امریکا کے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کی جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف ہے۔
ایران جنگ پر امریکی وزیر جنگ اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے میڈیا کو بریفنگ دی۔
امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ آپریشن کا مقصد فیصلہ کُن کارروائی کرنا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ ایران جنگ میں ہلاک امریکی فوجیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کو ممکنہ طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران میں 7 ہزار فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، ایران کی 11 آبدوزوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایران کے ریڈار اور دفاعی سسٹم کو تباہ کردیا ہے۔ ایرانی نیوی کے 120 جہازوں کو تباہ کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ عہدیداروں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ایران جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح وقت نہیں بتا سکتے۔
سیکریٹری وار نے کہا کہ ایرانی حکومت ملک میں انٹرنیٹ کی رسائی روکنے کی کوشش کر رہی ہے، ایرانی حکومت کی اس کوشش کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں مشرق وسطیٰ میں ہماری موجودگی قومی سلامتی کی بنیاد پر ہوگی، ایران جنگ اخراجات کے لیے پینٹاگون کانگریس سے مطالبہ کرے گا۔
اس موقع پر چیئرمین جوائنٹس چیفس جنرل ڈی کین کا کہنا تھا کہ روزانہ ایران کو زیادہ طاقت سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایران کی بارودی سرنگوں کے ذخائر کو تلاش کر کے ختم کرتے رہیں گے۔
جنرل ڈین کین نے کہا کہ عراق میں بھی ایران حمایتی ملیشیا کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ایران پر حملوں میں زیادہ گہرائی میں جانے والے بموں کا استعمال کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں بڑا جنگی آپریشن جاری رکھیں گے، ایران کے پاس اب بھی میزائل صلاحیت موجود ہے۔