آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستانیوں کا کمال یہ ہے کہ ان کے سر سے بڑے بڑے طوفان گزر جائیں، سرحدوں پر حالات کتنے بھی سنگین ہو جائیں، معیشت ڈوبتی ہے تو ڈوب جائے، مہنگائی بڑھتی ہے تو بڑھتی رہے اُن کی بلا سے۔ غربت کے ہاتھوں لوگ خودکشیاں کریں تو کرتے رہیں، سیاستدان ان کے جذبات سے کھیلیں یا حکمران ان کا استحصال کریں تو کرتے رہیں، انہیں ہر حال میں خوش رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ یا جواز چاہئے۔ اسی لئے تو دنیا بھی پاکستانیوں کو خوش رہنے والی قوموں میں پہلے چند درجوں میں شمار کرتی ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں کہ ہماری فصلوں پر امریکن سنڈی حملہ کرے یا ٹڈی دل کی یلغار ہو، ایسے ایسے فارمولے اور ٹوٹکے ایجاد کرتے ہیں کہ گوروں کی عقل بھی دنگ رہ جائے۔ ایک زمانہ تھا کہ امریکن سنڈی ہر سال فصلیں تباہ کرنے پاکستان پہنچ جاتی تھی اور صبح و شام ناشتے، کھانے کے وقت ٹی وی پر ہمیں امریکن سنڈی دکھائی جاتی کہ انسان کھانا نہ کھائے بس امریکی سنڈی پکائے۔ ایک زمانہ یہ ہے کہ آج تھرپارکر سے خیبر پختونخوا تک ٹڈی دل نے کیا یلغار کی، یاروں نے ٹڈی دل بریانی، ٹڈی دل قورما اور ٹڈی دل باربی کیو کے ڈھابے بنا کر نت نئے ذائقے دار پکوان تیار کرکے دنیا کو جسمانی توانائی کے لئے طاقتور ترین پروٹین سے متعارف کرا کے آفت کو ضیافت میں بدل دیا۔ کمال کے لوگ ہیں ہم، بلا سوچے سمجھے ٹڈی دل

کی افادیت کیا ہے اور اس کے نقصانات کیا ہیں ایسی تدبیر لڑائی کہ غریب کو بھوک مٹانے کا سہارا مل گیا۔ ہم ایسے ایسے گھریلو نسخے، ٹوٹکے ایجاد کرتے ہیں کہ بڑے بڑوں کی ڈاکٹری بھی مات کھا جائے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال ’’کالی موت‘‘ کرونا وائرس سے بھی ہونے والی ہے۔ یاروں نے تو ’’کالی موت‘‘ کو بھی پانچ روپے کے پیاز کے ٹوٹکے کی بھینٹ چڑھا دیا۔ پوری دنیا میں خوف کا عالم ہے، اربوں ڈالر اس کالی موت کو ٹالنے پر خرچ کئے جارہے ہیں اور ہم ماشاء اللہ پانچ روپے کے پیاز سے پانچ منٹ میں اس بیماری کو شکست دینے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ کسی نہ کسی دن پیاز، ادرک، لہسن، کلونجی کے کسی ٹوٹکے سے کرونا وائرس پاکستان کی سڑکوں پر رُلتا پھرے گا اور ہم گلی گلی کسی بچے کے ہاتھوں چوہے کی دم پر رسی باندھے اس وائرس کو جوتیاں مار رہے ہوں گے لیکن اس کھیل تماشے میں مافیا خوب جیبیں بھریں گے۔ وقتی خوشیوں کی متلاشی اور جگت بازی میں اپنا ثانی نہ رکھنے والی یہ قوم بہادر بھی ہے اور نڈر بھی مگر اس جذبے کو بھرپور طاقت اور قومی جذبے میں ڈھالنے والا کوئی نہیں؟ کہتے ہیں جیسا ماحول اور معاشرہ ہوگا ویسے ہی لیڈر بھی پیدا ہوں گے۔ ہم نے اپنے معاشرے کی بنیادیں جس نہج پر رکھی ہیں اور جس طرح سے معاشرہ دن بدن زوال پذیر اور لاپروا ہو رہا ہے اور آگے بڑھنے کی کوئی مثبت تعمیری نظریاتی سوچ نظر نہیں آتی اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے سیاستدان، حکمران ہمارے جذبات و احساسات سے کھیل رہے ہیں۔ غیرسنجیدہ معاشرے سے جنم لینے والے یہ سیاستدان اور ان کی شکل میں پیدا ہونے والے حکمران بھی آئے روز ہم پر نت نئے ٹوٹکے ہی آزما رہے ہیں۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ حکمران پہلے راتوں رات ڈالر کی قیمتیں آسمان پر لے جائیں۔ ڈالر مافیا اس کھیل میں برابر کا حصے دار ہو، عوام کنگال ہو جائیں، غیرملکی قرضوں کا بوجھ گدھے کی طرح کمر پر لاد دیا جائے، جب شور زیادہ پڑے تو ڈالر کی قیمت چند پیسے کم کر دی جائے، حواس باختہ لوگ پہلے مہنگا ڈالر خریدیں پھر نقصان کے خوف سے سستا بیچیں، ڈالر مافیا سادہ لوح لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹے، کچھ دن بعد حکمران مافیا کی پکڑ دھکڑ کا نعرہ لگائیں، چھوٹے موٹے ڈالر فروش پکڑے جائیں، پھر رشوت دے کر چھوٹ جائیں اور ڈالر مافیا دیہاڑی لگا کر مزے لوٹتا رہے اور حکومت اپنی واردات پر بغلیں بجائے۔ یہی طریقہ واردات پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کے اتار چڑھائو کے حوالے سے بھی اختیار کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ٹوٹکے بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ میڈیا سگریٹ مافیا کے خلاف حقائق بیان کرے، حکومت کو مشورہ دے کہ سگریٹ مافیا کو قابو کریں اس سے ٹیکس ریونیو میں زبردست اضافہ ہوگا تو حکمران مافیا کو قابو کرنے کے بجائے چھوٹے دکانداروں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کا حکم دیں۔ محکمہ کسٹم نام نہاد مہم چلا کر چند ٹرک گھٹیا برانڈ سگریٹوں کے پکڑ کر اپنے کارنامے میڈیا پر لائے اور اصل سگریٹ مافیا بچ جائے تو کیا یہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف نہیں۔ چینی و آٹا مافیا سرعام عوام سے روٹی چھین کر لے جائے۔ آٹا، چینی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ چند دن کی واردات میں ساہو کار تجوریاں بھر لیں۔ عوام کی چیخیں سن کر سرکار کے کان کھڑے ہو جائیں۔ مافیا کو پکڑنے کا اعلان ہو، تحقیقات اور چوروں کو پکڑنے کا حکم ملے۔ اپنے ہی چور نکلیں لیکن کمپیوٹر کی غلطی قرار دے کر سب کو بچا لیا جائے۔ پکڑا کون جائے، صرف غریب دکاندار، رہائی کیسے ملے؟ پکڑنے والوں کی جیبیں بھر کے۔ عوامی ٹوٹکے حکومتی ٹوٹکوں کو چھو بھی نہیں سکتے۔ میاں صاحبان پر کیس کس نے بنائے، سزا ہوئی، جیلوں میں ڈالا گیا، پھر حکومتی ٹوٹکوں نے ہی کمال دکھایا، اسپتال پہنچایا گیا، ریلیف دلوایا گیا، بیرون ملک بھیجا گیا، سارے ٹوٹکے حکومت نے ہی آزمائے قصور کس کا نکلا؟ صرف میڈیا کا۔ بجلی، گیس کی قیمتیں آپ آئی ایم ایف کے کہنے پر بےدریغ بڑھائیں اور بیان فرمائیں کہ بجلی بڑے بجلی چوروں نے مہنگی کی پھر حکم صادر فرمائیں کہ انہیں پکڑو ۔ صاحب کمال نہیں ہو گیا یہ کیسے ٹوٹکے ہیں، یہ کیسی حکومت ہے کہ ایک چور کو بچانے کے لئے دوسرے کو چور کہیں اور پکڑا کوئی بھی نہ جائے۔