• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کورونا وائرس: ایران سے آنے والوں کیلئے خصوصی حفاظتی اقدامات

چین سے پھیلنے اور دنیا کے مختلف ممالک کو متاثر کرنے والے کرونا وائرس نے بلوچستان کے عوام میں بھی بے چینی پھیلادی ہے ، اگرچہ بلوچستان میں اب تک کسی شخص میں کرونا وائرس کے علامات نہیں پائے گئے تاہم کوئٹہ میں چند افراد کو کرونا وائرس کے شبے میں اسپتال ضرور لایا گیا تاہم ان کے تفصیلی معائنہ کے بعد ڈاکٹرو کی جانب سے ان کو کلیر قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود عوام میں اس حوالے سے بے چینی اس لئے بھی ضرور پائی جاتی ہے کہ ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے اور دونوں ممالک سے بڑی تعداد میں لوگوں کی روازنہ کی بنیاد پر پاکستان سے دونوں ممالک میں آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے جو عوام میں تشویش کی ایک بڑی وجہ ہے کہ کہیں یہ وائرس بلوچستان میں لوگوں کو متاثر نہ کردئے ، صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے صوبے میں تعلیمی اداروں کی تعطیلات 15 دن بڑھا دی ہیں جبکہ میٹرک کے جاری امتحانات بھی ملتوی کردئے گئے ہیں ، جو اب نئے شیڈول کے مطابق ہوں گے ، پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق سے ایک روز قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے وائرس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات کے سلسلے میں کوئٹہ کا دورہ کیا ، دورہ کے دوران انہوں نے پاک ایران سرحد پر واقع پاکستان کے سرحدی شہر تفتان کا بھی دورہ کیا ، ان کے دورہ تفتان کا مقصد وہ زائرین جو ایران سے لوٹ رہے ہیں ان کی اسکریننگ کرنا اور جہاں کوئی کمی ہو اسے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر دور کرنا تھا ۔ 

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ ایران میں پانچ سے چھ ہزار کے قریب پاکستانی زائرین موجود اور پانچ سو کے قریب طلبا مختلف تعلیمی ادروں میں زیر تعلیم ہیں جن کی محفوظ طریقے سے واپسی کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ڈاکٹر ظفر مرزا نے آگاہ کیا کہ پاکستان نے قومی سطح پر کرونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کیلئے پالیسی اور گائڈ لائن بنالی ہے جس کے تحت ائر پورٹس ، بندرگاہیں اور دیگر ممالک کیساتھ زمینی رابطے پر حفاظی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائیگا ، تاکہ جو لوگ دیگر ممالک سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ان کی موثر طریقے سے ہیلتھ اسکریننگ کی جاسکے اور بیرون ممالک سے لوٹنے والے افراد کی موثر اسکریننگ کرکے وباء پر قابو پایا جائے گا ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنے دورہ کوئٹہ کے دوران اگرچہ یہ یقین دہانی کرائی کہ ڈرگ ریگولٹری اتھارٹی نے نوٹس جاری کردیا ہے جس کے تحت دسمبر میں جس قیمت پر ماسک اور دیگر اشیاء فروخت ہورہی تھیں اگر کسی نے اس سے زیادہ قیمت پر فروخت کی تو اس کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی ۔ 

دوسری جانب بلوچستان حکومت کی جانب سے ایران اور افغانستان سے منسلک دس اضلاع میں کرونا وائرس کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ایران اور افغانستان کے ساتھ منسلک پانچ ، پانچ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو سیل کردیا گیا ہے ، دونوں سرحدوں سے ضروری آمدورفت کے لئے منظم طریقہ بنایا گیا ہے ، ایران سے آنے والے زائرین کی واپسی کے لئے فیصلہ کئے گئے ہیں جن کے تحت پانچ ہزار سے زائد زائرین اور طلباء کو مرحلہ وار پہلے واپس پاکستان ہاؤس تفتان پھر وہاں سے ڈی ایچ کیو اسپتال دالبندین منتقل کرکے ان کی اسکریننگ کی جائے گی جبکہ اسپیشل سیکریٹری صحت بلوچستان کی سربراہی میں صوبائی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان کی صدرات میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے بعض فیصلے کیے گئے جن کے تحت صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کو فراہم کئے جانے والے بیس کروڑ روپے کے فنڈ سے ایمرجنسی کلاز کے تحت فوری طور پر آئسولیشن مراکز اور قرنطینہ کے لئے طبی آلات خریدنے کی اجازت دی ہے جبکہ عوام میں احتیاطی تدابیر اور علامات کی صورت میں متعلقہ مراکز سے فوری رابطہ کے لئے میڈیا ، علماء کرام اور معاشرے کے بااثر حلقوں کی معاونت سے آگاہی مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ہے اسی طرح عالمی ادارہ صحت سے مربوط رابطے رکھنے اور ڈی جی پی ڈی ایم اے کی سربراہی میں ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ، تمام ڈویژنل کمشنرز کو احتیاطی تدابیر کے حوالے سے عوام میں آگاہی اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قرنطینہ اور آئسولیشن کے قیام میں بھرپور معاونت کی فراہمی اور انسانی وسائل بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی ہے ، چیئرمین وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کو محکموں کے افسران پر مشتمل ٹیم کے قیام کی ہدایت کی گئی ہے جو سرحدی علاقوں اور شہروں میں کرونا وائرس کی روک تھام اور تدارک کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی مانیٹرنگ کے لئے ان علاقوں کا دورہ کرے گی ، صوبائی حکومت کی جانب سے پی پی ایچ آئی کو ہدایت کی گئی ہے کہ بنیادی مراکز صحت کے ذریعہ متعلقہ علاقے میں سروے کا آغاز کیا جائے جس کے لئے تھرموگن اور دیگر ضروری آلات پی ڈی ایم اے فراہم کرے گی ، اسی طرح گذشتہ دنوں ایران سے واپس آنے والے زائرین کی اسکریننگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور پی ڈی ایم اے میں متعلقہ محکموں کا مشترکہ مرکزی کنٹرول روم قائم کردیا ہے ، سرکاری سطح پر فراہم کی جانے والی معلومات کے مطابق دس حساس اضلاع کے اسپتالوں میں آئسولیشن مراکز کا قیام ہنگامی بنیادوں پر عمل میں لایا گیا ہے اور تین سو آئسولیشن رومز کے لئے ضروری آلات کی خریداری کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین