آپ آف لائن ہیں
ہفتہ17؍ذی الحج 1441ھ8؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کچھ عرصہ قبل چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا جان لیوا اور مہلک کرونا وائرس تیزی سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا اب تک کئی ملکوں میں پھیل چکا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ متاثرہ ممالک کی سرحدیں بند اور پروازیں معطل کرنے، دنیا بھر کے ایئر پورٹس پر سیکورٹی اسکریننگ مزید سخت کیے جانے سمیت متعدد اقدامات کے باوجود تاحال اس وبا پر قابو نہیں پایا جا سکا بلکہ اس کی ایک نئی قسم کوو ڈانیس نامی وائرس کی شکل میں سامنے آ گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کرونا سے ہونے والی اموات کی تعداد ستائیس سو سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اسی ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں ۔ چین میں کل مزید 71افراد اس وبا سے ہلاک ہو گئے۔ وہاں اس صورتحال کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ایران میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 95ہوگئی اور اب تک 16اموات ہو چکی ہیں ۔ امریکہ میں 57، اٹلی میں 229افراد متاثر ہیں جبکہ جنوبی کوریا میں مریضوں کی تعداد 893تک پہنچ گئی اور جاپان میں 851افراد میں اس کی تشخیص ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کرونا کی نئی قسم چین، جنوبی کوریا اور جاپان میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اگر یہی رفتار رہے تو عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا کا مہلک وائرس عالمی وبا کی صورت اختیار کر جائے گا۔ اس وقت وطن عزیز بھی شدید خطرے سے دوچار ہے، ہمسایہ ملکوں میں اس وبا کا پھیلنا نہایت تشویشناک ہے۔ ذرا سی کوتاہی اور غفلت ہمارے ہاں اس وائرس کے پھیلائو کا سبب بن سکتی ہے، اسی خدشے کے پیش نظر ایران سے ملحقہ سرحد بھی بند کر دی گئی ہے جبکہ بیرونِ ملک سے آنے والوں کیلئے ہیلتھ ڈکلیئریشن فارم لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے تمام مراکز اور اسپتالوں میں بھی ایمرجنسی الرٹ رہنا چاہئے چونکہ ہمارے ہاں صحت کی سہولتوں کا معیار کسی طور تسلی بخش نہیں، اس لئے پیشگی اقدامات کے ذریعے ہی کسی بھی ہنگامی صورت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔