آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانیہ: 5 منٹ میں کورونا ٹیسٹ کرنے کا طریقہ کار سامنے آگیا

ایک میڈیکل ریسرچر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کووڈ 19 کے ٹیسٹ کا ایسا طریقہ کار دریافت کیا ہے جو صرف پانچ منٹ میں ہی نتیجہ سامنے لے آئے گا۔

پوری دنیا میں مہلک کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے ساتھ ساتھ سائنسدان اس کشمکش میں لگے ہوئے ہیں کہ انہیں جلد از جلد اس وائرس کا علاج مل جائے۔

علاوہ ازیں سائنسدانوں کو کورونا وائرس کے ٹیسٹ سے متعلق بھی مسائل کا سامنا ہے، کیونکہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہ صرف مہنگا بلکہ ٹیسٹ کٹس کا ملنا بھی دنیا کے مختلف ممالک کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

برطانوی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ سے تعلق رکھنے والے محققین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کے لیے سستا اور آسان طریقہ ڈھونڈ لیا۔

پروفیسر منیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے کورونا وائرس کا پتہ لگانے کے لیے ایک انوکھتا طریقہ کار دریافت کیا ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کی مدد سے صرف 2 پاؤنڈ (412 پاکستانی روپے) فی کٹ میں یہ ٹسٹ کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے ٹیسٹ کے نتیجے کے لیے تقریباً 48 گھنٹوں سے بھی زائد کا انتطار کرنا پڑتا ہے تاہم اب ایسا نہیں ہے۔

پروفیسر منیش سنگھ کا کہنا تھا کہ ان کے طریقہ کار سے صرف پانچ منٹ میں ہی کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔

محقق کا کہنا تھا کہ وہ اس ٹیسٹ کے لیے مائیکرو اسپیکٹرو اسکوپی کا استعمال کر رہے ہیں، یہ ٹیکنالوجی عموماً کمیائی مشاہدے میں ذرات کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی کمپنی ایبٹ لیبارٹریز نے بھی ان سے یہ ٹیسٹ کٹس منگوائی ہیں جبکہ اس کی شپمنٹ جلد شروع ہوجائے گی۔

منیش سنگھ کے اس طریقہ کار کے مطابق پہلے ایک متاثرہ شخص کے منہ سے لعاب کا سیمپل لیا جائے گا، پھر اسے لیبارٹری میں لے جا کر اس میں سے لیبارٹری ڈائمنڈ کے ذریعے انفرا لائٹ گزاری جائے گی۔

یہ لائٹ ایسی ویوز بنائیں گی جو اس سیمپل میں سرائیت کر جائیں گی جو فنگرپرنٹ جیسا ایک منفرد اسپیکٹرم بنائیں گی جس میں کورونا وائرس سے متعلق معلوم ہوجائے کہ اس سیمپل میں یہ منفی ہے یا مثبت ہے۔ 

خاص رپورٹ سے مزید