آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دنیا بھر میں خوف، مختلف مذاہب کے لوگوں کا مذہب کی جانب رجحان بڑھ گیا

راچڈیل (ہارون مرزا)کورونا وائرس نے جہاں دنیا بھر کے ممالک کو خوف اور دہشت کا شکار کر رکھا ہے وہاں مختلف مذاہب کے لوگوںکا مذہب کی جانب رجحاب بڑھ گیا ہے اور وہ خدا کے حضور جھک کر اس بیماری سے نجات کیلئے دعا کرتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں جبکہ دنیا کے وہ شہر جہاں رش کی وجہ سے گزرنا محال ہوتا تھا ویران اور سنسان پڑے ہوئے ہیں۔ اس وائرس نے ایک گھر کے افراد میں بھی دوریاں پیدا کر دی ہیں اور ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جن میں کسی مذہب کی تفریق کے بغیر سبھی سجدہ ریز ہو کر رو رو کر خدا سے عافیت کی دعا مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں ان ممالک میںا سپین ‘ اٹلی‘ امریکہ ‘ نیوزی لینڈ ‘ برطانیہ ‘ فرانس ‘ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک شامل ہیں جہاں لوگ سڑکوں پر ہی خدا کے حضور سجدہ ریز ہو کر اس خطرناک وائرس سے نجات کی دعا مانگ رہے ہیں جس کی ابھی تک نہ کوئی دوا تیار کی گئی ہے اور نہ ہی اس سے محفوظ رہنے کا کوئی موثر طریقہ ہے۔ لوگ خدا کے حضور جھک کر زارو قطار روتے ہوئے زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں خداو ند کریم نے نبی کریم ﷺ کو صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پورے عالم کے لیے رحمت العالمین پکارا ہے نبی ﷺکے صدقے اس مرض سے بچنے کیلئے رقت آمیز مناظر نے ایک ایسی ہیجانی کیفیت پیدا کر دی ہے جسے دیکھ کر ہر شخص کے ہاتھ خدا کے حضور بلند ہو جاتے ہیں۔ برطانیہ جہاں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد تقریبا بیس لاکھ اور مسلمانوں کی تعداد 10ملین سے زائد بیان کی جاتی ہے اور وہ سیلف آئسولیشن میں نماز اور قرآن پاک پڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ایٹمی ممالک جو انسانیت کی تباہی کیلئے نت نئے تجربات کرنے میں مصروف تھے اب انسانیت کو بچانے کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں کہ کس طرح کورونا وائرس جیسے خطرناک وائر س سے انسانیت کو بچایا جا سکتا ہے مذکورہ وائرس جس طرح تیزی کے ساتھ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے اسی طرح پھیلتا رہا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کی وسیع آبادی صفحہ ہستی سے نہ مٹ جائے اور جس انداز سے کورونا وائرس سے ہلاک ہونیوالے افراد کی تدفین اپنے اپنے مذاہب کے طریقوں سے اجتماعی طور پر کی جا رہی ہے اسے دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہو رہی ہے ۔

یورپ سے سے مزید