آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایمان احمد

’’ خبر گیری‘‘ یعنی عزیزواقارب کی خبر رکھنا، ان کی خیرخیریت معلوم کرتے رہنا، کسی زمانے میں تعلق داری کے سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرتا تھا۔یہ رواج آج بھی موجود ہے، لیکن اس کی نوعیت اور شکل وصورت بدل چکی ہے۔ اب ہم دوسروں کی خبر رکھنے سے زیادہ ’’خبر لینے‘‘ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کوئی بیمار ہوکسی حادثے کاشکار ہوجائے، کسی گھر میں اچھی بری کسی بھی خبر کے لیے ہم ہمیشہ کس تیسرے کی جانب سے منتظر ہوتے ہیں کہ جس گھر میں پریشانی یا بیماری ہے وہ خود ہی ہمیں فون کرکے بتائے توہم اس پہ افسوس کا فرض انجام دیں۔

خبرگیری کسی زمانے میں رشتے داری اور احباب داری کا حصہ ہوتی تھی کہ دوسروں سے ملاقات نہ سہی کم ازکم ان سے فون پر رابطہ کیاجائے۔آج کل مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ فون توسب کے ہاتھ میں ہے، مگر رابطہ کسی کے ساتھ ہے۔ خود کسی کوفون نہیں کرتے اس خیال کے ساتھ کہ ہم مصروف ہیں۔ فون کرنے کی ذمے داری ہم خودبخود ہی دوسرے فریق کواس کے علم میں لائے بغیر سونپ دیتے ہیں جبکہ دوسرے کے لیے ہم خود ’’ دوسرے‘‘ ہیں، اس لیے وہ اپنی خیریت بتانے کے لیے ہمارے فون کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے۔ ہم خود ہی طے کرلیتے ہیں کہ دوسرا ہرگز مصروف نہیں ہے بلکہ ہمارے حساب کتاب سے توبالکل ہی فارغ ہے اور اس کا کام محض یہ ہے کہ گاہے بگاہے ہمیں اپنا حال احوال بتاتا رہے،حتیٰ کہ اسپتال بھی جارہا ہوتو خود ہی فون کرکے اپنے اسپتال جانے کی خبر بریک کرے۔

ہم گپیں ہانکیں ، سولہ ، سولہ گھنٹے سوئیں، ٹی وی دیکھیں یا موسیقی سنیں، ہم ہر لمحہ مصروف ہیں۔ دوسرا خواہ پتھر توڑرہا ہو ، ہماری نظر میں فارغ ہے اور خیرخیریت پوچھنے کی ذمے داری مکمل طور پر اسی پر عائد ہوتی ہے۔ کوئی گرپڑے اسے چوٹ لگ جائے تو گرنے کے بعد( یا گرنے سے پہلے) وہی ہم کو فون کرکے اپناحال بتائیے۔

وجہ نمبر دو یہ ہوتی ہے کہ ہم نے ایک سوسال پہلے چونکہ خیریت پوچھنے کافون کیا تھا ، اس لیے اب دوسرے کی باری ہے کہ وہ کال کرکے ہماری خیریت دریافت کرے۔ یادرکھیں! فون کرنے کی باری ہمیشہ کسی دوسرے کی ہوتی ہے، کبھی بھی آپ کی نہیں ہوتی۔

خیرخیریت معلوم کرنے کے لیے اکثر خاندان میں ہونے والی شادی بیاہ کی تقریبات اچھی رہتی ہیں، لیکن اب ان میں بھی آپس میں ملاقات نہیں کی جاتی، سب لوگ سب سے زیادہ لیٹ پہنچنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔کھانے کی ڈشوں کے ڈھکن اٹھتے ہی شادی ہال کے گیٹ ہرکئی چہرے نمودار ہوتے ہیں، گویا شادی میں نہیں ہوٹل میں کھانا کھانے آئے ہیں وہ بھی بالکل مفت۔ اس کے بعد ایک دوسرے کی خیریت پوچھنے کے بجائے تلی ہوئی مچھلی اور بھنی ہوئی مرغی کا حال پوچھتے ہیں۔

اکثر یہ بھی دیکھاگیا ہے کہ لوگوں کی خیریت معلوم کرنے کا خیال لوگوں کوآتا ہی اس وقت ہے جب کسی بات کی کھوج لگانی ہو۔ کسی کے گھر سے ایسی کوئی اڑتی پڑتی خبر سننے کوملے جس میں ہماری گہری دلچسپی ہو اور ہم اس میں مزید اضافہ کرناچاہیں۔

ایسے افراد کی خدمت میں عرض ہے کہ خیریت معلوم کرنے اور کھوج میں لگے رہنے میں زمین آسمان کافرق ہے۔ حال چال جاننے کا اخلاقی اصول یہ ہے کہ اگر کوئی پریشان صورت اور متفکر دکھائی دے تو اخلاق کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک بار ضرور پوچھیں کہ وہ کیوں پریشان ہے؟ لیکن اگر وہ ٹال جائے یا اپنے پریشان ہونے سے انکار کرے توسمجھ لیں کہ وہ اپنی پریشانی کی وجہ آپ سے شیئر نہیں کرناچاہتا،خواہ اس کا سبب آپ کا پچھلا ریکارڈ ہو۔ ہوسکتا ہے ماضی میں اس نے آپ کے ساتھ کوئی پریشانی شیئرکی ہو اور آپ نے اس کا ڈنکا پورے خاندان میں بجا دیا ہو، اس لیے وہ آپ سے مزید کچھ شیئر کرنے سے گریز کررہا ہو۔ ایسے میں اس کی جان کے پیچھے نہ پڑجائیں، ایک بار پوچھ لینے کے بعد خاموشی اختیار کرلیں۔ ایک بار بھی نہ پوچھنا بداخلاقی ہے اور ہزار بار بتانے سے انکار پرمزیدہزار بار پوچھے جانابدتمیزی ہے۔

خیریت پوچھنے کا ایک طریقہ ہمیں حال ہی میں دیکھنے میں آیا جب ایک خاتون نے دوسری خاتون کوفون کرکے صرف اپنی رام کہانی سناکے فون رکھدیا۔گفتگو کچھ یوں تھی’’ ارے منیزہ کیسی ہو،میں نے کہا میں ہی فون کرکے خیریت معلوم کرلوں، تم تو ٹھہریں مصروف ، فون کی فرصت کہاں ! بھئی فرصت تو مجھے بھی نہیں ملتی تمہارے بھائی تو گھرپہ ہوتے نہیں،آفس سے نوبجے رات گھر آتے ہیں توخالی پیٹ اور خالی دماغ لے کر،کوئی بات سنے بغیرپیٹ بھرتے ہیں اور سوجاتے ہیں ۔ تینوں بچے شہرکے سب سے مہنگے ترین اسکول میں پڑھتے ہیں۔ بڑے اسلولوں کے چونچلے تم کیا جانو؟ کبھی ایک بچے کا فنکشن کبھی دوسرے کا؟؟ ڈریس ، کبھی چیریٹی پارٹی، پھر میرا اتنا بڑا گھر ، اسے نکمی ماسیوں کے ذریعے سنبھالنا بھی آسان کام نہیں۔ اتنی مہنگی مہنگی چیزیں ہرکمرے میں رکھی ہیں کہ ڈسٹنگ کے وقت ماسی کے پیچھے پھرتا پڑتا ہے۔ چوری کرگئی توکتنا نقصان ہوجائے، پھر پچھلے ہفتے میں بیمار بھی تھی ڈسٹ الرجی ہوگئی تھی۔ تم جانتی ہو میں صرف شہر کے سب سے مشہور اسپیشلسٹ کودکھاتی ہوںوہاں بارہ بارہ گھنٹے لوگ انتظار کرتے ہیں۔ پھر میری دوست لان کی سیل پر کھینچ لے گئی۔ میرے میاں کے پاس بے حساب پیسہ سہی لیکن ایک سلیقہ مند بیوی کاکام ہے اس پیسے کوبچانا۔ اسی لیے سیل سے لان لے کر آئی، پورے پندرہ فیصد آف تھا، بارہ جوڑے لائی ہوں، تم آنا تودکھاوں گی۔ ارے آنے سے یاد آیا، پرسوں میری نند آئیں ملنے آئی اور گرپڑیں گیلے فرش پر، لوجی گرنا تھا تو اپنے گھر میں گرتیں، سوچ توان کی پہلے ہی گری ہوئی تھی، اب خود بھی گرپڑیں۔ میرے شوہر نے تو میری شامت ہی بلادی۔ حالانکہ سارا قصور میری نند کاتھا ۔ ارے گڑیا رورہی ہے ، چلو میں چلتی ہوں اور کبھی تم بھی خیریت پوچھنے کافون کرلیاکرو، ہمیشہ میں ہی کرتی ہوں۔‘‘

نصف سے زیادہ سے مزید