مداحین اور طالب علم خاص طورپر یہ دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں کہ فنون لطیفہ میںکونسی جدت آئی ہے اور معروف فنکاروں کے کام میں کونسی نئی تبدیلیاں آئی ہیں۔

کلفٹن آرٹ گیلری میں، جہاں معروف فنکاروں کے دیدہ زیب فن پارے آویزاں ہیں وہیں گیلری کے دو فلور مکمل طور پر نمائشوں کے لیے مخصوص ہیں ،یہاں صرف معروف فنکاروں کے کام کی نمائش منعقد نہیں کی جاتی بلکہ غیر معروف، مگر باصلاحیت فنکاروں کی بھی بھر پور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ یہاں نام سے زیادہ کام کی قدرو قیمت ہوتی ہے مقامی فنکاروں میں یہ آرٹ گیلری بہت مقبول ہے۔

فرنچ قونصلیٹ کے قریب کراچی کی ابتدائی آرٹ گیلریوں میں سے ایک نہایت شاندار انڈس گیلری ہے جو 1970ءمیں قائم کی گئی اس کے مالک سید علی امام ہیں جو فنون لطیفہ کے حوالے سے نہایت محترم شخصیت ہیں۔ منی ایچر پینٹنگز اور نوادرات کا ایک ذخیرہ ان کے پاس ہے انڈس گیلری اس وقت کراچی میں آرٹ کے قدر دانوں اساتذہ اور ذائع ابلاغ کے لیے پسندیدہ ترین مقام ہے ۔

جہاں وہ سید علی امام کے خزانے سے نظریں سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ پر معلومات افزاءاور فکر انگیز گفتگو بھی کر سکتے ہیں۔ تصدیق سہیل، ایف این سوز، اور گل جی جیسے فنکار اس گیلری کی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے رہےہیں۔

فرئیر ہال جو 1880میں ”سر پارٹلے فرئیر“ نے قائم کیا تھا، یہاں کی آرٹ گیلری کو عظیم فنکار ”صادقین“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ صادقین نے اپنی زندگی کا آخری کام یہیں کیا تھا موت سے چند ماہ پہلے انہوں نے گیلری کی اندرونی چھت پر خطاطی کا آغاز کیا تھا، مگر پھر ان کی وفات کی وجہ سے یہ کام نامکمل رہ گیا۔ اکثر لوگ نمائشیں اور مصروف فنکاروں کے فن پارے دیکھنے سے زیادہ صادقین کی زندگی کا آخری کام دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔

صادقین نے فنون لطیفہ کے شعبے میں ایک نئے طبقہ فکر کو متعارف کروایا ۔گیلری میں صادقین کے فن پارے مستقل طورپر آویزاں کئے گئے ہیں۔ جن میں خطاطی کے نمونوں کی نمایاں تعداد ہے۔ خطاطی کے ذریعے یہاں فیض رحمین کے بنائے ہوئے پورٹریٹ بھی نمایاں ہیں۔ فیضی کو پورٹریٹ کے حوالے سے جو شہرت حاصل ہے وہ کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے ان کا کام لندن کی سٹیٹ گیلری میں بھی دکھایا گیا ہے۔ فیضی معروف پورٹریٹ ”جان سنگر سارجنٹ“ کے شاگرد تھے۔ فیضی کا خواب تھا کہ برصغیر میں فنون لطیفہ کے حوالے سے ہونے والے کام کو از سر نو زندہ کیا جائے یہی مقصد لے کر وہ یورپ سے ایشیاءواپس آگئے تھے۔

رہائش بھی مہیا کرتی ہے یہاں جدید ترین سہولیات سے آراستہ سٹوڈیو بنایا گیا ہے ایک رہائشی علاقہ اور کئی ہال، جہاں پاکستان کے مختلف شہروں اور بیرون ملک سے آنے والے آرٹسٹ رہائش پذیر ہو تے ہیں۔

رنگون والا سینٹر میں ”وی ایم گیلری“ بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ کراچی کی تمام آرٹ گیلریوں میں یہ سب سے کم کمرشل ہے۔ رفعت علوی اس کو چلا رہی ہیں رفعت کی ان تھک کوششوں اور ساتھیوں کے تعاون سے وہ الم گیلری“ ایک اہم آرٹ ڈسپلے سنٹر کے طور پر کام کر رہی ہے۔ برطانیہ، چین، سری لنکا، او ربنگلہ دیش وغیرہ سے آرٹسٹ آکر یہاں اپنے فن پاروں کی نمائش کرتے ہیں۔ یہاں باقاعدگی سے آرٹ پر لیکچرز اور ڈسکشن ہوتی ہے۔ پاکستان چیئر آف دی ایشن واٹر کلر ایسوسی ایشن کی سربراہی میں رفعت کر رہی ہیں اور وہ مقامی فنکاروں کی بے حد حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ کہ وہ اس شعبے میں مزید کام کر یں، پھر ان کا کام یہاں اور ملک سے باہر نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے۔

کراچی کے معروف فنکار اپنی انفرادیت اور مختلف انداز کی وجہ سے منفرد سمجھے جاتے ہیں اور ملک کے ان چند آرٹسٹوں میں شامل ہیں جو اپنے کام کی وجہ سے خاصی شہرت کے حامل ہیں۔ باصلاحیت، متحرک، محنتی اور اپنے کام کی لگن رکھنے والے ان فنکاروں میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہے۔

کراچی کی آرٹ گیلریاں دیکھنے کا جب بھی ارادہ کریں یہ یقین کرلیں کہ آپ کے پاس اچھی خاصی رقم ہے کیونکہ باصلاحیت آرٹسٹوں کے اصل فن پارے دیکھ کر آپ انہیں خریدے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

کولاچی کراچی سے مزید