آپ آف لائن ہیں
بدھ7؍ شعبان المعظم 1441ھ یکم اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پانی کا بحران: کراچی کو وفاق سے فنڈز کی فراہمی کا انتظار

وزیراعظم عمران خان کو کراچی کا دورہ کرنا تھا جہاں انہوں نے متعدد منصوبوں کا افتتاح کرنا تھا تاہم انہوں نے اپنا دورہ " باوجوہ" منسوخ کردیا جس کے بعد گورنرسندھ عمران اسماعیل نے شیرشاہ سوری پل سمیت تین پلوں کا افتتاح اور کوریڈورسگنل فری روڈ کا افتتاح کردیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تمام منصوبوں کا کریڈٹ وزیراعظم کوجاتاہے، منصوبےمکمل کرنے پر وزیراعظم اور وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں ۔ گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہےکہ وزیراعظم آنے کے لیے تیار تھے، موسم کی خرابی کے باعث نہ آسکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبےوفاق کی جانب سے کراچی کےلیےتحفہ ہیں، جنہوں نےکہاکہ کراچی پرتوجہ نہیں دی گئی وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں، وزیراعظم تمام منصوبوں کی پیشرفت کاجائزہ لیتےرہے، وزیراعظم کراچی کے لئے درد رکھتے ہیں مگر کچھ لوگ نوازشریف کے بینرلگانےآجاتےہیں۔عمران اسماعیل نے گرین لائن منصوبے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ گرین لائن کا پہلافیز مکمل ہے،دوسرا بعد میں کیاجائیگا، ایکنک سےاجازت کےبعد بسوں کی خریداری شروع ہوگی۔وزیراعظم کے دورہ کراچی کی منسوخی پر پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے شدیدتنقید کی مسلم لیگ(ن) کے کھئیل داس کوہستانی نے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی میں شیر شاہ سوری روڈ کو سگنل فری روڈ کرنے کا منصوبہ کی بنیاد مسلم لیگ ن نے رکھی تھی، وزیر اعظم آج افتتاح نہ کرسکے کیونکہ اخلاقی طور پر انہیں کرنا بھی نہیں چاہئے تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ کل تک مسلم لیگ ن کے ترقیاتی منصوبوں کی جلن رکھنے والے آج وہی منصوبے اپنے نام کررہے ہیں۔پی پی پی کے رہنما وقار مہدی نے بھی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کراچی کی منسوخی پراظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی اسلام آباد سے کراچی تمام فلائٹس پہنچ گئیں مگر عمران خان نہ پہنچ سکے عمران خان کا کراچی کو 162 ارب دینے کا وعدہ کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگاعمران خان سندھ دورے پر نہیں بلکہ پکنک پر آتے ہیں عمران خان کراچی صرف باتوں کے پہاڑ کھڑے کرنے آتے ہیں صنعتکار بھی کہہ رہے ہیں عمران کا دورہ کراچی جھوٹی تسلی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ 

وزیراعظم عمران خان اس سے قبل بھی کراچی کادورہ منسوخ کرچکے ہیں جس کی وجہ سے حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم بھی حکومت سے روٹھی رہتی ہے اور وہ برملا کہتی ہے کہ کراچی کو وفاقی اور صوبائی حکومتیں یکسر نظرانداز کرتی ہیں کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر پی ٹی آئی کے ایم این اے عطاء اللہ اور سابق ایم پی اے ثمرعلی خان آپس میں الجھ پڑے، دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ افتتاحی تختی کے قریب کھڑے ہونے پر دونوں میں تکرار ہوئی رہنما پی ٹی آئی ثمرعلی خان نے ایم این ایز پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ سب کی تصویر آجائے گی جس پر عطاء اللہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ آپ کیا چاہتے ہیں ہم یہاں سے چلے جائیں۔ ہنگامی صورتحال پر پی ٹی آئی ارکان خاصے پریشان دکھائی دیئے۔ بعدازاں پی ٹی آئی رہنما خرم شیرزمان اور دیگر نے دونوں رہنماؤں میں جھگڑا ختم کرادیا، گورنرسندھ عمران اسماعیل پنڈال میں پہنچے تو پی ٹی آئی کارکنان نے اندرداخل ہونے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا جس پر کارکنان نے احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔

پی ٹی آئی میں گروپنگ کی خبریں طویل عرصے سے گردش کررہی ہیں اور اب پی ٹی آئی کے اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کراچی میں اختلافات پیدا ہوگئے ۔دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے اعلیٰ سطح کے وفد نے کراچی کا دوروزہ بے مصرف دورہ کیا اس دورے کے دوران انہوں نے مسلم لیگ(ن) سندھ کے صوبائی صدر شاہ محمدشاہ کی صحت یابی کے بعد ان سے ملاقات کی سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان کی تعزیت کے لیے ادارہ نورحق گئے جبکہ وفد نے ایم کیو ایم کے عارضی مرکز پر ایم کیوایم کے رہنماؤں سے ملاقات کے علاوہ ڈاکٹرفاروق ستار سے بھی ملاقات کی۔

ایم کیو ایم کے عارضی مرکز پر ملاقات کے بعد شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ حکومت ناکام ہوچکی، اس حکومت کا ایک ایک لمحہ ملک پر بھاری پڑرہا ہے عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکے، معیشت کو نقصان پہنچایاگیا۔ بعدازاںانہوں نے ڈاکٹرفاروق ستار سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور شاہدخاقان عباسی نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹرفاروق ستار کو ن لیگ میں شمولیت کی دعوت دی اور جماعت اسلامی کراچی کے دفتر ادارہ نورحق جاکر جماعت اسلامی کراچی کے امیرحافظ نعیم الرحمٰن سے جماعت اسلامی کراچی کے سابق امیر نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کے انتقال پرتعزیت کی۔ فاروق ستار نے کہاکہ موازنہ کیا جائے تو پچھلی حکومت اچھی تھی۔ 

کراچی کو سالانہ کم از کم 300 ارب روپے ملنے چاہئیں۔ کراچی کو بارہ سال سے پانی کاایک اضافی قطرہ نہیں دیا گیا ۔ پانی کا بحران لسانی فسادات کو جنم دے سکتاہے۔ آنے والی گرمی میں پانی کی فراہمی ممکن نہ ہوئی تو لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہےلہٰذا وفاق اس سلسلے میں فوری طور پرفنڈز کی فراہمی کا بندوبست کرے ۔ ادھرکراچی میں عورت مارچ کا جادوسرچڑھ کر بولتا رہا۔ مذہبی جماعتوں سمیت بعض تنظیموں نے عورت مارچ کے سلوگن کی مخالفت کی۔ جمعہ کے اجتماعات میں اسلام میں خاتون کا کردار اور حقوق کے حوالے سے خطبے دیئے گئے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید