• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا کمر درد کی اصل وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

دنیا بھر میں کروڑوں افراد دائمی کمر درد کا شکار ہیں اور ایک نئی طبی تحقیق نے اس مسئلے کو وٹامن ڈی کی کمی سے جوڑ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جسم میں وٹامن ڈی کی کم سطح ناصرف ہڈیوں اور پٹھوں کو کمزور کرتی ہے بلکہ کمر درد کی شدت میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

طبی جریدے ’کیوریئس جرنل آف میڈیکل سائنسز‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن افراد میں وٹامن ڈی کی شدید کمی پائی گئی، اُن میں کمر کے نچلے حصے میں درد کی شدت زیادہ دیکھی گئی۔

تحقیق کے دوران ایسے بالغ مریضوں کا جائزہ لیا گیا جو 12 ہفتوں سے زائد عرصے سے کمر درد میں مبتلا تھے، نتائج کے مطابق وٹامن ڈی کی کم مقدار رکھنے والے افراد روزمرہ کاموں میں زیادہ مشکلات اور جسمانی معذوری کا سامنا کر رہے تھے۔

وٹامن ڈی کیوں ضروری ہے؟

ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی، پٹھوں کی کارکردگی اور جسم میں دیگر غذائی اجزاء کے جذب کے لیے انتہائی اہم ہے، اس کی کمی جسمانی درد، کمزوری اور تھکن کا باعث بن سکتی ہے۔

وٹامن ڈی کی کمی کی علامات

مسلسل تھکن یا کمزوری، پٹھوں میں درد یا اکڑاؤ، جوڑوں اور ہڈیوں میں درد اور بغیر واضح وجہ کے کمر کے نچلے حصے میں درد رہنا۔

کن افراد کو زیادہ خطرہ ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق زیادہ عمر، غذائی عدم توازن رکھنے والے افراد، گہرے رنگت والے افراد جن میں سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی بننے کی رفتار کم ہوتی ہے، دھوپ میں کم وقت گزارنے اور دفتری یا اندرونی ماحول میں کام کرنے والے افراد کو وٹامن ڈی کی کمی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

وٹامن ڈی کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے؟

ماہرین روزانہ مناسب دھوپ لینے، مچھلی، انڈے اور فورٹیفائیڈ دودھ جیسی غذاؤں کے استعمال اور ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس لینے کی تجویز دیتے ہیں۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟

اگر کمر درد طویل عرصے تک برقرار رہے یا تھکن اور پٹھوں کی کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوں تو خون کا ٹیسٹ کروا کر وٹامن ڈی کی سطح چیک کروانا ضروری ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے مگر بروقت تشخیص اور احتیاطی اقدامات سے دائمی کمر درد کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید