• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کی سینیٹ کا 12 سال بعد اجلاس، اسماعیل راہو نے صدارت کی

بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی سینیٹ کے اجلاس کا ایک منظر(فوٹو ریلیز)۔
بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی سینیٹ کے اجلاس کا ایک منظر(فوٹو ریلیز)۔

بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں 12 سال بعد سینیٹ اجلاس پرو چانسلر اور صوبائی وزیر جامعات اسماعیل راہو کی صدارت میں ہوا۔

اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی نے ایجنڈا نکات پر بریفنگ دی اور ادارے کی تعلیمی سمت، انتظامی اصلاحات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر واضح مؤقف پیش کیا۔ 

اجلاس کے دوران انتظامی و تعلیمی امور پر تفصیلی اور سنجیدہ بحث و مباحثہ بھی ہوا۔ پرو چانسلر اسماعیل راہو نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی کی متحرک قیادت اور مختصر مدت میں نمایاں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں سے طویل تعطل کے بعد سینیٹ اجلاس کا انعقاد ممکن ہوا۔ 

انہوں نے ہدایت کی کہ گزشتہ 12 برس کے دوران سینیٹ اجلاس منعقد نہ ہونے کی وجوہات کا جامع جائزہ لے کر مفصل رپورٹ پیش کی جائے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عمیر بیگ نے پرو وائس چانسلر کو گزشتہ ایک سال کے دوران حاصل کی جانے والی نمایاں کامیابیوں پر سینیٹ اراکین کو بریفنگ دی۔ 

انہوں نے تعلیمی اصلاحات، تقرریوں کے عمل، انتظامی ڈھانچے کی مضبوطی، ترقیاتی منصوبوں اور شفافیت کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ اجلاس کے دوران ڈائریکٹر فنانس فروغ علی نوید اور بجٹ آفیسر عاشق سِلرو نے جامعہ کا مالی بجٹ پیش کیا۔ 

انہوں نے مالی سال 2014-15 تا 2024-25 کا اصل بجٹ بھی سینیٹ کے سامنے پیش کیا۔ مزید برآں، مالی سال 2022-23، 2023-24 اور 2024-25 کے بجٹس منظوری کے لیے پیش کیے گئے، جنہیں سینیٹ اراکین نے تفصیلی غور و خوض کے بعد منظور کر لیا۔ 

مزید برآں، 2014 سے 2021 تک جامعہ کے مالی بجٹ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا بھی حکم دیا گیا تاکہ مالی امور میں مکمل شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

اس موقع پر اسماعیل راہو نے اعتراف کیا کہ ماضی میں درپیش مسائل کے باعث تدریسی نظام، طلبہ اور فیکلٹی متاثر ہوئے، جس کے اثرات پورے ادارے پر مرتب ہوئے۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کا قیام تعلیم کے فروغ اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ حکومت کا مقصد ہے کہ طلبہ آگے بڑھیں، کامیاب ہوں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت محدود وسائل کے باوجود جامعات کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے، جس میں مالی معاونت اور گرانٹس شامل ہیں تاکہ تعلیمی سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری رہیں۔ 

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی اور ان کی ٹیم لگن، دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ کام کرتے ہوئے ماضی کے نقصانات کا ازالہ کریں گے اور آئندہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہیں ہونے دیں گے۔ 

آخر میں انہوں نے زور دیا کہ اگر تعلیمی ادارے اپنے قیام کے مقاصد پورے نہ کر سکیں تو یہ صرف ادارے کی نہیں بلکہ حکومت اور معاشرے کے لیے نقصان کا باعث ہوگا، اس لیے تعلیمی نتائج کا مؤثر اور مثبت ہونا ناگزیر ہے۔ 

اجلاس میں پیش کیے گئے تمام ایجنڈا نکات کی منظوری سے جامعہ میں گڈ گورنس، مالی شفافیت اور تعلیمی معیار کے فروغ کے عزم کو مزید تقویت ملی۔

قومی خبریں سے مزید