آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ذیقعد 1441ھ 5؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شکور پٹھان

نہ جانے کیا وجہ ہوئی کہ ہم لانڈھی تین نمبر منتقل ہوگئے۔ چار نمبر کورنگی کی طرح یہاں بھی ہمارا مکان کوارٹروں کے بالکل آخری سرے پر تھا۔ ہماری پچھلی گلی میں تو کوارٹرز تھے لیکن ہمارے سامنے کوئی آبادی نہیں تھی۔ گھر کے سامنے ایک لامتناہی میدان تھا، جس کی ابتدائی حصے میں کلفٹن جیمخانہ کرکٹ ٹیم کھیلا کرتی تھی۔ بہت بعد میں یہ کراچی کی ایک نمبر کی ٹیم بن گئی۔ اس ٹیم سے عظمت رانا، حسن جمیل، فرخ رضا، شہزاد اور دوسرے کئی مشہور کھلاڑی نکلے اور کے سی اے لیگ کی فاتح اکثر یہی ٹیم ہوتی۔ ہماری پچھلی گلی میں پروفیسر سراج السلام بخاری رہتے تھے جو شاید اس ٹیم کے سرپرست تھے۔ اس کے علاوہ بخاری صاحب بہت عرصہ تک کراچی کرکٹ ایسوسی ایشن میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

’’ چینک ‘‘کا وہ ذائقہ آج تک نہیں بھولتا

ہمارے گھر سے دائیں جانب جہاں کوارٹر ختم ہوتے تھے وہاں ایک ہاکی کی ٹیم بھی کھیلا کرتی تھی اور شاید میں نے پہلی بار ہاکی کھیلتے ہوئے یہیں دیکھا تھا۔ اس میدان کے بعد کچھ نہیں تھا، یہ اللہ جانے کہاں تک جاتا تھا، شاید اس طرف سمندر تھا ۔

ہماری پوری گلی میں صرف دو گھر آباد تھے۔ ایک ہمارا اور دوسرا ہمارے پٹھان پڑوسیوں کا۔ یہ چند پڑھے لکھے پٹھان نوجوان تھے۔ رات کی کھانے کے بعد ابا اکثر ان کے ڈیرے پر پشتو میں گپ شپ کرتے، چائے کا دور چلتا رہتا اور سچ بتاؤں چائے یا “ چینک” کا وہ ذائقہ آج تک نہیں بھولتا۔

دن کے وقت میں یونہی خالی مکانوں میں بھٹکتا پھرتا یا پھر بجری کے ان ڈھیروں پر پھسلتا رہتا جو قریب ہی زیر تعمیر مارکیٹ کے لیے یہاں پڑے رہتے تھے۔ میرے ابا اس کام کی نگرانی کررہے تھے۔ مزدور دوپہر کے کھانے کے وقت کسی دیوار یا چھت کے سائے تلے بیٹھ کر اخبار میں لپٹی روٹی نکالتے اور چٹنی یا پیاز یا دال اور سبزی وغیرہ کے ساتھ کھاتے۔ مجھے یہ سب بڑا متاثر کن محسوس وتا اور میں نے فیصلہ کیا تعلیم سے جب بھی یعنی پانچ چھ یا آٹھ دس جماعت سے فارغ ہوتے ہی ابا سے کہوں گا کہ مجھے بھی یہیں کام دلادیں اور تصور میں اپنے آپ کو سائے میں بیٹھا ہوا اخبار سے روٹی نکال کر کھاتے ہوئے دیکھتا البتہ پیاز یا چٹنی کے بجائے روٹی میں آ ملیٹ لپٹا ہوتا۔

اس مارکیٹ کے ساتھ ہی کئی کمروں اور ہال پر مشتمل ایک کمیونٹی سینٹر بھی زیر تعمیر تھا بلکہ اس کی تعمیر مکمل ہوگئی تھی لیکن شاید اب تک بلدیہ کے حوالے نہیں کیا گیا تھا۔ میں اکثر اس کے خالی کمروں میں زور زور سے گایا کرتا اور اپنی آواز کی گونج سن کر محظوظ ہوتا۔

ہمارے ایک بزرگ عزیز انڈیا سے آئے ہوئے تھے، انہیں چند رشتہ داروں کے ساتھ ہمارے ہاں مدعو کیا گیا تھا۔ ہمارا ایک کمرے کا کوارٹر بھلا اس قابل کہاں تھا کہ یہاں کسی کی دعوت وغیرہ کی جاتی، ہم اس وقت سارے خالی کوارٹروں، مارکیٹ اور کمیونیٹی سینٹر کے بلا شرکت غیرے مالک تھے کہ یہ ساری تعمیرات کے نگراں ابا تھے۔ ابا نے شاید زندگی میں پہلی اور آخری بار اپنی دفتری حیثیت کا فائدہ اٹھایا اور مہمانوں کو کمیونیٹی سینٹر میں مدعو کیا۔

ہندوستانی بزرگ تو اتنا بڑا مکان دیکھ کر مرعوب تھے ہی ، ہمارے کراچی والے رشتہ دار بھی حیران تھے کہ ہمیں اتنا بڑا گھر کیسے مل گیا، یہاں باورچی خانہ بھی تھا، جہاں امی نے اپنا مٹی کے تیل والا چولہا پہلے ہی منتقل کرلیا تھا، چند برتن تو تھے ہی، چائے کا سیٹ پٹھان پڑوسیوں سے مستعار لیا گیا،۔ سینٹر کے بڑے حال میں زمین پر دری اور چاندنی بچھا کر کھانا پروساگیا۔ ہمارے رشتہ داروں کو ہماری حیثیت کا اندازہ تھا لیکن وہ پہلی بار لانڈھی یا کورنگی آئے تھے اور ان کا خیال تھا شاید ہم نے یہاں آکر بہت ترقی کرلی تھی۔ شام چار پانچ بجے تک ہم اپنی اس ترقی سے خوش ہوتے رہے۔مہمانوں کے جاتے ہی نظام سقہ کو اس کی مشک واپس مل گئی یعنی ہم اپنی اوقات میں آگئے اور برتن چولہا لے کر اپنے کوارٹرمیں لوٹ آئے۔

کچھ دنوں بعد میں واپس دادی کے ہاں چلا گیا۔جب واپس آیا تو ہم لانڈھی میں بھی نہیں تھے۔ ابا نے اب ٹی ایریا کورنگی دو نمبر میں کوارٹر لے لیا تھا۔ لیکن یہاں ہم کرائے دار نہیں تھے بلکہ مالک تھے۔۔جی ہاں ہم نے یہ کوارٹر خریدا تھا۔ یا یوں کہئے کہ ہمیں دلایا گیا تھا۔ لگے ہاتھوں یہ بھی سن لیں کہ گھر کی قیمت کیا تھا۔ تو جناب اس کی کل قیمت تھی اٹھارہ سو روپے، جس میں سے ایک ہزار یکمشت ادا کرکے گھر کا قبضہ مل گیا تھا اور بقیہ آٹھ سو قسطوں میں ادا کرنے تھے۔ یہ قسطیں کب اور کیسے ادا ہوئیں مجھے کچھ علم نہیں۔

ہمیں تو یہ کوارٹر قیمتاََ ملا تھا لیکن آس پاس بہت سے ایسے بھی تھےجنہیں قائد آباد، جیکب لائنز اور گودھرا کیمپ وغیرہ سے یہاں لاکر بسا یا گیا تھا اور انہیں شہر سے دور ویرانے میں یہ آبادی پسند نہیں آئی تھی اور چار یا پانچ سو میں گھر بیچ کر واپس جیکب لائنز اور قائد آباد لوٹ گئے تھے۔ وہیں کچھ موقع شناس بھی تھی اور آس پاس خالی گھر دیکھ کر دویاتین کوارٹروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ کونے والے کوارٹروں کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے اور عقلمند لوگ کوشش کرتے کہ کونے کا گھر مل جائے۔ 

ہمیں بھی کونے کا گھر ملا تھا لیکن ہفتہ بھر میں ہی ہم گلی کے درمیان کے ایک گھر منتقل ہوگئے کہ کونے کے مکان کی دیوار بہت نیچی تھی اور چور آسانی سے گھر میں آسکتا تھا اور ہمیں اس سامان کی چوری کا ڈر تھا جو ہمارے گھر میں کہیں نہیں تھا۔ ہمارے دوچار برتن اگر کوئی چوری کرلیتا تو وہ واقعی اس کا حقدار ہوتا کہ جو اس قدر پھٹے حالوں کے گھر چوری کرے وہ خود کس قدر بدحال اور ضرورتمندہوگا۔

یہاں بھی تقریباً لانڈھی والے گھر جیسا ہی نقشہ تھا یعنی گلی میں بامشکل چار پانچ گھر آباد تھے۔ باقی گھروں کی تعمیر تو مکمل تھی لیکن اب تک یہاں کوئی رہنے نہیں آیا تھا۔ یہاں بھی زیر تعمیر مکانوں کی بجری ، سمنٹ اور روڑی پھیلے رہتے تھے اور ہمارے لئے وقت گذاری کے لیے بہت کچھ تھا۔ گلی کے باہر میدان ہی میدان تھے۔ چند ایک دوست بھی بن گئے تھے۔ آہستہ آہستہ گلی آباد ہورہی تھی۔ یہاں پڑوسی زیادہ تر پڑھے لکھے تھے۔

ٹی ایریا میں بجلی آنے میں ابھی دس سال باقی تھے۔ گلیاں اندھیری تھیں لیکن چاندنی راتوں میں ایسی زبردست چاندنی چٹکتی کہ میلوں دور چلتے ہوئے سائے بھی نظر آتے۔

یہ محلہ میرے لئے گوشئہ مسرت ثابت ہوا جس سے کئی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔

کولاچی کراچی سے مزید