آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مصائب اور تھے پر جی کا جانا، عجب ایک حادثہ سا ہو گیا ہے۔ کورونا کی وبا دنیا بھر میں پھیل گئی ہے ۔ چین میں اس بلا کی ابتدائی نمود ہوئی تھی، چین کا قصہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ سدِ سکندری کے حصار میں ہیں۔ کسی خبر کی معروضی تصدیق یا تردید ممکن نہیں۔ سرکار جو کہہ دے، وہی شہر ممنوعہ سے خبر ہے اور وہی پتھر پر کندہ حقیقت۔ پھر اٹلی سے روح فرسا خبریں آئیں۔ نہ گور ہے نہ کفن ہے، نہ رونے والے ہیں۔ ایک ہی عرض البلد پر اٹلی کے مغرب میں اسپین واقع ہے۔ وہاں سے بھی تابوت اٹھنے لگے۔ جنوبی یورپ میں اٹلی اور اسپین کی معیشت تو بوجوہ کسی قدر کمزور ہے۔ وبا کٹیا اور حویلی میں فرق نہیں کرتی۔ سو فرانس اور برطانیہ بھی محفوظ نہ رہے۔ خود ہمارے ہمسائے میں ایران کی بدھیا بیٹھ گئی۔ ایران کے بدنصیب باشندوں کی ابتلا ختم نہیں ہوتی۔ انقلاب، جنگ، عمامہ پوش جتھے کی زور آوری اور پھر عالمی پابندیاں۔ مانی اور بہزاد کے نقش و نگار زریں پر دیمک نے گھر بنا لیا ہے۔ سرزمین حرمین شریفین پر ابھی داروگیر کی ہوا چل رہی تھی کہ وبا نے وہاں بھی چھاؤنی ڈال دی۔ عبادت گاہیں بند، نئے شہروں کی تعمیر معطل اور آمد و رفت مسدود۔ بھارت ابھی ہندوتوا کے بھونچال سے جونجھ رہا تھا کہ کورونا کا راکھشس آن براجا۔ سازش کا جوشاندہ بیچنے والے سنیاسیوں نے ابھی چین اور امریکہ میں تجارتی کشمکش کی تان ہی اٹھانا چاہی تھی کہ امریکہ سے خبر آ گئی کہ وہاں کورونا کے معلوم مریضوں کی تعداد اٹلی اورا سپین حتیٰ کہ چین سے بھی بڑھ گئی۔ دنیا بھر میں 25ہزار انسان فنا کے گھاٹ اتر گئے ہیں۔ ساڑھے پانچ لاکھ بندگانِ خاکی رکتی ڈوبتی سانس کی تیغِ بے اماں کی زد میں ہیں۔ سو عزیزانِ من، ہم تاریخ کے عہدِ وبا میں ہیں اور سانس روکے لوحِ اجل پر دم بدم نمودار ہوتے نام پڑھ رہے ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ خبروں کی لین ڈوری میں نام غائب ہو جائیں گے، اعداد باقی رہ جائیں گے۔ اعداد کا المیہ یہ ہے کہ ان میں شناسائی کی جھلک نہیں ہوتی۔ اس کا چہرہ، اس کے خدوخال یاد آتے نہیں۔ دکھ کی کاٹ مدہم ہو جاتی ہے۔ مرگِ ناگہانی کی کسک باقی نہیں رہتی، اسٹاک ایکسچینج کی جلتی بجھتی اسکرین پر حصص کا بھاؤ بدلتا رہتا ہے، زندگی مہنگی ہو جاتی ہے اور موت سستی۔ موت کی اس ارزانی میں ہمارے دیس کا کیا پوچھتے ہو، وہی جو میرؔ نے کہا تھا، ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے؍ ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے۔

اگر آپ اجازت دیں تو میں دو بھلے آدمیوں کو یاد کر لوں۔ ہم واماندگانِ غبارِ رہ کے پاس پچھلے پڑاؤ کی یاد کے سوا بچا بھی کیا ہے۔ ایک تو تھے ہمارے احمد بشیر۔ بے پناہ شخص تھا، سوچ میں ساونت، آزمائش میں کھرا۔ زندگی برتنے کا سلیقہ جانتا تھا۔ رسمی علوم میں جہاں رخنے تھے، ان پر بلند آہنگ لہجے کی چادر ڈال لیتا تھا۔ ایک بات کہتا تھا، جنگ اور قحط سے بچو۔ جنگ اور قحط انسانوں کو اندر سے بدل دیتے ہیں۔ ٹھیک کہتا تھا۔ جنگ اور قحط جنگل کا ورثہ ہیں۔ تہذیب کا لبادہ اتر جاتا ہے، بقا کے گرسنہ درندے کے نوکیلے دانت نمودار ہو جاتے ہیں۔ احمد بشیر نے دوسری عالمی جنگ دیکھی، بنگال کا قحط دیکھا۔ بٹوارے کی لہو آشام قیامت دیکھی۔ احمد بشیر جنگ اور قحط کے بارے میں کتابی بات نہیں کہتا تھا۔ احمد بشیر 1923 میں پنجاب کے قصبے ایمن آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ٹھیک دس برس بعد 1933 میں برصغیر کے دوسرے کونے پر بنگال میں امرتیو سین پیدا ہوا۔ معاشیات میں نوبیل انعام جیتنے والا عالی دماغ، جس نے معیشت، سیاست اور انصاف کے تین دھاروں میں باہم تعلق دریافت کیا ہے۔ امرتیو سین کی تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ قحط اناج کی کمی سے جنم نہیں لیتا، اناج کا بندوبست کرنے والی حکومت کی کوتاہی، غفلت اور نااہلی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ علم والے لوگ اپنی تحقیق اور رائے کا دائرہ سوچ سمجھ کر متعین کرتے ہیں۔ غرض یہ ہوتی ہے کہ نتائج شواہد سے ہٹ کر قیاس کے منطقے میں نہ بھٹک جائیں۔ کالم نگار کو کسی قدر زیادہ جگہ میسر آتی ہے۔ اس کے لیے تو ایک خیال کا دامن تھام کے کشاں کشاں پاکوبی کرنا مقسوم ٹھہرا ہے۔ درویش کہتا ہے کہ قحط کی طرح جنگ بھی علانیہ مقاصد کی پاک دامن رستاخیز نہیں ہوتی۔ تجارتی مفادات کا علم دریاؤ ہے، نم کہیں اور کا ہو، آنکھ کہیں جا کے بہے۔ قحط ہی کی طرح جنگ بھی جنگل کا ورثہ ہے۔ انسان کی آنکھ تعصب کی کوتاہ سرنگ سے باہر نکلے گی تو غلامی اور نسل پرستی کی طرح جنگ بھی ایک اجتماعی جرم قرار پائے گی۔ وبا کا قصہ البتہ مختلف ہے۔ وبا وہ بلائے بے اماں ہے جو بغیر بتائے حملہ آور ہوتی ہے اور تاریخ کا رخ پلٹ دیتی ہے۔ قحط اور جنگ ہی کی طرح وبا سے نمٹنے کے لیے بھی مستعد حکومتی بندوبست، مستحکم سیاسی نظام اور عوام کی زندگیوں سے سروکار رکھنے والی ریاست کی ضرورت پڑتی ہے۔ پانچ کھرب ڈالر کی عالمی امداد کی خبر پا کر بہت سی باراں دیدہ آنکھوں میں چمک آئی ہے۔ خیر، آلام کی دہائی دے کر دریوزہ گری کی روایت ہمارے لیے نئی نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بسنے والے 22 کروڑ افتادگانِ خاک کو مٹھی بھر گروہ نے پنجہ جبروت میں جکڑ رکھا ہے۔ عوام حکمران نہیں تو ان کے بہتر معیارِ زندگی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ وبا کی پہلی اطلاع ملتے ہی معلوم ہو گیا کہ صحتِ عامہ کا نظام اس ممکنہ افتاد کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ سیاسی بندوبست کے تار و پود اس قدر مستحکم ہیں کہ حزبِ اختلاف حکومت موہومہ کی دعوت پر شرح صدر سے مکالمہ کرنے آئی لیکن حکومت کا سربراہ اپنا خطبہ ارزاں کر کے چلتا بنا۔ یہ رہی مشاورت اور یہ رہا قومی اتفاقِ رائے۔ انتظامیہ وبا کی روک تھام کے لیے احکامات جاری کرتی ہے تو مذہبی پیشوا ایسی مین میخ نکالتے ہیں گویا قوتِ نافذہ حکومت کا اختیار نہیں، ان کے عمامے کی شکن میں غلطاں ہے۔ کورونا کی وبا تو شاید اپریل کے اواخر تک اپنا زور دکھا کر قابو کر لی جائے، ہماری ریاست کا راج روگ پہلے سے چلا آرہا ہے اور اس کے لیے ہنگامی اقدامات کی نہیں، بنیادی ترجیحات کو ازسرنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین