آپ آف لائن ہیں
پیر5؍شعبان المعظم 1441ھ 30؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نواز دور اقتدار میں جتنی دفعہ لندن گئے اس سے کم پارلیمنٹ آئے، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان کے پہلے سوال ن لیگ بھی عمران خان کی طرح پارلیمنٹ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی، کیا چیئرمین پیپلز پارٹی کا دعویٰ درست ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ نواز شریف دورِ اقتدار میں جتنی دفعہ لندن گئے اس سے کم مرتبہ پارلیمنٹ میں آئے،ایک دوسرے سوال پر تجزیہ کاروں نے کہا کہ اٹارنی جنرل مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے جسٹس قاضی فائز کیخلاف کیس نہیں لڑ رہے تو انہیں سراہنا چاہئے۔حسن نثار نے کہا کہ ہماری پارلیمنٹ کی ربڑ اسٹمپ سے زیادہ حیثیت نہیں ہوتی ہے، چند ارکان اسمبلی کے سوا تمام اپنی جماعت کے طفیل پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے ہیں، ان کا رویہ بھی بتاتا ہے کہ یہ انگوٹھاچھاپ قسم کے لوگ ہیں، بلاول کے تو اپنے نانا سلیکٹڈ کے زمرے میں آتے ہیں، اسکندر مرزا کو خوشامد بھرے خط ریکارڈ پر موجود ہیں، فیلڈ مارشل ایوب خان کو بھٹو ڈیڈی بلایا کرتے تھے۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ شہباز شریف کی پاور شیئرنگ فارمولے پر بات چل رہی ہے ،بلاول بھٹو ایسے بیانات دے کر خود کو گیم میں شامل رکھنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو نے پنجاب میں جلسوں کا بھی اعلان کیا ہے اس لئے پی ٹی آئی اور ن لیگ دونوں کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں، ن لیگ بلاول بھٹو کے بیان پر ردعمل نہیں دے گی کیونکہ اسے پنجاب میں چیلنج پیپلز پارٹی سے نہیں پی ٹی آئی سے ہے۔ریما عمر نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو ہر لیڈر کسی نہ کسی موقع پر سلیکٹڈ رہا ہے، ن لیگ بلاول بھٹو کی تنقید پر پیپلز پارٹی سے گلہ کرے گی لیکن انہیں چیلنج نہیں کرے گی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی لڑائی اپوزیشن کیلئے اچھی نہیں ہوگی۔ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری ٹھیک کہہ رہے ہیں نواز شریف بھی سلیکٹڈ تھے ، یہ بھی سچ ہے کہ نواز شریف نے پارلیمنٹ کو کبھی اہمیت نہیں دی، نواز شریف دورِ اقتدار میں جتنی دفعہ لندن گئے اس سے کم مرتبہ پارلیمنٹ میں آئے۔بابر ستار نے کہا کہ اس ملک میں دو طرح کے سیاستدان ایک سلیکٹڈ دوسرے غدار ہیں، پاکستان بننے کے بعد تین چار سال چھوڑ کر ہر مرکزی سیاستدان سلیکٹڈ ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ اقتدار میں نہیں آسکتا، اگر سیاستدان سلیکٹڈ نہیں ہوتا تو جیل میں ہوگا یا غدار ہوگا، اس ملک میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی ہے اس میں سلیکٹ ہو کر ہی آیا جاسکتا ہے، ن لیگ اگر اسی تنخواہ پر دوبارہ آکر کام کرنا چاہتی ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ پچھلے چند سال آپ نے جو کچھ کیا اس کے بجائے ڈیل کرلیتے تو یہ سب کچھ جو ہم آج دیکھ رہے ہیں ہمیں نہ دیکھنا پڑتا۔حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری ن لیگ پر تنقید کر کے سیاست کررہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو نیا کام ملا ہے، بلاول بھٹو آج جو باتیں کررہے ہیں وہ ڈیڑھ سال پہلے کہاں کھڑے تھے، جب بلوچستان حکومت گری اور سینیٹ کے الیکشن ہوئے اس وقت لگتا تھا کہ عمران خان اور آصف زرداری بھائی بھائی ہیں، پاکستان میں جب بھی سیاسی عدم استحکام ہوا بیرونی طاقتوں کیلئے مداخلت کی گنجائش پیدا ہوئی۔دوسرے سوال نئے اٹارنی جنرل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کیس لڑنے سے معذرت کرلی، اٹارنی جنرل کا موقف ہے کہ اس میں مفادات کا ٹکراؤ ہے، کیا اٹارنی جنرل کا موقف درست ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے بابر ستار نے کہا کہ اٹارنی جنرل مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے جسٹس قاضی فائز کیخلاف کیس نہیں لڑ رہے تو انہیں سراہنا چاہئے، اٹارنی جنرل کا موقف درست ہے کہ وہ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے کیس نہیں لڑنا چاہتے، ان میں ایک تضاد یہ ہوسکتا ہے کہ جس پارٹی کیخلاف مقدمہ ہے اٹارنی جنرل کا ان کے ساتھ کوئی تعلق ہو، دوسرا یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے دوسری پارٹی کو مشورہ دیا ہو یا پہلے ہی فائل دیکھی ہو، تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اٹارنی جنرل نے بطور وکیل اس کیس سے متعلق کوئی قانونی موقف بنالیا ہو۔ ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ بیرسٹر خالد جاوید خان نے اٹارنی جنرل بننے سے حکومت کو بتادیا تھا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیس نہیں لڑیں گے، وہ بحیثیت وکیل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں رائے میں دے چکے ہیں، خالد جاوید خان اس حق میں تھے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس نہیں بنتا تھا، یہ بھی سنا جارہا ہے کہ غیر رسمی طورپر انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کو مشورے بھی دیئے تھے۔ ریما عمر نے کہاکہ نئے اٹارنی جنرل بیرسٹر خالد جاوید خان نے مفادات کے ٹکراؤ کو سنجیدگی سے لیا یہ بہت خوش آئند ہے، سابقہ اٹارنی جنرل انور منصور خان پرویز مشرف کے وکیل رہ چکے تھے لیکن انہوں نے مفادات کے ٹکراؤ کو ماننے سے انکار کردیا تھا، بیرسٹر خالد جاوید اٹارنی جنرل بننے سے پہلے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کو بہت کمزور قرار دے چکے ہیں، حکومت کو سوچنا چاہئے کہ ایک اہم شخص جسے حکومت نے اٹارنی جنرل بنایا وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں حکومتی موقف کے خلاف ہے،خبروں کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمٰن اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس لڑیں گے لیکن وہ اس وقت سفر میں ہیں اس لئے مارچ کے آخر میں انہوں نے کیس لڑنے کی حامی بھری ہے۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ نئے اٹارنی جنرل بھی زیادہ عرصے چلتے نظر نہیں آرہے ہیں، بیرسٹر خالد جاوید خا ن نے اٹارنی جنرل آفس میں تقرریوں کے حوالے سے بھی سوال اٹھادیا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کیس حکومت کیلئے شرمندگی کا باعث بنتا نظر آرہا ہے،حکومت پر اس کیس کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں تو بہترہوگا کہ اسے واپس لے لے، جسٹس قاضی فائز کیس میں بیرسٹر خالد جاوید کا موقف یقیناً حکومت کے علم میں ہوگا اس کے بعد ان کا بطور اٹارنی جنرل تقرر کرنا سمجھ نہیں آتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید