آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میرے پاس ایک کار ہے جس کے چار پہیے ہیں، چار دروازے ہیں۔ دو سیٹیں آگے، دو پیچھے ہیں۔ اس کا انجن بھی ہے مگر اس کار میں ایک خرابی ہے اور وہ یہ کہ اسے ابھی تک خود انحصاری کی عادت نہیں پڑی، چنانچہ اسے چلانے کیلئے ڈرائیور کو ’’اتحادیوں‘‘ کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ بوقت ضرورت اسے دھکا دے کر اسٹارٹ کرتے ہیں۔ تاہم یہ گاڑی کئی دفعہ اسٹارٹ ہو جاتی ہے اور کئی دفعہ اسٹارٹ نہیں ہوتی اور یوں گیراج میں کھڑی رہتی ہے۔ جب کبھی یہ اسٹارٹ نہیں ہوتی اس کی مختلف وجوہ ہوتی ہیں جن میں سے ایک وجہ یہ ہے میرے اتحادی گاڑی کو دھکا لگانے کیلئے بظاہر ایک بینر کے نیچے جمع ہیں لیکن اندر سے یہ سب ایک دوسرے سے ’’خار‘‘ کھاتے ہیں چنانچہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے ان میں سے کچھ گاڑی کو آگے اور کچھ گاڑی کو پچھلی سمت میں دھکیلنا شروع کر دیتے ہیں، نتیجتاً گاڑی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھتی۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ عین اس وقت جب گاڑی کو دھکا لگانے کی شدید ضرورت ہوتی ہے، ان اتحادی مشقتیوں کا ایک فرد موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے مخاطب کرتا ہے اور کہتا ہے ’’مجھے اس وقت پان کی بہت طلب محسوس ہو رہی ہے، بس میں ابھی گیا، اور ابھی آیا‘‘۔ وہ چلا جاتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد باقی دو افراد بھی کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے کھسک لیتے ہیں، اس پر میں چوتھے مشقتی کی طرف رحم طلب نگاہوں سے دیکھتا ہوں مگر اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ میں اکیلا تو دھکا نہیں لگا سکتا۔ ہاں اگر تم میں اتنی طاقت ہے تو ڈرائیورنگ سیٹ پر مجھے بٹھاؤ اور خود نیچے اتر کر گاڑی کو دھکا دو مگر اسے کون سمجھائے کہ اصل مسئلہ ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا ہے۔ بہرحال وہ بھی چلا جاتا ہے اور میں بےبسی سے یہ سارا منظر دیکھتا رہتا ہوں۔میری گاڑی کے اسٹارٹ نہ ہونے میں جو یہ رکاوٹیں گاہے گاہے پڑتی رہتی ہیں ان میں سے ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اس کی ٹینکی میں کبھی پٹرول ہی نہیں ہوتا۔ جب میرے یہ اتحادی مجھ سے راضی ہوں تو وہ پٹرول کے بغیر بھی گاڑی دھکا دے کر کافی دور تک لے جاتے ہیں۔ اللّٰہ کا شکر ہے کہ میں انہیں راضی رکھنے کا ہنر جانتا ہوں۔ ایک تو ان کے ہر طرح کے مطالبات پورے کرنا ہوتے ہیں اور دوسرے انا، غیرت، حمیت اور اس طرح کے دوسرے الفاظ سے نمٹنے کیلئے میرے پاس ایک ایسی ڈکشنری ہے جس میں یہ الفاظ موجود ہی نہیں، چنانچہ مجھے علم ہی نہیں یہ کن بلائوں کا نام ہے؟ مجھے میرے کئی نام نہاد خیر خواہ یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ اس دھکا اسٹارٹ گاڑی کا کوئی فائدہ نہیں، اسے ’’ڈمپ‘‘ کرو اور کوئی نئی گاڑی خرید لو، ان احمقوں کو کیا علم کہ یہ کتنے ’’بھاگوں‘‘ والی ہے، مجھے اس گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں، ویسے بھی میں اکیلا نئی گاڑی خریدنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ وہ بھی ان اتحادیوں کے ساتھ مل کر خریدنا پڑے گی اور اس کے بعد ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا مسئلہ ایک بار پھر درپیش ہوگا، جس کی خواہش میرے ان مشقتیوں کے دل میں بھی جنم لے سکتی ہے لہٰذا یہ ’’ورقا‘‘ ہی پھاڑ دو۔

ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ اگر اس کھٹارا گاڑی ہی سے کام چلانا ہے تو اسے کچھ عرصے کیلئے کسی اچھے سے مکینک ہی کے پاس چھوڑ دو۔ ان صاحب کو علم ہی نہیں کہ پرانی تو کیا، کوئی نئی گاڑی بھی ایک دفعہ کسی مکینک کے پاس چلی جائے تو اس کی ایک خرابی اگر دور ہوتی ہے تو دو نئی خرابیاں وہ اس میں ڈال دیتا ہے اور یوں یہ گاڑی مالک کے بجائے اس مکینک کی ہو کر رہ جاتی ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں مجھے اس گاڑی کی بہت زیادہ ضرورت پڑنی ہے کیونکہ مجھے بوجوہ تھانوں اور کچہریوں کے چکر لگانا پڑیں گے، اس کیلئے ضروری ہے کہ موجودہ ’’مشقتیوں‘‘ کو بھی ساتھ رکھا جائے اور آنے والے دنوں میں کچھ ایسا بندوبست کیا جائے کہ ان ’’مشقتیوں‘‘ کے بغیر بھی میرا کام چل سکے۔ دراصل یہ گاڑی میرے پیر سائیں نے مجھے دان کی ہے اور ساتھ یہ حکم دیا ہے کہ اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر صرف تم نے بیٹھنا ہے کیونکہ یہ گاڑی ایسی ہے کہ جو بھی اسے ڈرائیو کرے گا اس کے بھاگ جاگ اٹھیں گے اور اگر یہ تمہارے پاس نہ رہی تو تم ٹکے کے نہیں رہو گے۔ یہی وجہ ہے کہ بےشمار لوگوں کی نظریں اس پر ہیں اور وہ ہر قیمت پر مجھے اس سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے مستقبل کیلئے ایک پلان تیار کر لیا ہے جس کے نتیجے میں اِن شاء اللّٰہ یہ لوگ آپس ہی میں سر پھٹول کرتے رہ جائیں گے اور یوں میری جگہ لینے کی ان کی خواہش ان کے دلوں ہی میں رہ جائے گی۔ ہاں! ایک بات تو میں نے آپ کو بتائی ہی نہیں، ان دنوں ٹیکنو کریٹس بھی میری اس دھکا اسٹارٹ گاڑی میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں اور میں نے سنا ہے کہ ان کے پیچھے بہت بڑے بڑے لوگ ہیں۔ مجھے لگتا ہے میرے پیر سائیں نے انہیں بھی اس گاڑی کے بارے میں کوئی معلومات دی ہیں۔ کوئی بات نہیں، یہ پیر سائیں بھی میرے ایک سجدے کی مار ہیں۔ ان دنوں وقت نکال کر ان کے آستانے پر حاضری دوں گا، اگلے دن وہ بھی میری دھکا اسٹارٹ گاڑی کو دھکیلنے والے ’’مشقتیوں‘‘ میں شامل نہ ہوں تو آپ میرا نام بدل دیں!

مجھے علم ہے آپ لوگوں نے میرے پہلے ہی بہت سے نام رکھے ہوئے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ ان ناموں میں ایک اور نام کا اضافہ ہو جائے گا۔ رکھ لیں ایک اور نام… مجھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟